اتوار - 2 اکتوبر - 2022

اسلام آباد:پولیس اہلکار،عوام کے محاٖفظ یا ڈاکووں کے سردار۔۔؟ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈکیتی کی لرزہ خیز واردارت، ایک ڈاکو سمیت تین شہری جان بحق،۔ہلاک ہونے والا ڈاکو اسلام آباد پولیس کا ہی اہلکار نکلا

( بیورو چیف اسلام آباد ولید بن مشتاق)
پولیس اہلکار،عوام کے محاٖفظ یا ڈاکووں کے سردار۔۔؟ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈکیتی کی لرزہ خیز واردارت، ایک ڈاکو سمیت تین شہری جان بحق،۔ہلاک ہونے والا ڈاکو اسلام آباد پولیس کا ہی اہلکار نکلا ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پولیس اہلکار ڈکیتیوں میں ملوث نکلے ۔ اسلام آباد کے سیکٹرآئی ایٹ میں ڈاکووں نے نجی بینک سے نکلنے والے شہری کو لوٹنے کی کوشش کی ۔ شہری کی جانب سے مزاحمت کرنے پر ڈاکووں نے فائرن کھول دیا جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا ۔ ڈاکووں نے موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی اور اسی اثنا؍ میں اسلحہ کی نوک پر سڑک سے آتی گاڑی کو روکا۔ شہری کی جانب سے گاڑی نہ روکنے پر ڈاکو مشتعل ہو گئے اور ایک بار پھر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں دو شہری جاں بحق ہو گئے ۔ سیکیورٹی اداروں کی کراس فائرنگ میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اسکے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی شناخت اسامہ اور عامر کے نام سے ہوئی ہے جو نجی ہسپتال الشفا انٹرنیشنل کے ملازم تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والا ڈاکو بھی پولیس اہلکار نکلا ۔ذرائع کے مطابق حادثہ میں ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت اشرف کے نام سے ہوئی ۔ اشرف اسلام آباد پولیس کا حاضر سروس اہلکار تھا ۔ ذرائع کے مطابق اشرف نوکری کے بعد ڈکیتی کی وارداتیں کرتا تھا۔موقع سے فرار ہونے والےاشرف کے ساتھیوں کے بارے بھی گمان کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی پولیس اہلکار ہیں ۔ڈکیتی کی لرزہ خیز وارادت پر آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو فوری تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں ۔ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ ڈکیت گروہ میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شبہ پر مکمل تحقیقات کی جائیں اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں اگر کوئی دیگر پولیس اہلکار واردات میں شامل ہے تو ان کی نشاندہی کرکے فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔پولیس نے فرار ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔تاہم ڈکیتی میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ملک کے دیگر حصوں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی رپورٹس آ چکی ہیں تاہم ابھی تک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس پر کوئی مثبت کارروائی یا کھوج نہیں لگائی گئی ۔

مزید تفصیلات اس ویڈیو میں

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔