اتوار - 2 اکتوبر - 2022
dwdurdu coulmn

انسانیت کی خدمت کی یاددلاتی ایک خوبصورت تحریر راجہ فاروق حیدر(ہالینڈ) کے قلم سے

(کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد میں 5سال سے کم اور 50سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے)

اِس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے۔یہ وائرس 185ممالک میں پھیل چکا ہے جبکہ 2لاکھ اسی ہزار سے زائد افرادکورونا وائرس کے مریض ہو چکے ہیں۔13ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ہلاک ہونیوالے افراد میں 5سال سے کم اور 50سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔پوری دنیا خوف و ہراس اور ڈپریشن کا شکار ہے۔یورپ میں بھی روز بروز ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اٹلی میں قیامت صغریٰ برپا ہے۔روزانہ سینکڑوں لوگوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
نیدرلینڈ میں اِس وقت سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 8603ہو چکی ہے اور 546افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔نیدرلینڈ کے علاقے برابانت میں خوف و ہراس شدت اختیار کر چکا ہے۔وہاں اب تک 2288افراد کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔نیدرلینڈ میں سڑکیں ویران ہیں۔یہاں کے باسی حکومتیں احکامات پر عمل کر کے گھروں میں وقت گزار رہے ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی لوگ کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔آج کے کالم میں مجھے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی چند گزارشات کرنا ہیں۔وہ یہ کہ اِس موذی وائرس کی وجہ سے پاکستان میں جو روزانہ دیہاڑی لگا کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔اُن کے گھر بیٹھنے سے یقیناً اُن کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے۔اُن کا چولہا نہیں جل رہا ہو گا۔خدارا آپ لوگ اُن لوگوں کا بھی خیال رکھیں۔حکومت پاکستان نے 3 ہزار روپے ماہانہ امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اِس پر آشوب مہنگائی کے دور میں اتنی قلیل رقم سے ایک فیملی کا گزارہ ناممکن ہے۔میرے لئے یہ بات بہت اطمینان کا باعث ہے۔میرے آبائی شہر ڈنگہ ضلع گجرات کے چند دوستوں میڈیا پرسن نوید شہزاد مغل،سابق ناظم محمدحبیب بسوی،صدر کیئر ویلفیئر سوسائٹی ڈنگہ ملک نوید احمداعوان،میڈیا پرسن خالد مغل،بزنس مین حاجی عرفان بسوی،اوورسیز شخصیت مبین حیدرشیرازی،صدر پریس کلب ڈنگہ حکیم عبدالجبار،سماجی شخصیت شاذف مغل،سماجی وکاروباری شخصیت بشارت علی طاہر،میڈیا پرسن ملک،مصنف شیراز ودیگر نے اینٹی کورونا ہیلپ ڈیسک ڈنگہ کے نام سے واٹس ایپ پر گروپ تشکیل دے کر تقریباً 65لاکھ کے عطیات جمع کئے جبکہ اُن کا ہدف ایک کروڑ روپے ہے۔میں اُس واٹس ایپ گروپ میں شامل تھا میں اُن کی شب و روز محنت کا مشاہدہ کر رہا تھا قابلِ تحسین ہیں ایسے لوگ جو اپنے قیمتی وقت سے وقت نکال کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔میں نے اِس گروپ میں ایک اور جو خوبی دیکھی وہ یہ تھی کہ کسی سیاسی پارٹی کی چھاپ نہیں تھی بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں،تمام مکاتب فکر کے لوگوں اور ڈنگہ کے گردونواح کے اوورسیز پاکستانیوں نے دِل کھول کر عطیات دیئے اور یہ سلسلہ اب تک بدستورجاری و ساری ہے۔’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی‘۔
بلاشبہ ہم ایک عظیم قوم ہیں میں نے اپنے لوگوں میں سنہ 1965ء والی جنگ کا جذبہ دیکھا ہے۔میں نے 65کی جنگ کے دوران ٹیڈی پیسے ٹینک خریدنے والی فنڈ ریزنگ بھی دیکھی۔وہ بھی کمال کا جذبہ تھا۔اُن دنوں اِس قدر پیسے کا دور نہیں تھا۔ہمارے شہر ڈنگہ سے جب 10ہزار کی رقم جمع ہوئی تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں تھی۔میں اینٹی کرونا ہیلپ ڈنگہ کو یہ کار خیر انجام دینے پر دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دیگر پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اِس مصیبت کی گھڑی میں مفلوک الحال برادری کی مدد کریں۔
کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اِس بات میں رتی بھر شک کی گنجائش نہیں کہ تمام حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور ساری سلطنت اُسی کی ہے۔عالمی طاقتوں کو کشمیر،فلسطین کے علاوہ جہاں کہیں بھی ظلم کا بازار گرم ہے،اِس کا نوٹس لینا ہو گا۔مقبوضہ کشمیر میں عرصہ دراز سے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں اور عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے تمام انسانیت پر رحم کرے اور موجودہ وائرس کورونا سے نجات دلائے۔آمین
٭٭٭

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔