جمعرات - 2 فروری - 2023
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا.تحریر : حافظ محمد قمررضا - مدینہ المنورہ

"انصاف ہی حیات ہے”تحریر : حافظ قمر رضا مدینہ منورہ

سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ وسلام اللہ علیہ کی ذات بابر کات ہر قسم کے غلو و نقص سے پاک و منزاء ہے

انصاف ہی حیات ہے

موجودہ حالات کے پیش نظر کئ دن لگے مطلع صاف ہونے میں اور اس پیچیدہ معاملے کی گتھی سلجھنے میں، اس دوران حالت اضطراری کے ساتھ کبھی سید الشھداء شریف کی بارگاہ میں حاضری تو کبھی حرم نبوی شریف میں صلوة و سلام کی سعادت حاصل رہی کہ مسئلہ ایمان کا ہے اس لئے اے رب درست فیصلے کی توفیق و ہمت عطا ہو دراصل معاملہ جتنا پیچیدہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس پر غور و فکر بھی اتنا ہی سنجیدہ اور لازم بن جاتا ہے اور پھر خاص طور پر معاملہ بھی جب اھلبیت اطہار رضوان اللہ علیھم اجمعین یا اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات بابرکات کا ہو تو مسئلہ ایمان و عقیدے کا بن کر ٹھر جاتا ہے جس میں ذرا سی لغزش انسان کی عمر بھر کی کمائی کو ضائع کر دینے کیلئے کافی ہوتی ہے اور بیشک اللہ عزوجل کا حکم بھی سورة التوبة ايت نمبر 119 میں یہی ہے کہ اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاو سو ہمیں غور کرنا ہو گا کہ بعض چیزیں جیسی نظر آتی ہے وہ ویسی ہوتی نہیں بلکہ ان چیزوں کو ان کی اصل سے بدل کر پیش کیا گیا ہوتا ہے جسے جانچنے کیلئے ہم تحقیق و تلاش کی راہ کا اختیار کرتے ہیں اور سچ بات تک پہنچنے میں لگ جاتے ہیں تاکہ حقیقی معنوں میں سچوں کے ساتھ ہونے کی توفیق حاصل ہو
جیسا کہ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ حالات حاضرہ میں جماعت اہلسنت کے ایک جید عالم دین اور نظریاتی سرحدوں کے عظیم محافظ الحاج حافظ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب پر یسین قادری نامی شخص نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے اماں سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی شان اقدس میں لفظ خطاء کے ساتھ گستاخی کی ہے، اور ساتھ میں ایک ویڈیو تقریر کا کٹا ہوا ٹکڑا بھی عوام کو دکھایا، جس کے ساتھ ہی جب یہ معاملہ رات و رات جنگل میں آگ کی طرح پھیلا تو عامة الناس کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی بے چینی و بے قراری کی کیفیات پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں اغیار کے ساتھ ساتھ احباب بھی طالب جواب نظر آئے۔ اور مختلف قسم کے افسوس و ملامت کا اظہار تحریری و تقریری انداز میں کرتے ہوئے جلد بازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔
لہذا معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فورا اس جملے کی جو وضاحت پیش کی گئ وہ درج ذیل ہے۔
نمبر1)- یہ جملہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ وارضاہ کی شان اقدس کے تحفظ کیلئے روافض کے الزامات کے بعد جوابی تھا جس کی عام حالات میں بالکل بھی اجازت نہیں۔
نمبر2)- اس جملے میں بھی خطا سے مراد خطائے اجتہادی ہے کیونکہ میراث و وراثت ایک شرعی معاملہ ہے اور اس کے مطالبے میں کسی قسم کے حقائق کی عدم موجودگی کی وجہ سے عام فہمی کو بھی خطائے اجتہادی سے ہی تعبیر کرنا عام ہے۔ اور یہ لفظ خطائے اجتہادی ہی کی نیت سے تھے۔
نمبر3)- اس جملے میں کہیں بھی سیدہ اماں طیبة طاهرة فاطمة الزهرة سلام اللہ علیہا کی ذات گرام کی شان میں کوئی نقص بیان کرنا ہرگز مقصود و مطلوب نہ تھا، بلکہ ایسا سوچنے یا سمجھنے سے پہلے ہی ہمیں موت آ جائے۔
نمبر4)- اگر عامة الناس یا خواص یہاں لفظ خطا سے مراد عمومی خطا کار یعنی (گناہگار) سمجھیں ہیں تو انہیں اس موضوع پر بحث کرنے کا ہی کوئی حق نہیں اور نہ ہی کوئی ان الفاظ کو ایسے معنی میں کبھی استعمال کرے۔
نمبر5)- عوام الناس کی کم علمی اور ناعاقبت اندیشی کے پیش نظر ایسے جملے یا الفاظ کو دہرانے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ اور کیا جائے گا۔

لہذا اب بندہ ناچیز کسی بھی قسم کے تبصرے سے پہلے یہاں ایک اصول بیان کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہے کہ جس شخصیت نے جو بھی جملہ بیان کیا ہو یا جو بھی عبارت لکھی ہو اس کے جملے یا عبارت کے مقصد کو اسی شخصیت کے معنی و تشریح و تفسیر کے ساتھ ہی معتبر مانا جاتا ہے کہ کہنے والا کا مقصد کیا تھا یا کیا ہے۔
کبھی بھی الزام لگانے والے شخص کی تشریحات کو ملزم کی بات کا مقصد نہیں بنایا جا سکتا۔ ورنہ یہ تو اسی طرح ہو گا کہ عمارت زید نے مسجد کیلئے بنائی لیکن زیاد نے قابض ہو کر اسے مندر یا چرچ بنا دیا۔ سو اس لئے اس جملے کو بھی حصول انصاف کی خاطر عدالتی اور شرعی طور پر اسی کی تفاسیر و تشریحات کے ساتھ سمجھنا لازم و ملزوم ہوتا ہے اگر تشریحات و معنی کے بعد بھی بات جرم کے پیرائے میں ہو تو قاضی یا جج اس کے مطابق اپنا فیصلہ سناتا ہے اور اگر بات کچھ اور تھی لیکن اسے کچھ اور بنا کر پیش کیا گیا تو ایسے معاملے میں الزام لگانے والے کے علم اور اس کے نظریات اور اس کے معاملات کی چھان بین انتہائی لازمی ہو جاتی ہے۔ کہ کہیں یہ الزام لگانے والے لوگ ہی تو اصل مجرم نہیں جو اغیار کے اشاروں پر ملت کی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہو، یا مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر منافقین اور کفار کے آلہ کار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہو اور بیشک قران مجید فرقان حمید میں رب ذوالجلال نے اس بارے بھی ہمیں راہنمائی فرمائی ہے کہ سورة الحجرات آیت نمبر 6 میں ارشاد باری تعالی ہے (اے ایمان والوں اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کسی قوم کو بے جا ایذا نہ دے دو پھر پچھتاتے رہ جاو)
لہذا یہ بات بالکل ہر ذی شعور کیلئے بالکل انتہائی سادہ اور عام فہم ہے کہ کسی بھی معاملے میں معتدلانہ انصاف کیلئے جس کی عبارت ہو گی اسی کی تشریح و تفسیر میں ہی کہنے والے کا مقصد دیکھا جائے گا۔ اور بیشک عدالت و قاضی اپنے فیصلے ظاہر پر ہی کرنے کے پابند ہیں باطن خدانخواستہ کسی کا کیسا بھی ہو اس پر کوئی بھی کلام کرنے کا حق نہیں رکھتا باقی ہر صاحب علم شخص کیلئے لازم ہے کہ عبارت کو صاحب عبارت کی ہی تشریحات و معنی کے ساتھ سمجھ کر کلام کرے تاکہ حق و سچ کا ساتھ دینے میں آسانی ہو ورنہ منافقین و غدار لوگ کبھی مسلمانوں کو حق کی راہ میں کامیاب نہ ہونے دیں گے البتہ اس سارے معاملے کا رات و رات شرق و غرب میں پھیل جانا بھی اپنے آپ میں ایک سوال ہے کہ یہ کسی فرد واحد کا کام نہیں ہو سکتا اور پھر رات و رات ہی ایک عالم دین کے خلاف حکومتی اسمبلیوں میں مذمت کی قرار دادوں کے مسودے بھی تیار ہو جانا اور بنا کسی سوال و جواب یا وضاحت کے مذمتی قراردادیں منظور بھی ہو جانا یہ خود اپنے آپ میں ایک پراسرار صورتحال کی عکاسی کرتا ہے کہ جیسے سب کچھ پہلے سے ہی پلان شدہ ایک طریقے پر عمل کیا جا رہا ہو جب کہ اتنے وزیر مشیر یا ادارے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی پر آج تک خود ایکشن نہ لے سکے لیکن آج ایکدم ان کی غیرت کا مظاہرہ خود ایک سوالیہ نشان ہے کہ ہمارے یہ سود و شراب کا کاروبار کرنے والے کردار و لباس سے عاری بعض سیاسی لوگ کیا دین و عقیدے کے معاملے میں اتنے ہی غیرت مند اور چوکنے رہتے ہیں کہ ایک طرف آسیہ مسیح شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کر کے بھی عدالتوں سے چھوٹ جاتی ہے لیکن کوئی قرار داد نہیں آتی لیکن یہاں ایک اہلسنت عالم دین کے خلاف ایک ہی رات میں مسودے بھی تیار ہو جاتے ہیں اور مذمتی قرار دادیں بھی منظور ہو جاتی ہیں۔ ہمیں یہاں پر رک کر تھوڑا نہیں بلکہ پورا سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف تو ملک و ملت کے خلاف کفار اپنی چالیں چل رہے ہیں اور دوسری طرف منافقین بھی بغلیں بجا رہے ہیں بلکہ کچھ بند عقلوں والے جماعت اہلسنت کے غدار جو کہ بوقت الیکشن انہی روافض و بدمذہب لوگوں کے آلہ کار بنے ہوئے تھے وہ بھی آج کل اپنی غیرت منوانے کیلئے پر تول رہے ہیں اور پھر وہ لوگ بھی جنہوں نے عقیدہ اولیت و ختم نبوت کے مسئلے میں بدترین ٹھوکر کھائی اور پھر چوری چھپے رجوع کا پیپر رکھ کر عزت بچائی ایسے داغدار لوگ بھی کفار و منافقین کے ساتھ مل کر بدلے لینے کیلئے سرگرم نظر آ رہے ہیں افسوس ہوتا ہے حالات حاضرہ کی تصویر بیان کرتے ہوئے کہ جس وقت ہماری پاک افواج ملک پاکستان کی سلامتی کیلئے بارڈر پر سینہ سپر کھڑی ہے کہ کسی وقت بھی جنگ کا اعلان ہو سکتا ہے اور جس وقت اندرونی طور پر عقائد اہلسنت اور نظریاتی حدود پر روافض و خوارج اور قادیانیوں کے کفار کی مدد سے دن رات حملے ہو رہے ہو ایسے میں ہمارے ہی کچھ لوگ ایک عظیم مرد مجاھد کو مشکوک و متنازعہ بنا کر اپنے لئے خود ہی گھڑا کھودنے میں مصروف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب پتہ چلے گا انہیں جب کوئی صاحب اختیار شخص ان پر ہاتھ ڈالے گا مگر افسوس کہ تمام منافق و غدار لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو حق کے راہی ہوتے ہیں وہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاقت سے میدان عمل میں کھڑے ہوتے ہیں اور کسی ناحق چیز پر سمجھوتہ نہیں کرتے ایسے لوگوں کو خوف ڈر یا شکست کے اندیشے سے محفوظ کر دیا گیا ہوتا ہے اور اللہ ہی ان کا حامی و ناصر ہوتا ہے جو اس کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت قبول نہیں کرتے اور سفر و حضر میں کلمہ حق بلند رکھتے ہیں لیکن افسوس کے منافقین و غدار ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں ورنہ دیکھنے والوں کیلئے تو اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ سب باطل فرقوں اور باطل نظریات کے تیروں کا رخ آخر کس طرف ہے بلاشبہ جس طرف ہے حق بھی اسی طرف ہے باقی سب سازشیں اور منافقتیں اور غداریاں ہیں اللہ عزوجل کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں سچوں کے ساتھ ہی کھڑا رکھے اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ زندگی و موت عطا فرمائے آمین ثم آمین

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔