پیر - 3 اکتوبر - 2022

اک دائمی ذہنی بیماری ڈیمنشیا کیا ہے؟

ڈیمنشیا ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتے ہوتے ختم ہوجاتی ہے۔بغیر سوچ سمجھ کے کئے گئے روز مرہ کے کام جن میں ذہن یا سوچ کا عمل دخل کم ہوچکا ہوتا ہے جانی ومالی نقصان کا باعث بننے لگتے ہیں۔

ذ ہنی بیماریوں کے سلسلے کی ایک قسم ڈمنشیا ۔جس کی  پہلی بار تعریف ایک جرمن ڈاکٹر الوا الزائمر نے 1906 میں ایک ایسی عورت کے پوسٹمارٹم کے بعد کی جو بڑی حد تک اپنی یاداشت کھو چکی تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ اس عورت کا دماغ سکڑ چکا تھا اوراس کے اعصابی خلیوں پر اور ان کے گرد نقائص پیدا ہو چکے تھے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈمنشیا کا مرض بہت کم تھا اور اس کے بارے میں تحقیق کو چند دہائیاں ہی گزری تھیں۔ لیکن آج کے زمانے میں ہر تین سیکنڈ میں کسی نہ کسی میں ڈمنشیا کی تشخیص ہو رہی ہے۔ کچھ امیر ممالک میں یہ سب سے زیادہ جان لیوا بیماری بن چکی ہے اور اس کا بالکل کوئی علاج نہیں۔

الزائمر کی بیماری (AD) ، جسے محض الزائمر بھی کہا جاتا ہے ، ایک دائمی نیوروڈیجینریٹیج بیماری ہے جو عام طور پر آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ خراب ہوتی جاتی ہے۔ یہ ڈیمینشیا کے 60-70٪ معاملات کا سبب ہے۔ سب سے عام علامت حالیہ واقعات کو یاد رکھنے میں دشواری ہے۔ جیسا کہ بیماری میں اضافہ ہوتا ہے ، علامات میں زبان ، اضطراب ، مزاج میں تبدیلی ، حوصلہ افزائی کا خاتمہ ، خود کی دیکھ بھال کا انتظام نہ کرنے اور طرز عمل کے مسائل شامل ہوسکتے ہیں۔ جب کسی شخص کی حالت زوال پذیر ہوتی ہے تو ، وہ اکثر کنبہ اور معاشرے سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ، جسمانی افعال ختم ہوجاتے ہیں ، اور آخر کار موت کا باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ ترقی کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن تشخیص کے بعد عام عمر متوقع تین سے نو سال ہے۔

ماہرین کے مطابق جوں جوں یہ بیماری شدت اختیار کرتی ہے مریض کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں اور اسے ہر وقت دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے اور ڈمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کا سالانہ خرچ ایک ٹرلین ڈالر کے قریب ہے۔

س کا جواب بہت آسان ہے۔ ہماری عمریں بڑھ رہی ہیں اور ڈمنشیا کا سب سے زیادہ رسک بڑھتی عمر کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔

اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں ڈمنشیا میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر ہم کسی فلسفی کی طرح سوچیں تو شاید یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈمنشیا وہ قیمت ہے جو ہم جان لیوا انفیکشن، کینسر اور ہارٹ اٹیک سے نمٹنے میں کامیابی کے بدلے میں ادا کر رہے ہیں۔

اقدامات

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق

اس بات کی گارنٹی تو نہیں دی جا سکتی لیکن کچھ ایسے اقدامات ضرور ہیں جن کی مدد سے آپ ڈمنشیا کا امکان کم کر سکتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہتر طرز زندگی سے ہم تین میں سے ایک کیس کم کر سکتے ہیں۔ جو تبدیلیاں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ان میں وسط عمر میں قوت سماعت میں کمی کا علاج، زیادہ دیر تک تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری رکھنا، تمباکونوشی سے اجتناب، ڈپریشن کا بروقت علاج، جسمانی طور پر متحرک رہنا، سماجی طور پر تنہائی سے بچنا، موٹاپے، بلڈ پریشر اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنا شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اقدامات کیسے دماغ کو محفوظ کرتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ڈمنشیا کو روکتے ہیں یا پھر دماغ کو ڈمنشیا سے نمٹنے کے لیے تیار کرتے ہیں مثلاً خلیوں کے درمیان بہتر روابط پیدا کرتے ہیں اور دماغی نظام کو اتنا لچکدار بناتے ہیں ہیں کہ جب نیورونز مرنا شروع ہوں تو اس عمل کا مقابلہ کیا جا سکے۔پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی صحت بہت اچھی ہے اور وہ اپنا خیال رکھتے ہیں الزائمر کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔

کیا امید کی کوئی کرن ہے؟

منشیا کے بارے میں تحقیق پر اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔ اس کا موازنہ ایڈز کی بیماری سے کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں 1980 کی دہائی میں سمجھا جاتا تھا کہ اس سے موت لازمی ہے لیکن اب لوگ اینٹی وائرل ادویات کی مدد سے تقریباً معمول کی زندگی گزار لیتے ہیں۔

پروفیسر سپائرز جونز کا کہنا ہے کہ کینسر سے ہم نے یہ سیکھا کہ جب ہم کسی بیماری کے بارے میں بہت تحقیق کرتے ہیں تو بہتر نتائج حاصل ہو جاتے ہیں اور مشکل بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس برس کچھ ٹرائل مکمل ہونے والے ہیں جن سے اگلے ایک یا دو برسوں میں بہتر نتائج کی امید کی جا رہی ہے۔

کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے دس برسوں میں ہم پہلی بار ڈمنشیا کا علاج دیکھیں گے، جو مکمل علاج تو نہیں ہو گا، جس کے لیے ہمیں مزید انتظار کرنا ہو گا۔ ان ماہرین کے مطابق اس سے کم سے کم بیماری کچھ لیٹ ضرور ہو جائے گی اور مریض کی حالت تیزی سے خراب نہیں ہو گی۔

یہ بھی چیک کریں

پاک میڈیا جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام استقبال رمضان کی مناسبت سے خواتین کی ایک تقریب کاانعقاد کیاگیا جس کی مہمان خصوصی معروف سعودی صحافی سمیرا عزیز تھی ۔

پاک میڈیا جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام استقبال رمضان کی مناسبت سے خواتین کی ایک تقریب کاانعقاد کیاگیا جس کی مہمان خصوصی معروف سعودی صحافی سمیرا عزیز تھی ۔

جدہ ( ادعیہ وہاج سے ) سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاک میڈیا جرنلسٹس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔