منگل - 4 اکتوبر - 2022
APP16-18 ISLAMABAD: February 18 – Federal Secretary for Information and Broadcasting Akbar Hussain Durrani in a group photo during his visit to Associated Press of Pakistan (APP) Headquarters. APP photo by Afzaal Chaudhry

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ذرائع ابلاغ کے میدان میں ایک اہم ریاستی ادارہ ہے،وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین

اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی)وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے کہا ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان(اے پی پی) ذرائع ابلاغ کے میدان میں ایک اہم ریاستی ادارہ ہے، وہ تیزی سے ابھرتے ہوئے ڈیجٹیل میڈیاماحول کے چیلنجوں سے موثر انداز میں نبردآزما ہونے کے لئے اپنی خبروں کو متنوع بنانے اور نئے رجحانات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ جدیدمہارتوں کو بروئے کار لائے۔ وہ منگل کو قومی خبررساں ادارے اے پی پی کے دورہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے ۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات کو میڈیا ہاﺅسز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اے پی پی کی خبروں کے مواداور معیار میں بہتری اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق متعارف کرائے جانے والی نئی خدمات کے حوالے سے اقدامات بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ منیجنگ ڈائریکٹر ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) ڈاکٹر طارق محمود خان نے بتایا کہ ادارے کو مالی طور پرخود انحصاربنانے اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے کوششیں تیزی سے جاری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ادارے کی افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافہ ،جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے اور اے پی پی کی خدمات کو متنوع بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بدلتے ہوئے پیشہ وارانہ تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر اقدامات کے علاوہ قومی خبر رساں ادارے کی تنظیم نوکی جارہی ہے جس کا مقصدادارتی اور غیر ادارتی سٹاف کے تناسب میں بہتری لانا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت یہ تناسب کم و بیش50,50فیصد ہے ہمارا منصوبہ ہے کہ مجموعی عملے کا 70فیصد صحافیوں پر مشتمل ہوتا کہ ادارے کی پیشہ وارانہ کارکردگی میں اضافہ ہو ۔انہوں نے ادارے کی کارکردگی، نئے منصوبہ جات اور امور کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی نے معاشرے میںذرائع ابلاغ کے شعبہ کی اہیمت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ عوام تک مستند اور صحیح اطلاعات کی فوری فراہمی کے حوالے سے اے پی پی اہم کردار کا حامل ادارہ ہے ۔ انہوں نے قومی خبر رساں ادارے کے ملک بھر میں ضلعی نمائندگان کے نیٹ ورک کو مزید توسیع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر خبروں کے حصول کے لئے یہ بہت موثر نیٹ ورک ہے، جن اضلاع میں ابھی تک اے پی پی کے ضلعی نمائندگان موجود نہیں وہاں بھی نمائندگان کی تعیناتی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ خبروں کے شعبہ میں باہمی طور پر مستفید ہونے کے لئے دیگر عالمی خبررساںایجنسیوںاور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ساتھ خبروں کے تبادلے میں تعاون کو بہتر بنایا جائے۔ قبل ازیں سیکرٹری اطلاعات نے اے پی پی ویڈیو نیوز سروس کے سٹوڈیو کا دورہ کیا جہاں آزمائشی بنیاد پر اے پی پی ویب ٹی وی کی نشریات چلائی جارہی ہیں ۔سیکرٹری اطلاعات کو مقامی طور پر تیار کیے گئے نیوز پراسسنگ سافٹ ویئر ، نیوز فائلنگ سافٹ ویئر ،سینٹرل نیوز ڈیسک کی توسیع ، آن لائن پورٹل کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جن کا مقصد خبروں کے جلد از جلدحصول اور سبسکرائبریز کو فوری فراہمی یقینی بنانا ہے ۔سیکرٹری اطلاعات نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے مقامی اور بین الاقوامی اخبارات ،ٹی وی چینلز ،کاروباری اداروں اورویب پورٹلز سمیت سبسکرائبریزکے لئے بہتر سروس فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اے پی پی اس وقت انگلش ،اردو اور پانچ علاقائی زبانوں میں اپنے سبسکرائبریز کو یومیہ 1200سے زائد خبریں فراہم کر رہا ہے علاوہ ازیںانھیں یومیہ 100سے زائد فوٹو اور ویڈیوز بھی فراہم کی جارہیں ہیں ۔ سیکرٹری اطلاعات کو ادارے کے عملے کی استعداد کار میں اضافے اور خبروں کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لئے منعقد کیے جانے والے تربیتی پروگراموں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سیکرٹری اطلاعات اکبر درانی نے اے پی پی اور ملک کی مختلف جامعات کے درمیان ذرائع ابلاغ کے شعبے میں اشتراک کار کی ضرورت کا اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ذرائع ابلاغ کے شعبہ میں یونیورسٹیوںکے طالبعلموں کوبھی تربیتی عمل کےلئے زیادہ تعداد میں شامل کیا جائے جس سے نہ صرف ان کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا بلکہ اس شعبہ میں پیشہ وارانہ طور پر بہتر افرادی قوت بھی دستیاب ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اے پی پی اپنی آمدن بڑھانے کے لئے خصوصی پیکیجز پیش کر کے اپنے سبسکرائبریز کی تعداد میں مزید اضافہ کرے۔ سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے اے پی پی کے مختلف شعبوں کا بھی دورہ کیا ۔

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔