بدھ - 1 فروری - 2023
بجٹ میں تعلیم کے لیے محض 4 ارب؟؟

بجٹ میں تعلیم کے لیے محض 4 ارب؟؟ تحریر مشتاق احمد مغل ریزیڈنٹ ایڈیٹر پاکستان

بجٹ میں تعلیم کے لیے محض 4 ارب؟؟
مالی سال 21-20 کا وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا گیا جسکا تخمینہ قریبا 71 کھرب 37 ارب روپے ہے۔ بجٹ کے حوالے سے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر تعلیم اور دفاع کے لیے بجٹ تجاویز پر کافی بحث ہو رہی ہے ۔معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اب ہدف تنقید ہے۔ ایسی ہی ایک پوسٹ سے مجھ پر بھی انکشاف ہوا کہ بجٹ میں تعلیم کے لیے صرف 4 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ پڑھ کر تجسس ہوا کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پورے سال کے لیے صرف 4 ارب تجویز ہوں۔ اتنے میں تو یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہے۔ یکے بعد دیگرے ایسی ہی کئی پوسٹیں سامنے آنے لگے تو معلوم ہوا کہ پرائمری پاس سے لیکر اعلیٰ تعلیم یافتہ دوستو نے بھی ایسی ہی کہانیوں کو شیئر کیا ہوا ہے اور دل کھول کر حکومت پر لعنت تعن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لکیر کے فقیر ہونے کا جو اعلیٰ ثبوت اس معاملے پر دیا گیا وہ شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے تیارکردہ اور وفاقی وزیر حماد اظہر کے پیش کردہ وفاقی مالیاتی بجٹ 21_20 میں تعلیمی شعبے کے لیے قریبا 83363 ملین روپے یا قریبا 83.363 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں قریبا 77262ملین روپے یا قریبا 77.262 ارب روپے تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیےتعلیمی شعبے کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے جو کہ 6 ارب سے زائد بنتا ہے۔ بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 64ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے کٹوتی کے ساتھ60ارب روپے کا بجٹ دیا جس کے بعد متعدد منصوبوں میں کٹ لگانے پڑے تھے۔ تاہم اب مالی سال 21-20 کے لیے حکومت نے چار ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔ 31سکیموں کے لئے چھ ارب بیالیس کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہھ۔ نئے منصوبوں میں سی پیک کنسو رشیم آف یونیو رسٹیز کے لئے سترہ کروڑ پچاس لاکھ، مختلف کیمپس بلڈنگز کے ڈیزائن و ڈویلپمنٹ کے لئے پانچ کروڑ اسی لاکھ، لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگر یکلچر کے لئے بیس کروڑ،باچا خان یونیورسٹی چار سدہ کی اپ گریڈیشن کے لئے سولہ کروڑ سا ٹھ لاکھ، یونیورسٹی آف بو نیر کے لئے 25کروڑ، یونیورسٹی آف ساہیوال کے ترقیاتی کاموں کے لئے تیس کروڑ مختص ہیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں واٹر انسٹیٹیوٹ کی تشکیل کے لئے 47 کروڑ، ایڈ وانسڈ مالیکیو لر جنیٹکس سنٹر ڈاؤ یونیورسٹی کراچی کے لئے 35کروڑ 20لاکھ، بلو چستان یونیورسٹی خضدار میں چار نئے شعبوں کی تشکیل کے لئے بیس کروڑ، ایر ڈ ایگریکلچر یونیورسٹی میں نیشنل سنٹر آف انڈسٹریل بائیو ٹیکنالوجی کے لئے 35کروڑ مختص ہیں۔ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد نیو کیمپس کی تعمیر کے لئے پچیس کروڑ، میر پور خاص میں آئی بی اے سکھر کیمپس کے قیام کے لئے سترہ کروڑ، یونیورسٹی آف چترال فیز ون کی تعمیر کے لئے بیس کروڑ، یونیورسٹی آف تربت پانچ کروڑ، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوہاٹ ویمن کیمپس کے قیام کے لئے ڈھائی کروڑ، یونیورسٹی آف مائنز کی فزیبلیٹی کے لئے ایک کروڑ، نارتھ وزیر ستان یونیورسٹی کی فز یبیلیٹی رپورٹ کے لئے ستر لاکھ، ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے ایک ارب بیس کروڑ، یونیورسٹی ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں لائیو سٹاک کی بہتری کے لئے پندرہ کروڑ، پاک یو کے نالج گیٹ وے کے لئے پندرہ کروڑ اسی لاکھ، زرعی پیداوار بڑھانے کے پرو جیکٹ کے لئے چوا لیس کروڑ دس لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اسلام آباد میں سرکاری جامعات میں طا لبات کی رہائش کے لئے تیس کروڑ، یونیورسٹی آف صوابی میں سہولیات کی بہتری کے لئے پانچ کروڑ، یونیورسٹی آف آزادکشمیر کنگ عبد اللہ کیمپس میں سہولیات کے لئے دس کروڑ، سمارٹ کلاس رومز کے لئے پانچ کروڑ، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے لئے بیس کروڑ، مہران یونیورسٹی جامشورو کے لئے چودہ کروڑ ستر لاکھ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ایبٹ آباد کیمپس کے لئے پانچ کروڑ، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور فیکلٹی کے لئے ساڑھے چودہ کروڑجبکہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے انفرا سٹرکچر اور فیکلٹی کی بہتری کے لئے دس کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
یہاں اک اور بات بھی قابل ذکر ہےپہلا تخمینہ صرف وفاق کے تعلیمی شعبے کے لیے لگایا گیا ہے۔ جو کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے ایک فی صد پر مشتمل شہر ہے اور اس میں موجود سرکاری اسکول کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کی تعداد کسی بھی صوبے سے کئی گناہ کم ہے۔ گزشتہ سال کے تجویز کردہ بجٹ میں قبائلی اضلاع فاٹا اور پاٹا بھی وفاق میں شامل تھے تاہم خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد اب ان اضلاع کا تعلیمی بجٹ صوبے کے حوالے ہے۔ صرف وفاق کا تعلیمی بجٹ 86 ارب سے زائد ہے جو پاکستان کے ایک فی صد رقبے پر مشتمل شہر ہے اور چند درجن سرکاری تعلیمی ادارے اس میں موجود ہیں۔ باقی تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور ہر صوبہ خودمختار ہے ۔ تمام صوبوں بشمول ریاست آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں اپنا اپنا میزانیہ بنائیں گی۔ تعلیمی شعبہ اور خدمات کے لیے رقبے،تعداد،نئے منصوبے اور دیگر امور کا جائزہ لینے کے بعد بجٹ تجویز کیا جائے گا۔ ہر صوبہ بجٹ میں تعلیمی شعبہ کے لیے رقم مختص کرنے کے لیے آزاد ہے۔ جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبےمیں ، یونیورسٹیز وغیرہ کے حوالے سے منصوبوں میں یونٹس کی معاونت کرے گا۔ دفاعی بجٹ کی بات کی جائے تو دفاع صوبائی معاملہ نہیں ہے اس لیے دفاع کا بجٹ صرف وفاق کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے ۔آئندہ مالی سال 21-2020ء کیلئے دفاعی بجٹ 12 کھرب 89 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ جبکہ رواں مالی سال 20-2019ء کا دفاعی بجٹ 11 کھرب 52 ارب روپے ہے۔رواں مالی سال کیلئے نظر ثانی شدہ دفاعی بجٹ تخمینہ 12 کھرب 27 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال 21-2020ء کیلئے دفاعی بجٹ میں 61 ارب 74 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا۔ اس سال دفاعی بجٹ مجموعی طور پر 137 ارب روپے زیادہ ہے۔ دفاعی انتظام کیلئے 2 ارب 94 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔تینوں مسلح افواج کا اپنا بجٹ 12 کھرب 86 ارب روپے ہو گا۔ ملازمین کے اخراجات 4 کھرب 75 ارب روپے،
آپریٹنگ اخراجات 3 کھرب ایک ارب مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ فزیکل اثاثوں کا تخمینہ 3 کھرب 57 ارب روپے لگایا گیا۔سول ورکس کی مد میں 1 کھرب 57 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ان تمام اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر چلنے والی من گھڑت اور بے بنیاد خبرو کی نہ صرف تردید ہوتی ہے بلکہ یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ ہم صرف تنقید برائے تنقید اور لکیر کے فقیر بننے کے راستے پر گامزن ہیں ۔اس طرح نہ صرف ہم ریاست سیاست اور اداروں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو گالی گلوچ اور اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں کر کے مفت کا گناہ بھی اپنے لیے جمع کر رہے ہیں۔گزارش ہیکہ حقائق جاننے کی سعی کریں اور سوشل میڈیا پر کم از کم تعلیم. کے حوالے سے اس من گھڑت خبر پر یقین نہ کریں اور اس طوفان بدتمیزی کو بند کرنے می‍ں کردار ادا کریں۔
تحریر میں دیے گئے اعداد و شمار کے حوالہ جات.:
بجٹ ان بریف 21-20 صفحہ 20۔۔
بجٹ ان بریف 21-21صفحہ نمبر 23 ۔۔
بجٹ تقریر۔فنانس بل 21-20۔۔۔
پی ایس ڈی پی 21-20۔۔
اکنامک سروے آف پاکستان 21-20۔۔

یہ بھی چیک کریں

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ پاکستان بھر کے چینلز کی میڈیا ٹیمیں موٹر وے پہنچی پوئی ہیں۔ پروگرام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔