پیر - 3 اکتوبر - 2022

بیلجیئم .کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پوری دنیا کی طرح یورپ میں بھی تقریبات ،کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام شمعیں روشن کی گئیں. ہالینڈ سے بیورو چیف منصور احمد کی رپورٹ

برسلز(پ۔ر) بلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے شمعیں روشن کرکے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔پروگرام کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پلس لکسمبرگ کے مقام پر منگل کی شام کو منعقد ہوا جس میں زندگی کے ہرطبقے اور مختلف این جی اوز کے عہدیداروں خصوصاًانسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔پروگرام کے منتطمین میں ممتاز دانشور شیراز راج، مقامی کمیون کے کونسلر چوہدری محمد ناصر، اوورسیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین چوہدری اکرم منھاس، چیئرمین کشمیرانفو میرشاہجہاں، پی پی پی جموں و کشمیر کے سردار محمود، سماجی شخصیات راجہ جاوید، مہر ندیم، راجہ عبدالقیوم، ملک اخلاق احمد، علی حسن جوشی، محمد اشتیاق،مھدی خاوری ،احمد علی اور پاکستان تحریک انصاف بیلجیئم کے صدر چوہدری زاہد رضا بھدر شامل تھے۔اس پروگرام کے دوران جو شدید بارش و سردی کے باوجود منعقد ہوا، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کشمیریوں سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کرتے رہے۔پروگرام کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان مظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اس موقع پر کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس وقت سے اب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کا محاصرہ کررکھا ہے۔ علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیرمیں جاری محاصرہ، قتل و غارت اوربے جا حراست سمیت ہر قسم کے سنگین بھارتی ہتھکنڈوں اور مظالم کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کرائی جائے جس میں حصہ لے کر کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرسکیں۔ دیگر مقررین نے کہاکہ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کررہے ہیں اور بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام پر اپنی فوج کے ذریعے تشدد اور مظالم ڈھا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرمیں آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی اور کالے قوانین اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کوسنگین دباؤمیں رکھاہواہے لیکن بھارت کی طرف سے مظالم اورتشددجیسے حربوں اور کالے قوانین سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روکا نہیں جاسکتا۔ یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو بھارتی مظالم کا نوٹس لیناہوگااور کشمیریوں کو ان کا حق دلواناہوگا۔ خاص طورپر اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے اپنا کرداراداکریں اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے مسئلہ کشمیرکے مناسب اورپرامن حل کا راستہ ہموار کریں

یہ بھی چیک کریں

کرونا میں مبتلا امریکی صدر کو ہسپتال منتقل کردیاگیا

صدارتی انتخابات سے ایک ماہ قبل کرونا بیماری میں مبتلا امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔