بدھ - 1 فروری - 2023

بی این پی مینگل کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

پی ٹی آئی حکومت کیلیے بڑا دھچکا،حکومتی اقتدارکی کشتی ہچکولے کھانے لگی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اخترمینگل نے پی ٹی آئی کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ میں آج ایوان میں پی ٹی آئی کی حکومت سےعلیحدگی کا اعلان کرتاہوں،ہم ایوان میں موجود رہیں گے اوراپنی بات کرتے رہیں گے۔

سرداراخترمینگل نے کہاکہ ہم نے آپ کے ساتھ ہاتھ ملایا ،گلہ نہیں کررہے،صدر،اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،چیئرمین سینیٹ سمیت ہرموقع پر ووٹ دیا۔

سرداراخترمینگل نے کہاکہ 8اگست 2018 کو پہلا معاہدہ ہوا،شاہ محمود،جہانگیرترین اوریارمحمدرند کےدستخط کیے،کیوں آج تک اس پرعمل درآمد نہیں ہوا ؟ان دونوں معاہدوں میں کوئی بتادےکہ کوئی بھی ایک غیرآئینی مطالبہ ہے؟

اخترمینگل نے کہاکہاپوزیشن اور حکومتی بنچزکی طرف سے الزام لگایا گیا کہ دس ارب میں ہم بک گئے؟ ہم نے2 سال تک اس معاہدے پرعملدرآمد کا انتظارکیاہےمزید کرنےکوتیارہیں لیکن کچھ شروع توکریں۔

اخترمینگل نے کہاکہ میں کورونا کی وجہ سے گاؤں میں تھا، پاکستان اسٹیل ملزکی نجکاری کرکے ہزاروں لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے، افسوس کی بات ہے یہاں ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔

اختر مینگل نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہآپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار نکلے گا بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں ہوگا،آپ کو بلوچستان حقوق دینا ہوں گے۔

اخترمینگل نے کہاکہایک لڑکی جس کا بھائی لاپتا تھا اس کے بازیابی کےلیے وہ چارسال لڑتی رہی، لڑکی نے دو دن پہلے خود کشی کرلی،اس کی ایف آئی آرکس کیخلاف کاٹی جانی چاہیے؟۔

خیال رہے کہ اگست 2018 میں بلوچستان نیشنل پارٹی – مینگل اور تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت سے اتحاد کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے چار ارکان ہیں جب کہ بی این پی مینگل کا سینیٹ میں ایک رکن ہے۔



Source link

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔