پیر - 3 اکتوبر - 2022

"تقدیر سے تدبیر تک”حقیقت پسندی کی طرف راغب کرتی محترمہ جویریہ اسد کی تحریر

—تقدیر سے تدبیر تک—

بزرگوں سے کئ بار سنا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ سچے دل سے کی گئ کوشش تو پہاڑوں میں بھی چشمےرواں کر دیتی ہے۔ سننے میں یہ الفاظ کتابی اور سوچنے میں تصوارتی لگتے ہیں جن کا حقیقی دنیا سے کوئی ربط محسوس نہیں ہوتا ۔مگر اگر ہم تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تو کئ مثّالیں ہمیں اس سوچ کو زندگی بخشتی نظر آئیں گیں۔
تھامس ایڈیسن کا نام کسی کے لئے نیا نہیں ہے۔اس کی ذہانت اور قابلیت کی ایک دنیا معترف ہے۔ مگر شاید یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہوں گےکہ اپنے کیرئر کے شروعات میں اس نے کئ بار ناکامیوں کا سامنا کیا، یہاں تک کہ اس کو اسکول سےیہ کہہ کر نکال دیا گیا تھا کے اس کی قسمت میں کوئ کامیابی نہیں ہے مگر اس نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثّابت کیا کہ انسان اپنی تدبیر سے اپنی تقدیر خود بناتا ہے ۔ اس کی ایجادات میں لائٹ بلب اور موونگ کیمره قابل ذکرہیں۔
آئن سٹائن جس کی ایجادات نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک تہلکہ مچا دیا اپنی ابتدائی زندگی میں ایک ایسا ناکام انسان تھا جس کی ناکامیاں اس کے باپ کی موت کا باعثّ بنیں۔ مگر پھر مسلسل محنت اور کوشش نے اس نے دنیا کو اپنی ذہانت سے ششدر کردیا۔ ایسی کئ مثّالیں ہمیں تاریخ میں جا بجا نظر آئیں گیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کی ان مثّالوں سےکیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو کیسے بہتر بناسکتے ہیں۔ قدرت نے عقل سلیم ہر انسان کو عطا کی ہے تاکہ وہ محنت اور کوشش سے اپنے لئے راستےمتعین کرسکے مگر یہ کوشش ایک خاص سمت اور مرکوز اہداف پر ہونی چاہیے ـ ابتدا میں کامیابی نہ ملےتو اسے تقدیر پر لکھا چھوڑ کر بیٹھ جانا ایک ناکام انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہم ایک ایسی سمت میں کوشش کر رہے ہوتے ہیں جس کا کوئ ہدف نہیں ہوتا۔ اگر آپ ایک ایسی دیوار میں کیل ٹھونکتے رہیں گے جس کے آگے لوہے کا کوئ کالم موجود ہے تو آپ ساری زندگی کیل نہیں ٹھونک پائیں گے اور پھر حالات اورتقدیر کوکوسے گے اور کسی دوسرے انسان کی قسمت پر رشک یااس سے حسدکریں گے جو پہلی کوشش میں ہی کیل ٹھونکنےمیں کامیاب ہو گیا ہوگا کیونکہ شاید اس کی دیوار کے پیچھے کوئ لوہے کا کالم نہ ہو۔
اپنی ناکامی کی وجہ کوجاننا اور اس کا سد باب کرنا ہی اصل میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ کبھی بھی کسی دوسرے کی تقلید مت کیجئے کیونکہ ہر انسان کی تقدیر اور تدبیر قدرت نے طے کی ہوئ ہے۔ ہمیں اپنی راہیں خود تلاش کرنی پڑتی ہیں اور نا موافق حالات کو موافق کرنا پڑتا ہے۔
ہر شخص کی کامیابی میی سخت محنت کا ایک اہم کردار ہے۔ جیسا کہ ہم نے بچپن سے سنا ہےpractice makes man perfect ، ” تو سخت محنت ہی تجربے ، علم اور مہارت کی اصل بنیاد ہے ، جو آپ کی کامیابی کو ممکن بناتی ہے۔ تجربہ اور مہارت وہ چیزیں ہیں جو آپ کو وقتا فوقتا کچھ کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایک مرکوز ہدف کو حاصل کرنے کی محنت سے آپ کو زیادہ تجربہ حاصل کرنے میں مدد ملتا ہے ۔تجربے کی طرح علم اور ہنر بھی محنت اور تدبیرسے ہی حاصل ہوتا ہے۔
مسلسل محنت کی ایک اعلی مثّال کراچی میں موجود گل بہاو ادارے کی چیف ڈائریکٹر نرگس لطیف صاحبہ ہیں جنھوں نے سترہ سال کی لگاتار محنت کے بعد چاندی گھر بناۓ۔ یہ چاندی گھر کو ڑےاور پلاسٹک کی تھیلیوں کوجمع کرکے بناۓ گئے چاندی بلاکس پر مشتمل تھے۔ یہ گھر سیلاب اور زلزله زدگان کے لۓ بناۓ گۓ تھے۔ یہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے لۓ ایک بھرپور قدم تھا۔ اس ادارے کو بین الاقوامی سطح پر بہت پذیرائ ملی اور نرگس لطیف کوکئ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
مسلسل محنت اور کوشش ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔ ہر انسان خصوصاً ہر پاکستانی کو اسی کنجی سے اپنے راستے میں لگے سارے تالوں کوکھولنا ہوگا کیونکہ ہم تو اس قائد کی قوم ہیں جو اگر برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی قسمت کے سہارے چھوڑ دیتے اور ریاست پاکستان کی بنیاد نہ رکھتے تو شاید آج ہم ہندوستان میں کسی ہندو کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہوتے یا پھر ہماری نئ نسل آزادی اور ہمیں ہمارا حق دو کے بینرز اٹھاۓ دلی پولیس کے ڈنڈے کھا رہی ہوتی۔ قائد اعظم کی دن رات کی محنت اور دور اندیشی نے آج ہمیں آزاد فضاؤں میں سانس لینے کی نعمت عطا کی۔ تو دوستو محنت خاموشی سے کرتے جاؤ تاکہ تمہاری کامیابی شور مچاۓ۔

شاخ سے جو گر جائیں ھم وہ پتے نہیں
آندھیوں سےکہنا وہ اپنی اوقات میں رہیں

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔