منگل - 31 جنوری - 2023

ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلیے جج نے پیسے دیے۔سپریم کورٹ

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہاکہ ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلیے جج نے پیسے دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزکیخلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی رکوانے کیلیے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ  نےسماعت کی ۔

دوران سماعت عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کو جواب جمع کرنے کی اجازت دی جس پر انہوں نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرایا۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن نقائص پر مبنی درخواست پر کارروائی کر سکتا ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ یہ بتائیں کونسل کے سامنے جج کیخلاف آمدن سے زائد ذرائع کا مواد کیا تھا؟،حکومتی وکیل نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز نے 09-2008 میں بطوروکیل آمدن ظاہر کی،عدالت نے کہاکہ ثابت کریں اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلیے جج نے پیسے دیے۔

فروغ نسیم نے کہاکہ میں آپ کابہت احترام کرتا ہوں ،15 سال کاہمارا عزت واحترام کارشتہ ہے،جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ احترام کا رشتہ برقرار رہے گا،سب چاہتے ہیں کیس کاجلد فیصلہ ہو،فروغ نسیم نے کہاکہ وضاحت دینی ہے جائیدادیں کیسے خریدی گئیں،آج کے دن تک اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہوسکتا ہے فاضل جج کی اہلیہ زیرکفالت ہو،اہلیہ کواپنے والدین سے کچھ ملے،کیاوہ بتانابھی خاوندکی ذمے داری ہے؟

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کسی عمارت کی بنیادغلط ہوتوغلط ڈھانچے پرعمارت کھڑی نہیں ہوسکتی،فروغ نسیم نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو اس کا تعین کس فورم پرہوگا؟،حکومتی وکیل نے کہاکہ سروس آف پاکستان کے تحت یہ جواب خاوند نے دینا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ کا مقدمہ پراپرٹیزکی ملکیت سے متعلق ہے،کسی کے رہنے سہنے کے انداز کا مقدمہ آپ کا نہیں ،ریفرنس میں منی لانڈرنگ،فارن ایکس چینج کی منتقلی کی بات کی گئی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ صدارتی ریفرنس کے الزامات کا جائزہ جوڈیشل کونسل نے لینا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کون ساریکارڈ ہے جس سے اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ لگتے ہیں؟،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ 1990کے بعدایسامیکانزم بنایاگیاجس کے تحت کوئی حساب نہیں ۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت کے سامنے مس کنڈکٹ پردلائل دوں گا، اہلیہ معزز جج کی فیملی کا حصہ ہے اور آئین کے آرٹیکل 63 میں اہلیہ کے زیرکفالت کے حوالے سےکوئی تفریق نہیں رکھی گئی۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ برطانیہ میں اہلیہ کی جانب سے بار کو خط لکھنے پر جج کے خلاف کارروائی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین غیر جانبدار ہے، آرٹیکل 209 میں اہلیہ کو زیر کفالت یا خود کفیل رکھنا بلا جواز ہے، کسی کا اپنے یا اہلیہ کے نام جائیداد ظاہر نہ کرنا قابل سزا جرم ہے، آئین کے آرٹیکل 63 کےتحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سےمحروم ہوجاتا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہا کہ جج بھی سروس آف پاکستان میں آتا ہے، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ فروغ نسیم صاحب کیا آپ کا یہی مقدمہ ہے، جو دلائل آپ دے رہے ہیں یہ آپ کا مقدمہ نہیں ۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کا نقطہ یہ تھا کہ مواد کونسل کے سامنے آنے کے بعد باقی چیزوں کی اہمیت نہیں رہی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ افتخارچوہدری کیس کا اطلاق موجودہ مقدمے پرنہیں ہوتا، جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس آنے والے مواد پر از خود کارروائی کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن نقائص پر مبنی درخواست پر کارروائی کرسکتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کونسل کے سامنے جج کے خلاف آمدن سے زائد ذرائع کا مواد کیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ کیا ایف بی آر پوچھے اوراہلیہ جواب دے تو کیس ختم ہو جائے گا، جس پر منصور علی شاہ نے کہا کہ پھراس بات پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ جواب قاضی فائز عیسیٰ ہی دیں، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جج کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کونسل ہی کر سکتی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس مقدمے میں 9 ماہ گزر چکے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ  پبلک سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے لگژری گاڑی چلائیں، اگر1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارہویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کر دیتی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہمارے ملک میں 1990کے بعد ایسا میکنزم بنایا گیا جس کےتحت کوئی حساب نہیں ہے، الزام یہ ہے کہ لندن کی جائیدادیں کیسے خریدی گئیں؟ آرٹیکل 10 اے پر بھی مطمئن کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہاگر ایف بی آر کہہ دے کہ اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کیں تو پھر صورتحال کیا ہوگی:

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ صدارتی ریفرنس میں تشویش جائیداد خریدنے کے ذرائع سے متعلق ہے۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ اگر تسلیم کرلیں تو پھر تمام ججز سے ٹیکس کا جوڈیشل کونسل پوچھے گی، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل جج کے ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لے سکتی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر ایف بی آر کہہ دے کہ اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کی ہیں تو پھرصورتحال کیا ہو گی۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ کا مقدمہ ٹیکس قانون کے آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی کا ہے، آپ تو ٹیکس قانون کے ماسٹر ہیں۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہمارا مرکزی مقدمہ ہے کہ کن وسائل سے یہ جائیدادیں خریدی گئیں، آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی ایک چھوٹا سا نکتہ ہے۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ حکومتی وکیل ٹائم لائن دے دیں کب تک دلائل مکمل کریں گے۔

جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک جج پر سوال اٹھے تو پورے ادارے پر سوال اٹھتے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ بھارت میں 6 لاکھ کی وضاحت نہ کرنے پر جج کو گھر بھیج دیا گیا، اسی مقدمے کی بنیاد پر بھارت میں عدالتی تاریخ رقم ہوئی، بھارت میں جج کےخلاف فوجداری کارروائی کو الگ رکھا گیا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ بھارت میں جج کے خلاف کارروائی کے وقت مکمل مواد پیش کیا گیا جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب ایف بی آر سے اپنی اہلیہ کاٹیکس ریکارڈ لے سکتے ہیں؟

جسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ ایف بی آر راز داری کی وجہ سے جج صاحب کو اہلیہ کا ریکارڈنہیں دے تو جج انضباطی کارروائی کا سامنا کیسےکرے گا؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایف بی آر خاوند کو اہلیہ کے گوشوارے یا ٹیکس معلومات دینے سے انکارکر دے تو پھر راستہ کیا ہو گا؟

فروغ نسیم نے کہا کہ میں اس سوال کا تفصیلی جواب دوں گا، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ابھی سوال کا جواب دے دیں، فروغ نسیم نے جواب دیا کہ مجھے متعلقہ قوانین کو دیکھنا ہوگا پھر جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گا۔



Source link

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔