اتوار - 2 اکتوبر - 2022

جامعہ حفصہ کی تعمیر کا معاملہ:لال مسجد کے اطراف حالات کشیدہ۔اسلام آباد سے بیورو چیف ولید بن مشتاق کی رپورٹ

(  اسلام آباد: ولید بن مشتاق سے)
جامعہ حفصہ کی تعمیر کا معاملہ ۔ لال مسجد کے اطراف حالات کشیدہ۔مسجد کے اطراف خاردار تاریں اور ناکہ بندی کے بعد سیکیورٹی اداروں کی بکتر بند گاڑی بھی لال مسجد سے ملحقہ پلاٹ میں کھڑی کر دی گئی ۔
جامعہ حفصہ کی تعمیر کہاں ہو گی ؟؟ لال مسجد کے عقب میں خالی پلاٹ کس کی ملکیت ۔ فیصلہ نہ ہو سکا ۔ اسلام آباد انتظامیہ اور جامعہ حفصہ کے درمیان معاملات کیوں طے نہ ہو پائے ۔ کیا مولانا عبدالعزیز کا جمعہ کا خطبہ اسلام آباد انتظامیہ کے لیے باعث تشویش ہے ؟؟ اصل کہانی کیا ہے ۔سکیورٹی اداروں کی بکتر بند گاڑ ی لال مسجد سے ملحقہ پلاٹ پر کیوں کھڑی کر دی گئی ۔؟ اسلام آباد لال مسجد کے اطراف کڑی سیکیورٹی ۔ قانون فافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بدستور لال مسجد سے ملحقہ شاہراہ پر خاردار تاریں اور ناکہ لگائے موجود ہیں۔ لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کے سابق مقام سے قناطیں اتار لیں گئیں ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی بکتر بند گاڑی پلاٹ پر کھڑی کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس بھی پلاٹ سے واپس مسجد روڈ پر آ گئی ہے۔ جبکہ احتجاج کرنے والی جامعہ حفصہ کی طالبات کو مولانا عبدالعزیز کی جانب سے واپس بلا لیا گیا ہے ۔ پولیس کی بھاری نفری اب بھی لال مسجد کے اطراف میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے لال مسجد سے ملحقہ پلاٹ کے متبادل ایچ الیون میں زمین دیا گیا تھا ۔ بعد ازاں یہ الاٹمنٹ ختم کر دی گئی ۔ اس عمل کے بعد جامعہ حفصہ انتظامیہ نے واپس لال مسجدسے ملحقہ پرانےمقام پر قناطیں لگا لیں تھیں ۔ جامعہ حفصہ کی طالبات بھی مسجد میں موجود ہیں ۔دو ہفتے قبل اسلام آباد انتظامیہ اور جامعہ حفصہ کے درمیان معاملات اتفاق رائے سے طے پا نے کی خبریں گردش کرتی رہی لیکن اس کے باوجود لال مسجد کے اطراف حالات کشیدہ رہے ۔سیکیورٹی اداروں کی بھاری نفری اب بھی لال مسجد کے اطراف تعینات ہے۔لال مسجد سے ملحقہ مسجد روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔جامعہ حفصہ اسلام آباد کے گنجان آباد اور پرانے سیکٹر جی سِکس میں واقع تھا ۔ بعد ازاں انتطامیہ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے ایچ الیون میں 20 کنال اراضی متبادل کے طور پر دی گئی تھی ، جامعہ حفصہ کی جانب سے ایچ الیو ن میں مدرسہ کی تعمیر کا کام بھی تکمیل کے قریب تھا لیکن دس سال بعد اسلام آباد انتظامیہ نے ایک بار پھر جامعہ حفصہ کی یہ الاٹمنٹ بھی ختم کر دی ۔ذرائع کے مطابق اب اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے ترنول کے قریب جس علاقے میں جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے دس مرلہ اراضی دینے کی پیشکش کی جا رہی ہے وہاں پر آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ لال مسجد انتظامیہ کا موقف ہے کہ مدرسہ کے لیے محض دس مرلہ اراضی کی پیش کش صرف ایک مذاق ہے ۔مزید برآں ایچ الیوں میں تعمیر کیے جانے والے مدرسہ کے اخراجات بھی انتظامیہ کو ادا کرنے چاہیئے کیوں کہ تعمیر قانونی طریقہ کار کے مطابق مدرسہ کو الاٹ مقام پر کی گئی تھی۔ یکمشت الاٹمنٹ ختم کرنا اور مدرسہ کے لیے دس مرلہ زمین غیر آباد علاقے میں دینا سرار زیادتی ہے ۔ذرائع کہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذکرات میں یہ طے پایا تھا کہ مولانا عبد العزیز جمعے کا خطبہ نہیں دیں گے۔ مگر جب تک ان کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوتے انھیں مسجد سے نہیں نکالا جائے گا۔جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی کہ مولانا عبدالعزیز جمعہ کا خطبہ نہیں دیں گے۔

یہ بھی چیک کریں

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد(یواین پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت تمام معاشی اعشاریے مثبت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔