منگل - 4 اکتوبر - 2022

جدہ:پی آر سی کےزیرِاہتمام”کشمیراورمسلم دنیا کی ذمہ داری”پر سمپوزیم کاانعقاد پریس ریلیز۔ سید مسرت خلیل

پی آر سی کےزیرِاہتمام”کشمیراورمسلم دنیا کی ذمہ داری”پرسمپوزیم کاانعقاد
جدہ (پریس ریلیز۔ سید مسرت خلیل) مجلس محصورین پاکستان کے زیرِ اہتمام حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے "کشمیر اور مسلم دنیا کی ذمہ داری” کے عنوان سے ایک سمپوزیم کاانعقاد مہران ریسٹورنٹ میں جمعہ کو ہوا۔ جس کی صدارت معروف سعودی دانشور اور سابق سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی سعودی پاک فرینڈ شپ کے صدر خالد رشید تھے۔ دیگر مہمانوں میں اسلم تنویر، سید وصی امام، سید غضنفرحسن، ڈاکٹر سعد ہاشمی اورانجینئرز ویلفیئر فورم کے محمد عمرشامل تھے۔

قاری محمد آصف کی تلاوت قران پاک اور خالد جاوید کی نعت رسول مقبول ﷺ سے کاروائی کا آغاز ہوا۔

ڈاکٹر علی الغامدی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی کشمیر پر تمام قراردادوں انحراف کررہا ہے۔ بھارت کی 9 لاکھ فوج کشمیریوں کی تحریک آزادی پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ امت کو متحد کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے قائدانہ کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ کے مطابق کشمیر پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔ 1947 میں اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم نہرو نے یو این او کے ساتھ یہ عہد کیا کہ بھارت جلد ہی کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرے گا۔ لیکن 72 سال گزر جانے کے بعد بھی ہندوستان نے اس عہد کا اہتمام نہیں کیا۔ انھوں نے کہا مسئلہ فلسطین قدیم مسئلہ ہے۔جس کو حل کرنے میں یو این او ناکام رہا۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان پر بھی زور دیا کہ وہ 48 سالوں سے بنگلہ دیش میں مقیم محب وطن پاکستانیوں کی وطن واپسی اور ان کی بحالی کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔
مہمان خصوصی خالد رشید نے کشمیر پر سمپوزیم کے انعقاد پر پی آر سی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور جلد ہی کشمیریوں کو ان کے حقوق ملیں گے انشاء اللہ۔ انہوں نے یو این او پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں رائے شماری کے لئے اپنی قرارداد کو پورا کرے۔

تصور چوہدری نے بھی کشمیر پر سمپوزیم کے انعقاد پر پی آر سی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں بھارت کے ساتھ پہلی جنگ میں کشمیر پر جنرل گریسی نے قائد اعظم کی ہدایت پر دھوکہ کیا اور پاک فوج کو روکا ورنہ پاک فوج تمام کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ تب نہرو اقوام متحدہ گئے اور کشمیر میں رائے شماری کے انعقاد کا عہد کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کی سخت موقف اختیار کرنے پر مرحوم ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ محب وطن پاکستانی بنگلہ دیشی کیمپوں میں انتہائی دکھی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور یہ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی ہونے کے بعد انہیں پاکستان واپس بھیجیں۔

شاہد نعیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت اورکشمیر میں بھارتی مظالم کو بند کرنے کے لئے کل وقتی اسٹریٹجک کشمیر کمیٹی بنائے۔

نورالحسن نے پی آر سی کی تعریف کی۔ انھوں او آئی سی اور ممبر مسلم ریاستوں پر زور دیا کہ وہ تحریک آزادی میں کشمیریوں کا ساتھ دیں۔

انجیر سید نیاز احمد نے کہا کہ پاکستان کے دو قومی مسائل ہیں ایک کشمیر اور دوسرے بنگلا دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی ۔ال
سماجی رہنما شمس الدین الطاف حکومت سے مطالبہ کیا کہ 8 لاکھ بے گناہ کشمیری شہریوں کے خلاف بھارتی فوج کی وحشیانہ کارروائی کو روکنے کے لئے سخت کارروائی کرے ۔انہوں نے بنگلادیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی پر بھی زور دیا۔

نیوز 10 بیورچیف محمد امانت اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا اجلاس اور گفتگوسے حل نہیں ہوسکتا، بھارتی افواج کی جارحیت کا انتقام لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ محصورین کے مسئلہ کو ترجیحی بنیاد پر حل کرے۔

بشیر سواتی نے سمپوزیم کے لئے پی آر سی کا شکریہ ادا کیا اورمطالبہ کیا کہ بھارت کشمیریوں کو انسانی حقوق فراہم کرے۔
پی آر سی کنوینر انجینئر سید احسان ا لحق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا خاص طور سے ڈاکٹر علی الغامدی کا جنہوں نے طبیت کی ناسازی کےباجود سمپوزیم کی صدارت قبول کی۔ انھوں نے قرادادیں پیش کیئں جواکثیریت سے منظور ہو گئیں
1۔ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں جو 5 ماہ سے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ پاکستان حکومت اقوام متحدہ ، امریکہ اور دیگر سپر طاقتوں کے اثر و رسوخ کو بھارت پر استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کو یقینی بنائے۔
. ہم ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز کو کچلنے اور بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لئے ہنگامی قوابین کی مذمت کرتے ہیں۔
2۔ ہم وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محصورین پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری کریں اور ان کی وطن واپسی اور آبادکاری دوبارہ شروع کریں۔ فنڈ کی قلت پر قابو پانے کے لئے ، "سیلف فنانس پی آر سی کی تجویز پر عملدرآمد کریں۔ بنگلہ دیش کو بھی اس مسئلے کے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔3۔ ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے کواٹر ملین پاکستانیوں کی خوراک ، صحت ، زندگی اور حفاظت کا خیال رکھنے کی ذمہ داری دی جائے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سید مسرت خلیل نے سر انجام دیں۔

یہ بھی چیک کریں

کرونا میں مبتلا امریکی صدر کو ہسپتال منتقل کردیاگیا

صدارتی انتخابات سے ایک ماہ قبل کرونا بیماری میں مبتلا امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔