منگل - 4 اکتوبر - 2022

خبردار !!!!!موبائل استعمال کرتے ہوئے سڑک پار کرنا ، زندگی پار کرنا بھی ثابت ہوسکتا ہے.

ہماری روز مرہ زندگی کو موبائل نے اپنا محتاج کرلیا ہے ہمارا کوئی بھی کام موبائل کے بغیر نامکن ہوتا جارہا ہے کھانے کے دوران بھی موبائل ہی سامنے رکھا جاتا ہے۔مسجد سے نکلنے کے بعد پہلا کام موبائل آن کرنا یا کالز چیک کرنا ہوتا ہے۔ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی ہم باز نہیں آتے۔

یہ عادت اتنی پختہ ہوچکی ہے کہ ہم سڑک پار کرتے وقت بھی اس سے جدا ہونا پسند نہیں کرتے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ موبائل استعمال کرتے ہوئے سڑک   پار کرنے والے 2لاکھ ستر ہزار افراد حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں یہ کوئی معمولی تعداد نہیں۔ایک برطانوی تھقیقاتی جریدے کی ریسرچ کے اعداد و شمار کےجو کہ پوری دنیا سے حاصل کئے گئے،کے مطابق زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو دائیں بائی دیکحے بغیر ٹیکسٹ میسیجز میں مگن ہوتے ہیں اور گزرنے والی ٹریفک کی طرف توجہ نہیں دیتے۔۔ہیڈ فون لگا کر موسیقی سننے والے بھی ہارن کی آواز سننے سے قاصر ہوجاتے ہیں اسکے علاوہ سوشل میڈیا استعمال  کرتے کرتے سڑک پار کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی حادثات کا شکار ہوتی ہے۔اس لئے اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے اور موبائل استعمال کرنے والوں کی کونسلنگ پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

پاک میڈیا جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام استقبال رمضان کی مناسبت سے خواتین کی ایک تقریب کاانعقاد کیاگیا جس کی مہمان خصوصی معروف سعودی صحافی سمیرا عزیز تھی ۔

پاک میڈیا جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام استقبال رمضان کی مناسبت سے خواتین کی ایک تقریب کاانعقاد کیاگیا جس کی مہمان خصوصی معروف سعودی صحافی سمیرا عزیز تھی ۔

جدہ ( ادعیہ وہاج سے ) سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاک میڈیا جرنلسٹس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔