منگل - 4 اکتوبر - 2022

خواتین کا عالمی دن”اخلاقی، آئینی حدود اور نسوانی حقوق؟؟؟”۔.نوجوان قلمکار ولید بن مشتاق کا ادارتی نوٹ”

۔دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کے بین الاقوامی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں اس دن خصوصی سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔8 مارچ کے دن کی مناسبت سے ہونے والے سیمینارز اور دیگر تقریبات میں خاص طور پر توجہ اِس پہلو پر مرکوز جاتی ہے کہ مختلف معاشروں میں خواتین نے کس انداز میں ترقی کی ہے اور اس تناظر میں اُن کی کاوشوں کا ذکر کر کے انہیں سراہا جاتا ہے ۔ پاکستان میں وومن ڈے کی مناسبت سے نکالے جانے والے مارچ اور دیگر تقاریب اکثر تنقید کا شکار رہی ہیں جس کی ایک وجہ ان تقاریب میں لگائے جانے والے نعرے اور دیگر پلے کارڈ ہیں ۔ مختلف نجی فلاحی اداروں اور سول سوسائیٹیز کی جانب سے منقعد کی جانے والی تقاریب کو بہت پذیرائی بھی ملی ہے تاہم اس کے باوجود چند ایک تقاریب کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ماہرین سماجیات کے مطابق کسی بھی امر کے لیے سب سے پہلے معاشرے کا جائزہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ دنیا بھر میں روزانہ کئی تحاریک مارچ اور جلسہ جلوس کیے جاتے ہیں مگر ان تمام میں سب سے پہلے معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں اخلاقیات کا تصور بھی ان کے فلسفہ حیات پر مبنی ہے ۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ اکثر سنگین نوعیت کا ہوتا ہے۔پاکستان چونکہ ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے اور ریاست پاکستان میں اخلاقی اقدار کو اسکی روایتی اور مذہبی تشخص سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اسلام میں عورت کی آزادی کو بہت تفصیل سے حقوق و فرائض کے زاویے میں نہ صرف بیان بلکہ اس پر عمل کرنے کا بھی پابند کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی امور سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔ حالیہ ادوار میں پاکستان میں ہونے والے عورت مارچ اوردیگر جلسہ و جلوسوں میں اسلامی و اخلاقی اقدار کو جس انداز سے کچلا گیا ہے اس کے بعد معاشرے میں اس حوالے سے کافی بے چینی دیکھے میں آ رہی ہے ۔ عوامی ردعمل کے نتیجے میں خواتین کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے نکالے جانے والے مارچ پر پابندی کا بھی بار ہا ذکر ملتا ہے۔پاکستان میں اس حوالے سے کئی ایک درخواستیں بھی ریکارڈ پر آ چکی ہیں ۔ ایسی ہی ایک درخواست پر منگل 3 مارچ کو لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ۔ عورت مارچ کے منتظمین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے گائيڈ لائینز طے کر رکھی ہیں۔عورت مارچ آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔ منتظمین کے مطابق درخواست آئین کے خلاف تھی اس لیے درخواست گزار پابندی لگانے کے موقف سے ہٹ گئے۔چيف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت عورت مارچ کو روکا نہیں جاسکتا ليکن غير اخلاقی نعرے اور پلے کارڈز نہيں ہونے چایئے۔ درخواست گزار نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مارچ آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خواتین پر ظلم ہوتا ہے جس پر چيف جسٹس نے کہا کہ خواتین کے حقوق اس وقت مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ مارچ ہے۔پوليس کی جانب سے عدالت کو بتايا گيا کہ کچھ مذہبی تنظيموں کو مارچ پر تحفظات ہيں ليکن شرکاء کو فول پروف سکیورٹی دی جائے گی۔ درخواست گزار نے کہا کہ عورت معاشرے کا حصہ ہے اور مارچ کر سکتی ہے۔ پولیس کے جواب کے بعد ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ جس کے بعد درخواست  نمٹا دی گئی ۔ عدالت عالیہ کے مارچ کےحوالے سے فیصلے کے بعد اس امر کی تو تائید ہو تی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں مرد و عورت دونوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی آزادی ہے ۔ اس لیے کسی بھی طرح سے مارچ پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت مارچ یا کسی بھی مارچ کے شرکاء اور منتظمین ریاست پاکستان میں رہتے ہوئے معاشرتی ، اخلاقی سماجی اور مذہبی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں ، حقوق کے لیے آواز ضرور اٹھائیں مگر اس دوران کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے ریاست پاکستان میں رہنے والے والوں کی دل آزادی ہو اور ساتھ ہی اسلامی مملکت کے رہنما اصولوں کو بھی پامال نہ کیا جائے تاکہ ریاست خداداد میں امن ، محبت اور بھائی چارےکی فضا ہمیشہ قائم و دائم رہے ۔پاکستان زندہ باد

 

یہ بھی چیک کریں

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ پاکستان بھر کے چینلز کی میڈیا ٹیمیں موٹر وے پہنچی پوئی ہیں۔ پروگرام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔