منگل - 4 اکتوبر - 2022

"خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام کا قانون اور نرسیں”رحیم یار خاں سے بلال حبیب کا مراسلہ

"خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام کا قانون اور نرسیں”

تحریر:بلال حبیب

مریضوں کو جہاں علاج معالجے کی جدید سہولیات میسر ہونا ضروری ہے وہیں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیئے ایکسپرٹ اسٹاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیئے نرسنگ کے شعبہ کی اہمیت و افادیت کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی، لیکن بدقسمتی سے اس شعبہ سے تعلق رکھنے والی خواتین نرسوں کو دوران نوکری کام کی جگہوں پر کئی قسم کی مشکلات، خوف اور جنسی حراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رحیم یار خان کے شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال میں اس وقت ہسپتال ذرائع کے مطابق 320 خواتین نرسیں تعینات ہیں جو کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کے تناسب سے بہت کم ہیں۔ شیخ زید ہسپتال میں تعینات ایک فی میل نرس نے نام نہ آنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ڈیوٹی کے دوران مریضوں کے ساتھ آئے لواحقین اور بعض اوقات خود مریض غیر ضروری تنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈیوٹی کے دوران مریضوں کی دیکھ بھال کے لیئے ساتھ آئے انکے دوست، بھائی یا رشتے دار دوستی لگانے کی آفر کرتے ہیں اور انسے موبائل نمبر بھی مانگتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں جنسی ہراسگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا اور انہیں پیسوں کی لالچ بھی دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو حالات اور معاشی مجبوری اُنھیں نوکری کرنے پر مجبور کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ نرسنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ایک اور نرس نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ اسکو شیخ زید ہسپتال میں کام کرتے کئی سال ہو چکے ہیں اور اس دوران ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر نے رات دو بجے کے بعد اپنے دفتر میں ملنے کے لئے کہا جس پر اس نے اپنی ساتھی نرسوں سے مدد مانگ کر جان چھڑائی اور بعد ازاں ہسپتال انتظامیہ کو تحریری شکایت دی جس پر ایک انکوائری کمیٹی بنی اور اس ڈاکٹر کا وہاں سے تبادلہ کر دیا گیا۔ ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کی سابقہ صدر ثمینہ خوشی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس وقت سب سے زیادہ نرسوں کو مریضوں کے ساتھ آنے والے لواحقین سے مشکلات آتی ہیں۔ نرسوں کے موبائل نمبر دھوکے سے لے کر یہ لواحقین اُنھیں پریشان کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر کوئی نرس شکایت لے کر آئے تو اسکو ہسپتال انتظامیہ حل کرنے میں مدد کرتی ہے اور ہراساں کرنے والے مریض یا لواحقین سے سختی سے پیش آتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شکایت کرنے والی نرسیں پولیس سے مدد نہیں لیتیں کیونکہ تھانے کے چکروں میں پڑنا انکے لیئے آسان نہیں ہوتا اور وہ انتظامیہ سے ہی اپنی شکایت پر کارروائی کرواتی ہیں۔اُنہوں بتایا کہ شیخ زید ہسپتال کے موجودہ میڈیکل سپرٹنڈنٹ اور پرنسپل انکے ساتھ اچھا تعاون کرتے ہیں تاہم ماضی میں کچھ میڈیکل سپرٹینڈنٹ نرسنگ اسٹاف کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں رکھتے تھے۔ شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال میں ورک پلیس ہراسمنٹ کے حوالے سے انسانی حقوق کی قائم کمیٹی کی چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نزہت رشید نے بتایا کہ انہیں اس کمیٹی کے لیے کام کرتے ہوئے ایک سال سے کم عرصہ ہوا ہے اور انہیں ابھی تک نرسنگ اسٹاف کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم اگر کوئ شکایت آئی تو وہ ضرور اس پر ایکشن لیں گی۔
خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی معروف قانون دان مائدہ صنم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پنجاب میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا ایکٹ 2010 ہے۔ یہ قانون کام کرنے والی خواتین کو ہر ممکنہ تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ مائدہ نے بتایا کہ اگر جنسی ہراسگی یا دیگر کوئی ہراساں کرنے کے عمل کی شکایت لے کر آنے والی نرس تھانے میں مقدمہ درج کروائے تو عدالتِ کے ذریعے سزا ملنا ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا ہراساں کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق کم سے کم جرمانہ دس ہزار روپے اور کم سے کم سزا چھ ماہ تک دی جا سکتی ہے۔صوبائی محتسب پنجاب کے ریجنل آفس رحیم یار خان میں جب اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو وہاں کے انچارج عبدالرشید نے بتایا کہ کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے جو ایکٹ 2010 پاس کیا گیا تھا اسکے حوالے سے خواتین کے لیئے خاتون محتسب کا ایک الگ ادارہ بنایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں وہاں رجوع کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ انکے پاس صرف سرکاری محکموں اور سرکاری کاموں کے متعلق شکایات آتی ہیں۔
صوبائی خاتون محتسب کے آفس میں جب اس سلسلہ میں معلومات کے لیئے رابطہ کیا گیا تو وہاں تعینات کنسلٹنٹ اسلم نے بتایا کہ رحیم یار خان سے کچھ عرصہ قبل ایک خاتون ٹیچر کا کیس آیا تھا۔ ٹیچر کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسے ہراساں کیا ہے،جس پر کارروائی کی گئی تھی۔ حالیہ شکایات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ راجن پور جیل میں تعینات ایک اہلکار
کے خلاف خاتون جیل اہلکارکی ہراساں کرنے کی درخواست ائی تھی جس پر ایکشن لیا گیا تھا اور مرد کو سزا کے طور پر راجن پور جیل سے رحیم یار خان جیل ٹرانسفر کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں وفاقی محتسب سیکرٹریٹ فار پروٹیکشن اگیسنٹ ہراسمنٹ (FOSPAH) میں تعینات وفاقی محتسب کشمالہ طارق سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ شکایات کے متعلق ہماری ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ٹوئیٹر پر مکمل معلومات موجود ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ آن لائن کمپلینٹ کی سہولت بھی موجود ہے اور اگر کوئی نہیں بھی آ سکتا تو وہ آن لائن شکایت درج کروا سکتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ویڈیو کانفرنسنگ کی بھی سہولت دی گئی ہے. تمام معلومات اور سہولیات کے لیے ویب سائٹ
www.fospah.gov.pk
کو وزٹ کر کے لے سکتے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ انکا ادارہ آگاہی کے لیئے رحیم یار خان میں سیمینار بھی منعقد کرے گا تاکہ وہاں کی ورکنگ خواتین کو بھی معلومات مل سکیں.

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔