منگل - 4 اکتوبر - 2022

ذمہ داری کا مظاہرہ کریں‌ افواہیں نا پھلائیں‌،اپنے اندر کے "نیب” کو جگائیں

کرونا وائرس اک عالمی وباء کی صورت اختیار کرگیا ہے،بلا رنگ ،نسل،مذہب وطن اس کی لپیٹ میں آنے والی نسل انسانی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے.ایسے میں سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہونے والی غیر مصدقہ خبریں خوف و خدشات میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی ہیں.لوگ انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے دانستہ یا نا دانستہ طور پر حکومتی اقدامات کو سبوتاژ کررہے ہیں.
اگر لوگ ماسک کا ذخیرہ کرکے دوسروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں تو حکومت اس وباء کی روک تھام کے اقدامات چھوڑ کر لوگوں کی اخلاقی تربیت پہ لگ جائے؟؟
پس تحریر وزیر اعظم پاکستان کی تقریر کا خلاصہ ہے”انکے بقول کرونا ایران سے پاکستان میں پھیلا۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے سکریننگ کا عمل 15 فروری سے شروع کیا جبکہ ملک میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا۔ اب تک ہم 9 لاکھ افراد کو سکرین کرچکے ہیں۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کیا کہ انہوں نے قوم پر آئی اس مشکل گھڑی میں آٹا اور چینی کی طرح اس بار بھی ذخیرہ اندوزی‘ اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت اور مہنگائی پیدا کرنے کی کوشش کی تو ریاست انکے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے کرونا وائرس سے نٹمنے کے انتظامات پر پاک فوج اور بلوچستان حکومت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کے حالات امریکہ اور یورپ والے نہیں‘ وہاں تو وسائل کی کمی نہیں جبکہ پاکستان پسماندہ ملک ہے‘ ہمیں بحیثیت قوم ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس مزید پھیلنے کا عندیہ دیتے ہوئے عوام پر تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ہر کوئی کرونا ٹیسٹ کرانے مت جائے‘ ہر کھانسی کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کوکرونا ہوگیا ہے۔ آپ پہلے اسکی علامات دیکھیں اور پھر کوئی اقدام اٹھائیں۔ انکے بقول پاکستان تو کجا‘ دنیا کے کسی بھی ہسپتال میں اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ ہر ایک کا ٹیسٹ کیا جائے۔ ”
ایسے میں صرف ایک بات مد نظر رکھیں کہ اس مصیبت کا محرک ہم اور ہماری نام نہاد ترقی ہے،اس سے چھٹکارا صرف اپنے گناہوں کی معافی کی طلب اور حریصانہ ترقی سےتوبہ میں‌مضمر ہے . ہتھیلی پہ سرسوں جمانے والی بات ہے کہ آج کا انسان خود سے ہی خوفزدہ ہوگیا ہے.منافقانہ روش کے ساتھ عبادتوں کا اثر ہے کہ ہم پہ عبادت گاہیں‌بند ہونا شروع ہوگئی ہیں.
ماہرین کی طرف سے جاری احتیاطی تدابیر پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں‌کو بھی ترغیب دیں لیکن خدا را "سوشل میڈیا کےمبلغ اور عملی زندگی کے منافق” نا بنیں.اندر کے” نیب” کو جگائیں .کسی محتسب کی ضرورت نا رہے گی انشاءاللہ.

یہ بھی چیک کریں

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ پاکستان بھر کے چینلز کی میڈیا ٹیمیں موٹر وے پہنچی پوئی ہیں۔ پروگرام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔