پیر - 6 فروری - 2023

"رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں”.تحریر :جاوید کیانی

رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں

کہتے ہیں کہ رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں ۔خونی رشتہ نیچرلی ہوتا ہے لیکن احساس کا رشتہ آپ نےخود قائم کرنا ہوتا ہے ۔
یہ وہ احساس ہے جب انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو دوسروں کی زندگیوں کے لیے باعث رحمت ۔اور اپنے لئے آخر میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے ۔بس ہمیں سمجھنے کی یہ ضرورت ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس پیدا کیسے ہوتا ہے ۔
یہ احساس تب پیدا ہوتا ہے جب کسی کی مجبوری کو آپ اپنی مجبوری سمجھیں گے ۔
کسی یتیم لاچار بیمار۔ غریب اور کسی مستحق کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کہ دیکھو گے۔
انسان ساری زندگی اپنی خواہشات کو پورا کرتے کرتے قبر کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس کی خواہشات ختم نہیں ہوتی ۔
اور نہ ہی انسان کبھی زندگی میں سکون پا سکتا ہے ۔
اس کے برعکس ۔
آپ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ کے دیکھ لو۔
کسی مسکین کو کھانا کھلا کے دیکھ لو ۔
کسی کے تن پر کپڑا مہیا کر کے دیکھ لو ۔
کسی کی بیمار پرسی کر کے دیکھ لو ۔
کسی کا دکھ سن کے دیکھ لو ۔
کسی کو اچھا مشورہ دے کے دیکھ لو ۔
دو بھائیوں کی آپس میں صلح کروا کے دیکھ لو۔
کسی کو معاف کر کے دیکھ لو ۔
کسی کے دکھ میں شریک ہو کے دیکھ لو ۔
کسی کے جذبات کی قدر کر کے دیکھ لو ۔
کسی کے آنسو پونچھ کے دیکھ لو ۔
اچھائی کو اچھائی تسلیم کر کے دیکھ لو ۔
برائی کو برائی کہیہ کے دیکھ لو ۔
ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو آپ کو سکون دے سکتی ہیں ۔ضرورت اپنے آپ کو بدلنے کی ہے ۔
ہم پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک آرام دہ زندگی کی تگودو میں آخر پر ایک کفن لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مختصر سے زندگی میں ایک کفن کی خاطرہم نے کیا کچھ نہیں کیا ۔
ہمارے بنگلے ہماری گاڑیاں ہماری کوٹھیاں ہماری جائیدادیں۔ہمارے بینک بیلنس سب دوسروں کے کام آئیں گے ۔
اگر تمہارے کام کوئی آنے والی چیز ہے تو وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی ہے یا تمہاری نیکی ہے ۔اگر زندگی میں آپ اپنی ذات کی خاطر جی رہے ہیں تو مرنے کے بعد آپ کا نام چند سالوں تک اپنے خاندان کی حد تک یاد رکھا جائے گا ۔
لیکن اگر آپ دوسروں کے لیے جی رہے ہیں ۔
تو آپ کا نام صدیوں تک یاد رکھا جائے گا ۔
آپ اپنے حلقہ احباب میں اپنے اردگرد نظر دڑاہیں۔ آپ کو ان لوگوں کے نام زندہ نظر آئیں گے جنہوں نے دوسروں کے لئے بھلائی کی ہے ۔
نہ کہ ان لوگوں کے نام جو دنیا میں آئے بچے پیدا کیا کھایا پیا اور مر گئے۔
اگر ہم نے یہی سیلفیش زندگی جی کر مرنا ہے
تو جانوروں کی لائف میں اور ہماری لائف میں کوئی خاص فرق نہیں ۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنا کے بھیجا ہے ۔ہمیں سوچنے سمجھنے محسوس کرنے کی صلاحیت دی ہے جو کہ جانوروں میں نہیں ۔
پھر ہم کیوں اپنی زندگی کو جانوروں کی طرح گزاریں۔ کیوں نا ہم اشرف المخلوقات بن کر گزاریں۔
یاد رہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی بھلائی اپنے بندوں کے ذریعے بھیجتا ہے ۔نہ کہ آسمان سے فرشتے اتار کر ۔
اللہ تعالی نے انسان کے ذریعے ہی انسان کی بھلائی رکھی ہے ۔
اور یہ بھلائی دوسروں کے لئے تب ہی ہو سکتی ہے جب ہم انسان بن کر سوچیں۔
میں اپنی تحریر کو بارش کے ایک قطرے کی مانند سمجھ کر لکھ رہا ہوں ۔جو قطرہ ساری زمین کو سیراب تو نہیں کرسکتا لیکن اپنے حصے کی جگہ کو نم ضرور کر دے گا ۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔