ہفتہ - 1 اکتوبر - 2022

"سفر حج ٢٠٢٠، عقیدہ ختم نبوّت اورسوشل میڈیا”سوشل میڈیا کی افوہواں پر اک تحقیقاتی تحریر ولید بن مشتاق کے قلم سے سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کی کامیاب کوشش

سفر حج ٢٠٢٠، عقیدہ ختم نبوّت اورسوشل میڈیا
سفر حج 2020 کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان سے حج کے مقدس سفر پر جانے والوں کی جانب سے ملک کے طول و عرض سے درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں مختلف نجی بینک وزارت کے زیلی دفاتر اس سلسلے میں شہریوں کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں گزشتہ چند روز سے ملک کے سماجی و مذہبی حلقوں میں ایک تشویش پائی جا رہی ہے کہ سفر حج سال ٢٠٢٠ کے لیے درخواست فارم میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ سب سے اہم یہ ہے کہ حج درخواست میں سے حلف نامہ ختم نبوت کو ختم کر دیا گیا ہے جس سے غیر مسلم گروہ کے افراد بھی حج سفر کے لیے اپلائی کر سکیں گے۔ تعزیرات پاکستان کے مطابق ایسا کوئی بھی شخص جو عقیدہ ختم نبوت یعنی حضرت محمد ﷺ کےنبی آخرالزمان ہونے پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک گروہ جو قادیانی،لاہوری یا مرزائی کے نام سے جانا جاتا ہے اسے آئین پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی افواہوں کے پیش نظر پاکستان میں مذہبی سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدیدغم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سفر حج ٢٠٢٠کے لیے درخواست فارم سے اقرار نامہ کا کالم مبینہ طور ختم کیا جانا ہے۔ حقیقت میں ایسا ہر گز نہیں ہے، سفر حج کے لیے وزارت مذہبی امور کی جانب سے دیے گئے خام فارم میں چند ایک تبدیلیاں ضرور کی گئی ہیں تاہم اقرار نامہ عقیدہ ختم نبوت کو ہز گز ختم نہیں گیا گیا۔ مختلف افواہوں کے پیش نظر ملک کے مختلف حصوں سے جاری کردہ درخواست فارمز کا بغور جائزہ اور تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہے کہ درخواست فارم کے ساتھ لف بینک رسید پر اقرار نامہ کا کالم دیا گیا ہے۔ اقرار نامہ کا متن بھی ایک اہم موضوع ہے جس پر بعض حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اسی تناظر میں اقرارنامہ کے متن کا بھی بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں ہر درخواست گزار سے عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھنے کا حلف لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے گردش کرتی افواہوں بلکل غلط ہیں جسکے مطابق اقرار نامہ کے متن میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ چند شرپسند عناصر کی جانب سے اس ضمن میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور انکے جذبات ابھارتے ہوئے شاید کوئی شرپسندی کی سازش کی جا رہی ہے۔ مسلم قوم کا عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہرگز قابل قبول نہیں۔ لیکن مسلمان دور حاضر میں تحقیق اور تصدیق کے عمل سے گزرنے کے بجائے لکیر کے فقیر اور سنی سنائی پر یقین کر لینے کے عادی ہو چکے ہیں جس سے نا صرف انکے ایمان کو ٹھیس پہنچانے کی گھناونی سازش کو رچائی جا رہی ہے بلکہ انکوبعض شرپسند عناصر اپنے زاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس لیے گزارش ہیکہ کسی بھی معاملے پر پہلے تحقیق یا تصدیق کے عنصر کو یقینی بنانے کے بعد اس پر اپنا ردعمل دیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی غلط اور من گھڑت افواہوں کو بغیر سوچے سمجھے اور تصدیق کیے شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ دشمنان اسلام کی وہ چالیں ہیں جن سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے شرپسند عناصر تواتر سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور ہمارے مسلمان دوست احباب آسانی سے انکی ان چالوں میں آ جاتے ہیں۔ حج درخواست فارم ملک کے تمام شہروں میں دستیاب ہیں کوئی بھی فرد واحد اپنی تسلی اور اصلاح کے لیے درخواست فارم کو حاصل کر کے اس کا بغور مطالعہ کر سکتا ہے جس سے تمام تر ابہام یقینا دور ہو جائیں گے

۔ یہاں ایک حدیث پاک کے مفہوم کا  حوالے دینا مناسب ہو گا جو ہم سب کئی دفعہ سن چکے ہیں۔ روایت میں ہے کہ حضور اکرمﷺ اپنی سواری پر تھے کسی نے پوچھا اس سواری کے کتنے پاؤں ہیں۔ یہاں پر حضورﷺ کا جواب رہتی دنیا کے نا صرف مسلمانوں پر انسانوں کے لیے اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ حضور اقدسﷺ سواری سے نیچے تشریف لائے اور ایک ایک پاوں کو گن کر کہا اس کے چار پاوں ہیں۔ حضورﷺ چاہتے تو برملا کہہ دیتے کہ یہ چوپایہ ہے لہذا اسکے چار ہی پاوں ہیں لیکن حضور نے ایک ایک پاؤں کو گن کر یہ تصدیق فرمائی۔ اس حدیث مبارکہ میں جو بیان ہے وہ تمام مسلمانوں اور انسانوں کے لیے ہدایت ہے کہ کبھی بھی مغالطہ میں نہ پڑیں۔ تحقیق و تصدیق کو اپنا شعار بنائیں تاکہ آپ گمراہی سے محفوظ رہیں۔ یہی اصول سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی ہے کہ کسی بھی خبر کی تصدیق کےلیے بغیر اس پر ہر گز یقین نہ کریں اور جتنا ممکن ہو سکے خود تحقیق کی طرف جائیں۔ دوسرا اہم نقطہ جو غیر مسلم کے سفر حج پر جانے کے حوالے سے ہے اسکے بارے مختصر بیان کرتا چلوں کہ پاکستان سے کسی بھی فرد کا سفر حج پر جانا اسکے عقیدہ ختم نبوت پر منحصر ہے۔ درخواست گزار کے لیے لازم ہے کہ وہ اقرار نامہ دے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھتا ہے بصورت دیگر اسے سفر حج کی قطعا اجازت نہیں۔ یہاں پر جو تشویش قادیانی لاہوری یا مرزائی گروہ کے حوالے سے پائی جا رہی ہے اسکی مکمل نفی ہو جاتی ہے چونکہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں لہذا انکے لیے سفر حج کسی صورت پاکستانی پاسپورٹ پر ممکن نہیں ہے۔ تاہم بھارت میں رہنے والے ایسے افراد جو قادیانی لاہوری ہا مرزائی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں انکے لیے ممکن ہے کہ وہ حجاز مقدس کی طرف سفر کر سکیں۔ بھارتی قانون کے مطابق یہ گروہ غیر مسلم نہیں ہے بلکہ مسلمان مذہب سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ اور ایک فرقہ ہے۔ کیونکہ بھارتی قانون میں لفظ مسلمان کی مکمل تشریح نہیں کی گئی اس لیے وہاں پر رہنے والے اس گروہ کے افراد کو مسلمان گردانا جاتا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا جو کہ مائنارٹی منسٹری کے ماتحت مسلمانوں کے لیے سفر حج کی سہولیات فراہم کرتی ہے اسکی جانب سے جاری کردہ حج درخواست کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی بھی بھارتی شہری جسکی پہچان مسلمان ہے وہ سفر حج کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور ضمن میں قادیانی لاہوری یا ایسا ہی کوئی بھی گروہ جو عقیدہ ختم نبوت کا انکاری ہے وہ بھی درخواست دے سکتا ہے اگر اسکی پہچان بھارتی قانون کے مطابق مسلم درج ہے۔ مزید براں حج کمیٹی آف انڈیا کے درخواست فارم میں حلف نامہ عقیدہ ختم نبوت بھی شامل نہیں ہے جسکے باعث یہ عین ممکن ہے کہ ایسا کوئی بھی گروہ سفر حج کے لیے درخواست جمع کرائے۔
پاکستان امن کا گہوارہ اور اسلام کا قلعہ ہے۔ یہ ملک رب کائنات کا ایک تحفہ اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔ اپنے ملک کو شر پسندوں کی سازشوں سے بچائے رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اداروں پر یقین رکھیں کویاہی یا غلطی کی صورت میں تحقیق و تصدیق کے بعد نشاندہی اور اصلاح کریں اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہوئے کوئی ایسا اقدام پر گز نہ کریں جس سے ہمارے ملک کو کوئی بھی خطرہ ہا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ دشمنان پاکستان اور دشمنان اسلام کی چالیں انشاء اللہ کبھی کامیاب نہیں ہونگی اور تاقیامت پاکستان اسلام کا قلعہ اور امن کا گہوارہ رہے گا۔ پاکستان کے ہر فرد کا دل دوسرے سے مذہب کے مضبوط رشتے سے جڑا ہے اور دشمنان لاکھ کوششوں کے باوجود اس کومٹانے کی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکی ہیں نہ ہو سکیں گے۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا ہر فرد اپنی زمہ داریوں کو بہم ادا کرے اور دشمنوں کی چالوں سے باخبر رہتے ہوئے انکے خلاف ہر ممکن اقدامات سے کرارا جواب دے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ہم سب ایک خدا کہ ماننے والے ایک نبیﷺ کے پیروکار اور راہ حق پر چلنے والوں میں سے ہیں جنکے خلاف کی جانے والے سازشیں فضل خدا، رب کائنات ناکام ہونگی اور دشمن ہمہشہ نیست و نابود  اور فضل ربی سے محروم ہی لوٹے گا۔

ذیل میں انڈیا اور پاکستان کے حج فارمز کا عکس دیا جا رہا ہے تاکہ تحریر کا ریفرنس ثبوت کا درجہ پا سکے

حج فارمز پاکستان

حج فارمزانڈیا

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔