منگل - 4 اکتوبر - 2022

سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اور ان کو ملنے والے "انعامات”

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی ترسیلات زر میں 528 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے، گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی شرح میں 4.13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا جنوری 2019-20ء کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں نے 13.302 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا جنوری 2018-19ء کے دوران ترسیلات زر کا حجم 12.774 ارب ڈالر تھا ۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی وصولی میں 528 ملین ڈالر یعنی 4.13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی ترسیلات زر میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ رقوم بھیجی گئی ہیں۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار ایک قومی ادارے کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں جس کی صحت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔بیرون ملک پاکستانیوں کو فخر ہے کہ پردیس کاٹ کر وہ نا صرف اپنے گھر والوں کی راحت کا سامان کرتے ہیں بلکہ معیشت کے پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں ۔تارکین وطن کی طرف سے جو پیسہ ملکی معیشت کا حصہ بنتا ہے اس کو خرچ کرنے کی پلاننگ میں ناکامی کا بدلہ تارکین وطن سے کیوں لیا جاتا ہے۔سارے قوانین اسی کے انتظار میں  ہی کیوں ہوتے ہیں۔ائیر پورٹ پہ پہنچتے ہی یا ملک سے واپسی پر احساس دلادیا جاتا ہے کہ پاکستان میں عوامی ملازم عوامی مالک ہیں۔جو آدمی بیرون ملک ڈرائیونگ کرتا ہے اگر اسکے پاس  ویلڈ لائسنس ہے تو اسکو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا۔کیا وہ پاکستان پہنچ کر گاڑی چلانا بھول جاتا ہے۔بیرون ملک اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو اسکی مدد کرنے کے لئے  سفارتی عملے کے پاس مربوط پلان کیوں نہیں ہوتا۔دنیا چاند پہ پہنچ رہی ہے اور تارکین وطن کو اپنا بنک اکاونٹ کھلوانے کے لئے پاکستان جانا پڑتا ہے۔تارکین وطن کے پاس کسی ایم پی ایم این کی سفارش نہیں ہوتی اور نا ہی سفارش والی کرنسی بیرون ملک چلتی ہے وہ اپنے زور بازو سے اپنی دنیا بناتے ہیں پھر بھی گلستاں میں بہار آنے پہ مسکراتے ہیں لیکن ان کے وجود کی یاددہانی صرف سٹیٹ بیک ہی سالانہ بنیاد پہ کرواتا ہے ورنہ

آنکھ اوجھل پہاڑ اوجل والا معاملہ ہے

تارکین وطن کی خدمات بھی پاکستان میں رہنے والے ملکی خدمت گاروں سے کسی طور کم نہیں بس سکیل نہیں ہے کہ وہ رعب جما سکیں کہ میں 20ویں سکیل کا افسر ہوں مجھے پروٹوکول چاہیے۔

ارباب اختیار ان گزارشات پہ کوئی ایکشن لیں گے تو ان کی بھلے بھلے بھی سب سے ذیادہ تارکین وطن نے ہی کرنی ہے۔اور بے لوث کرنی ہے۔

 

یہ بھی چیک کریں

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ-تحریر-افشاں نوید

تشیع الفاحشہ پاکستان بھر کے چینلز کی میڈیا ٹیمیں موٹر وے پہنچی پوئی ہیں۔ پروگرام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔