اتوار - 2 اکتوبر - 2022

عالمی ادارہ صحت کا کورونا وائرس کے حوالہ سے مجرمانہ جعلسازیوں بارے انتباہ بعض جرائم پیشہ عناصرکرونا وائرس پھیلنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رقم ہتھیایا حساس معلومات چراسکتے ہیں، ڈبلیو ایچ او

جنیوا ۔  (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) نے متنبہ کیا ہے کہ بعض جرائم پیشہ عناصرکرونا وائرس پھیلنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رقم ہتھیا یا حساس معلومات چرا سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بعض عناصر خود کو ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں کی حیثیت سے متعارف کروا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھی کسی فرد یا تنظیم کے ذریعہ رابطہ کر کے دعویٰ کرے کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے ہے ، تو وہ ان کی تصدیق کے لئے اقدامات کرے۔ مشکوک کیسزکی مثالوں میں لاگ ان کی معلومات طلب کرنا ، بغیر ای میل کے منسلکات بھیجنا ، لوگوں کو www. who.int کے علاوہ کسی دیگر ویب سائٹ سے مواد بھیجنا اور ہنگامی ردعمل کے منصوبوں یا مالی امداد کی اپیلوں کے لئے براہ راست چندہ مانگنا شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ ان میں سے کبھی بھی ایسا کوئی کام نہیں کرتا اور اداروں اور عوام الناس کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کی ای میلز ، ویب سائٹس ، فون کالز ، ٹیکسٹ میسجز اور یہاں تک کہ فیکس پیغامات کی شکل میں بھی آسکتے ہیں۔اسکیمرز کے ذریعہ بھیجے گئے خراب ای میلز کو “فشنگ” ای میل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے آتے دکھائی دیتے ہیں ، اور حساس معلومات جیسے صارف کے نام اور پاس ورڈ کے لئے پوچھتے ہیںوہ صارفین کو مشکوک روابط پر کلک کرنے کے لئے کہتے ہیں ، ان ہدایات پر عمل کرنے سے مجرموں کو سافٹ ویئر انسٹال کرنے کا موقع ملتا ہے جو انہیں کمپیوٹر تک رسائی دے سکتا یا نقصان پہنچا سکتا ہے چونکہ بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کرونا وائرس کیبارے میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیںا س لئے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اوراپنے احباب کی حفاظت کے طریقہ کار کے بارے میں جاننے کے لئے سرکاری ذرائع (جیسے ڈبلیو ایچ او ویب سائٹ) کی تلاش کریں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ میں وائرس سے متعلق جامع ، باقاعدگی سے اپ ڈیٹ اور مستند ماہر معلومات ہیںہفتہ کو شائع ہونے والے ایک ٹویٹ میں ، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ، ٹیڈروس نے اعتراف کیا کہ بہت سے لوگ کرونا وائرس کے بارے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں ۔ انہوں نے تیاری کی اہمیت ، اور کام ، سکول یا عبادت گاہوں پر محفوظ رہنے کے منصوبے بنانے پر بھی زور دیا۔ ہفتے کے روز ، ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ دو نئے رکن ممالک (میکسیکو اور سان مارینو) نے جمعہ اور ہفتہ کے درمیان COVIDـ19 کے کیسز کی اطلاع دی ہے جبکہ کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تصدیق شدہ کیسوں کی اکثریت (79394) چین میں ہے۔ دیگر 52 متاثرہ ممالک میں کرونا وائرس کے6009 کیسزہیں۔ چین میں اس وائرس سے اب تک2838 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

کرونا میں مبتلا امریکی صدر کو ہسپتال منتقل کردیاگیا

صدارتی انتخابات سے ایک ماہ قبل کرونا بیماری میں مبتلا امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔