پیر - 6 فروری - 2023
"عام آدمی یا عوامی مسائل"تحریر کاشف گجر

"عام آدمی یا عوامی مسائل”تحریر کاشف گجر

عام آدمی یا عوامی مسائل

بڑھتی ہوئی مہنگائی،بیمار معیشت اور بیروزگاری موجودہ حکومت تحفے ہیں۔ کوئی انکار کرے، تسلیم نہ کرے، حقیقت سے منہ موڑے، آنکھیں چرائے، غلط

بیانی کرتا رہے، عوام کے سامنے حقائق کو مسخ کرے، تروڑ مروڑ کر پیش کرے جو بھی کرتا رہے، دن کو رات اور رات کو دن بولتا رہے لیکن یہ حقیقت

تو نہیں بدل سکتی
بے روزگاری اور غربت کے بڑھنے سے امن و امان کے حالات کا خراب ہونا فطری امر ہے جب عام آدمی کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہو گا، اس کے ذہن پر منفی خیالات کا قبضہ ہو گا، سامنے اندھیرا نظر آئے گا تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی قانون توڑے گا، جب عام آدمی اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری نہیں کر سکے گا، کھانے پینے کی چیزیں اس کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی تو اس کے پاس چھینا جھپٹی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ ان حالات میں نوجوان طبقے کے سب سے زیادہ متاثر ہونے امکانات ہیں۔ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو گی تو کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی، کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا، کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
معیشت کی بحالی اہم ہے، لٹیروں کو سزائیں دینا بھی اہم ہے، مافیا کو لٹکانا اہم لیکن ان سب کاموں سے زیادہ اہم عام آدمی کے مسائل حل کرنا ہے۔ عوامی طاقت کے بغیر حکومت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، عوامی حمایت کے بغیر حکومت داخلی و خارجی معاملات کو بہتر نہیں بنا سکتی، جب تک عام آدمی کی حمایت حاصل نہیں ہو گی، عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے، عام آدمی کی زندگی آسان نہیں ہو گی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا یا امن و امان کو برقرار رکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک عام آدمی کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے سکی۔ اس عدم توجہی کی ایک سو توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں لیکن کوئی بھی عذر بھوک ختم نہیں کر سکتا، کوئی دلیل پیاس نہیں بجھا سکتی، کسی بھی قسم کی بات چیت آٹے کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی، کوئی بھی دلاسہ گھی کا متبادل نہیں ہو سکتا، کوئی بھی تقریر دالوں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی، کسی بھی شخصیت کا انٹرویو یا اس کے خیالات سبزیوں اور پھلوں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے
 کیا وجہ ہے کہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے بات چیت ہو جاتی ہے لیکن اشیاء خورد و نوش کی کم قیمتوں پر فراہمی جیسا اہم مسئلہ نظر انداز ہوتا رہا ہے۔
عام آدمی کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے، تمام ضروری اشیاء کی بغیر رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ادارہ قائم کیا جائے جو ہر قسم کے سیاسی اثرورسوخ سے آزاد ہو، ایسا ادارہ جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔
اللہ سے دعا ہے ہمارے گناہ معاف کردے۔اور ہمیں کوئی عوامی لیڈر عطا کر جو عوام کا سوچے عوام کی بھلائی کے لیے کام کرے

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔