اتوار - 2 اکتوبر - 2022

"علم کو نظریات کی بھینٹ نا چڑھاؤ” عملی قلمکار -محمد سرور بجاڑ کے قلمی اقدامات


تحریر:محمد سرور بجاڑ

دوستو یوں تو اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو زبان گنگ اور آنکھیں حیرت سے پھیل جاتی ہیں۔ یہ زمین و آسمان یہ چاند تارے سورج یہ شجر و حجر فقط دنیا کی ہر شئے اس خالق حقیقی کا پتا دیتی ہے۔ اس خالق حقیقی اس معبود حقیقی کا جسے ہم اللہ کہتے ہیں۔
اور پھر یہ تمام اشیاء اللہ تعالی نے انسان کو نعمت کر دیں یوں تو انسان کی اوقات ہی نہیں کہ وہ اللہ تعالی کی عطا کردہ شئے کی نعمتوں کی درجہ بندی کر سکے۔ ان کا شکر ادا کرنا تو اس سے بھی بڑی معرکہ جوئی ہے۔مگر پھر بھی مجھ جیسے کئی انسان صدیوں پہ محیط اس سفر پہ جاری ہیں کہ تعین کر سکیں دراصل اس اللہ تعالی کی عطا نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت کیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے مختلف چیزوں کو اپنی دانست کے مطابق بڑی نعمت گردانا۔اس میں ہزار اختلافات ہیں اور ہونے بھی چاھئیے انسان اپنی زہنی صلاحیت کے مطابق اور انسانی کمزوری کیساتھ یہ فیصلہ کرتا ہے۔ بعض اوقات اس خاص فکر پر بھی انکی خواہشات ان کے دماغ پر پہرہ جمائےہوئے اس کی سوچ کو قید کر لیتی۔

مثلا  جہاں بیمار آدمی کے لئیے سب سے بڑی  نعمت صحت و تندرستی ہے وہاں ایک صحت مند مگر غریب آدمی کے نزدیک دولت جیسی نعمت پورے عالم میں موجود نا۔۔ کوئی تنہائی کا باسی دوستوں اور رشتوں کی سی نعمت کو عظمت سے منسوب کر رہا ہے وہیں کچھ ان تمام لوگوں کو جسے دوست اور رشتے دار کہتے ہیں ایک ہجوم بیان کرتے ہوئے گوشہ تنہائی کو نعمت اولی قرار دینے پہ بضد ۔
الغرض انسان کی مجبوری اور بے بسی جہاں انتہا کو پہنچے وہاں اس کے لئیے نعمت کے معانی ہی نہیں بدلتے ان کے درجات میں بھی یکسر تبدیلی آ جاتی ہے۔۔۔ قارئین میرے نزدیک اس دنیا میں خدا کی طرف سے  عطا کردہ کروڑوں نعمتوں میں سب سے اعلی و ارفع نعمت "ایمان” ہے۔ اس سے بڑھکر کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی کہ اللہ تعالی نے ہمیں ایمان کی نعمت سے نوازا اور اپنے محبوب آقا دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت میں پیدا کیا۔ اس پر مجھ خاکسار جیسے جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایمان اور مذہب اسلام جیسی نعمت کا کوئی بدل اس کائنات میں موجود نہیں۔
میں اس درجہ بندی میں باقی لوگوں کی طرح کچھ بے علم ہوں بس ایمان کی دولت کو پاکر اس کے آگے سجدہ شکر ادا کرنے پر اکتفا کر لینا مناسب سمجھتاہوں ۔۔۔ اس کے بعد میں "علم” کو سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہوں مگر یہاں علم کی تعریف کرنا بہت لازم ہے۔ یہ واضع کرنا کہ علم دراصل کیا ہے۔ یہی سب سے بڑی مشکل۔ علم کی جو تعریف علماء اکرام اور مفکر اور فلسفی بیان کرتے ہیں وہ ہے "جاننا” "حقیقت کا ادراک” درست درست اور حتمی تلاش کا نام علم  ہے۔۔علم کے حصول کی منزل کا تعین تو کیا ہی نہیں جا سکتا مگر یہ بات کہنا بہت لازم ہے کہ علم کو ثبت نہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی بھی چیز کسی بھی جہت میں کی گئی تحقیق حتمی اور مکمل ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر اس نظریہ کو قائم کر لیا جائے کہ بس یہی علم جو مجھ تک پہنچ گیا یا جس تک میں پہنچ گیا وہی آخر اور حتمی ہے تو دنیا کا طبعی نظام رک جائے۔ترقی ناگزیر ہو جائے نت نئی ایجادات کا سلسلہ رک جائے اسی طرح معاشرتی اقدار کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے۔

 خود دین اسلام نے بھی اس سلسلہ میں انسان کو خاص نصیحت فرمائی ہے اور اہل ایمان کو تنبہیہ کی ہے کہ وہ تدبر کرے غور و فکر کرے اور انسان کو اس دنیا کو تسخیر کرنے پر قائل کیا ہے۔
جناب اعلی میں سمجھتا ہوں کہ یہی ٹھہراو  ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی برائی بھی ہے کہ ہم علم کی طلب اور اس کے حصول میں روایت پسند ہیں۔ ہم ایک خاص وقت تک علم حاصل تو کرتے ہیں مگر جلد ہی ایک مقام کو منزل جان اس مقام پر پڑاو ڈال لیتے ہیں۔اور پھر اس نظریہ پہ ساری عمر گزار لیتے ہیں کہ میں سب سے با علم ہوں۔ اور میرا علم ہی حقیقی اور قطعی ہے۔ اس کے سامنے آنے والے تمام دلائل کو رد کرنا ہمارا اولین مقصد بن جاتا ہے۔اس کے بر  عکس علم تو مسلسل کھوج کا نام ہے جہاں یہ سلسلہ ختم ہوا وہاں انسان کا زوال اس کا مقدر بننے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے قوموں کےرویوں میں شدت آنے لگتی ہے۔ وہ کسی کے علم کو مانے یا نا مانے یہ اس کا حق مگر کسی دوسرے کے علم کو رد کرنے کے لئیے دلائل اور مستند عقلی دلائل لائے یہ اس کا فرض بھی ہے۔ مگر ہمارا معاشرہ بالخصوص اس بیماری میں مبتلا ہے بلکہ خود فریبی کی حد تک مبتلا۔ یہاں ہر انسان عقل کل کی خود ساختہ سند سے لبریز نظر آتا ہے۔ جس کے طفیل دن بدن شدت پسندی اور نفرتوں کا جنم ہو رہا ہے۔ ہم اس معاملہ میں اس درجہ خود پسند ہیں کہ اپنے مخالف نظریات کی بات تک سننے سے گریزاں۔ ہم پیروی بھی صرف انکی کرتے ہیں جو ہمارے ہم نظر ہم خیال ہیں۔ ہونا تو یہ چاھئیے تھا کہ ہم اپنے مخالفین کے موقف کو صبر سے سنتے اور ان کو جواب دینے اور قائل کرنے کے لئیے جستجو کرتے۔اور اس عمل میں مزید علم کی دوڑ میں شامل ہوتے۔ مگر نہیں ہم اس سلسلے میں بھی صرف کسی کو نیچا دکھانے کے لئیے ہی چند نئی جلدوں کے کئ صفحات  دیکھتے ہیں ۔جس سے سوائے اس کے کچھ حاصل نہیں ہو پاتا کہ کسی کو رسواء کیسے کیا جائے۔
میں ناقص العقل ناقص العلم آدمی بھی خود پر افسوس ہی کر سکتا ہوں کہ اس معاملہ پر میری نظر شاید چیزوں کی نشاندہی کر سکتی ہے ۔مگر اس کا کوئی حل بتانے سے قاصر ہوں۔اور سچ کہوں تو مجھے بعض دفع محسوس ہوتا ہے کہ میں مسیحائی کیسے کروں میں تو خود اس بیماری میں مبتلا ہوں۔ میرا علم بھی تو شاید  یکطرفہ ہے ۔میرا علم بھی تو شاید عاشقین جیسا ہے جو معشوق کی زبان کا اسیر ہو اور بس ۔
میرا ماننا ہے کہ دنیاوی علم پر نظریات کی مہر ثبت کرنا سب سے بڑی کم علمی ہے کیونکہ علم حاصل کیا جاسکتا ہے مگر جب کوئی نظریہ قائم ہو جائے تو اس سے آگے اور دائیں بائیں سفر نہیں کیا جا سکتا۔اسلئیے کم ازکم دنیاوی علم کو نظریات کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے حق کی تلاش کو جاری رکھا جانا ہی معاشرے اور ملکوں کی سالمیت کا اصول ہوا کرتا ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا کرے۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔