اتوار - 2 اکتوبر - 2022

عورت مارچ، جنگ یا محض ایجنڈا ؟؟؟ماریہ خٹک کا "ڈیلی ویب ڈیسک”کے لئے اظہار خیال

  اظہار خیال:
عورت مارچ، جنگ یا محض ایجنڈا ؟؟؟
جب کوئی انسان کسی بھی چیز کے لئے اپنی آواز بلند کرتا ہے تو وہ سیاسی ہو، سماجی ہو، معاشرتی ہو، یا حقوق سے متعلق ہو اس انسان کے  الفاظ اس مقصد کے ترجمان ہوتے ہیں جیسا کہ آجکل کا سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا یہ جملہ ” میرا جسم میری مرضی ” اگر ہم فرض کر لیں کہ ان نعروں کا مطلب خواتین اپنے اصل حقوق حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تو کیا اس کے اظہار کے لئے یہی شرم آمیز الفاظ باقی رہ گئے۔۔۔؟؟ کچھ روز قبل  ایک نجی ٹی وی چینل پر ہونے والے پروگرام میں جب پاکستانی رائٹر اور ڈایکٹر خلیل الرحمان قمر صاحب نے ایک سماجی کارکن خاتون کو مداخلت اور بار بار میرا جسم میری مرضی جیسے بے ہودہ الفاظ کے جواب میں  کہا کہ "تمہارا جسم ہے کیا”؟ تو خاتون اینکر نے ان الفاظ کو بھرپور تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ کہا کہ آپ کیسے ایک عورت کو ایسے کہہ سکتے ہیں اس کے جسم کے بارے میں؟ بظاہر دیکھا جاۓ تو اعتراض "جسم” کا لفظ استعمال کرنے پر ہے  تعصب پسندی تو یہ ہے کہ ان کو عورت کے منہ سے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانا بڑا پرسرور محسوس ہو رہا تھا مگر مرد کے منہ سے اس پر تنقید جیسے ان کے دلی ارمانوں کا خون کرتا ہوا محسوس ہوا ۔اگر اسی نعرے کو بنیاد بنا کر ہر کوئی اپنے مؤقف پر دلالت کرنا شروع کر دے پھر اگر کوئی مرد و عورت سرعام نازیبا حرکات کرتے ہوۓ پکڑے جائیں تو وہ بھی جواز پیش کر سکتے ہیں کہ ان کا جسم ان کی مرضی۔۔ پھر معاشرے میں سب برہنہ ہو کر پھرنا شروع کر دیں اور جواز پیش کر دیں کہ میرا جسم میری مرضی۔۔ اسی طرح آزادی اظہار راۓ کو اس نعرے میں تبریل کر دیا جاۓ کہ "میری زبان میری مرضی” ۔۔ تو پھر جو انسان چاہے بھرے مجمعے میں غلیظ گالم گلوچ نکالنا شروع کر دے ، کیونکہ اس کی زبان اس کی مرضی۔  کسی بھی چیز کی آزادی ہو چاہے حقوق کی ہو یا اظہار راۓ کی ہو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مادر پدر آزاد ہیں ، اب کے جو جی میں آۓ کریں، آپ پر اخلاقی اور معاشرتی حدود ہمیشہ لاگو رہیں گی۔ زبان کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ اب آپ غلیظ گالم گلوچ دینا شروع کر دیں۔آپ کواخلاقی حدود کی پاسداری کرنی ہو گی۔۔اگر حقوق کی آزادی سے مراد حقوق حاصل کرنے کی جنگ ہے تو پلے کارڈز میں جن حقوق کے حصول کے لئے نعرے بلند کیے گئے اس کے مطابق تو اسی حق کا حصول نظر آتا ہے کہ میں  آپ کی کسی چیز کی ذمہ داری اٹھانے کی پابند نہیں ، اپنا کھانا خود گرم کرو، اپنی جرابیں خود ڈھونڈو، اپنے کپڑے خود استری کرو، میں تمھارے لئے بچے پیدا نہیں کر سکتی۔مطلب یہ کہ اب آپ پر کسی بھائی باپ، شوہر کا حق نہیں۔ سب آپ کی اپنی مرضی پر ہو گا اور آپ کی جنگ اسی حقوق کی ہے تو ۔۔ ایسے تو مرد کہنا شروع کر دیں میری کمائی میری مرضی میرا جسم میری مرضی۔۔ سب اپنے حدود و قیود کی قید سے آزاد ہیں اب جو چاہے کریں، کوئی باپ اولاد کی پرورش پر اس کی تعلیم و تربیت کے اخراجات اٹھانے سے انکار کر دے، پھر تو خاندانی معاشرتی سماجی نظام سب درہم برہم ہو جائیں۔عورت مارچ میں اگر ان حقوق کے لیئے آواز اٹھائی جائے جن حقوق سے اسلام نے عورتوں کو نوازا ہے تو بہت سی وہ مائیں اور بہنوں کو فائدہ حاصل ہوگا جن کو عورت ہونے کی سزا دی جاتی ہے جن کو جائیداد کی فہرست سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ۔جن کو بیٹی پیدا کرنے پر زندہ زمین میں دفن کر دیا جاتاہے جن کو زندہ جلا دیا جاتا ہے صرف جسم کی نیلامی کا نعرا بلند کرنا ان مخصوص خواتین کی پست زہینت کی نشانی ثابت ہوتی  ہے۔ ۔۔۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔