منگل - 4 اکتوبر - 2022

قانون کا خوف یا ذاتی اخلاقیات”۔ ،انسان بننے کیلئے کیا چاہئے؟؟.ماریہ خٹک کی تحریر”

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ذاتی اخلاقی عمل کی خاصی کمی پائی جاتی ہے۔ ہم چلتے پھرتے ،اٹھتے بیٹھتے ایک ہی بات سنتے ہیں ،ہمارے ملک میں قانون ٹھیک ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میرا آپ سب قارئین سے سوال یہ ہے کہ کیا صرف قانون کے درست ہوجانے سے کوئی بھی معاشرہ درست ہو سکتا ہے ؟ ہمارے ملک میں دیکھا جائے قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عمل نہیں کیا جاتا ۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کیا۔ ہم میں اخلاقی تربیت کی اتنی کمی ہے کہ ہمیں غلط شے بھی درست لگتی ہے اگر یہی بات ہے تو اخلاقی عمل تو ویسے بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب دیکھا جائے ہمارے ملک میں قانون تو موجود ہے لیکن صرف غریب کے لیئے لیکن اس کے باوجود بھی اسی طبقے میں جرائم کی روک تھام کی کمی ہے۔ قانون آپکو ایک حد تک عمل کروا سکتا ہےاس کے آگے انسان کا ضمیر ہی غلط اور صحیح میں فرق کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ دودھ میں ملاوٹ کرنا ہمارا ذاتی عمل ہے کوڑا دان موجود ہونے کے باوجود کچڑا جگہ جگہ پھینکانا،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ،رشوت لینا اس جسے بے شمار وہ سارے فعل جو ہمارے ذاتی اخلاق کا حصہ ہی ان سب کاموں کا ذمہ دار قانون کے سر ڈالنا بھی ہمارے ضمیر کی ڈھٹائی ہے۔ ہمارے ملک میں چوریاں ڈکیتیاں ، قتل ، اغواء کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔ زینب کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو پھانسی بھی دی گئی۔ مطلب یہ ڈر تو ہے کہ جو کوئی بھی یہ حرکت کرے گا اس کو یہی سزا دی جاۓ گی، اس قانونی ڈر کے باوجود اس کے بعد بھی کتنے مزید کیسز ہوۓ ۔ تو قانون کے ڈر سے یہ سب ختم کیوں نہیں ہو گئے؟ قانون کا ڈر تو موجود ہے پھر بھی ایسے کیسز کیوں رپورٹ ہوتے ہیں ؟ اسکا صرف ایک جواب فہم میں آتا ہے کہ آپ کے اخلاقی عمل کا تعلق آپ کے ضمیر سے ہے، جب تک اخلاقی عمل آپ کو اندر سے غلط کام پر نہیں جھنجھوڑتا تو کسی بھی حوالے سے قانونی رکاوٹیں اور ڈر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ایک سال میں ہم اپنی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لئے اندرون و بیرون ملک سفرکرتے ہیں پھر ہمارا یہ سفرمعاشرے تو کیا اپنی ذات تک پہ بھی اثر کیوں نہیں چھوڑتا

من حیث القوم کیا ہم احساس برتری کا شکار تو نہیں ہو گئے۔کیونکہ ہمارے بظاہر نیک اعمال بھی دوسروں کے لئے مثال بننے سے قاصر ہیں۔شاید ہم پتھر کے زمانے کے تعاقب میں ہیں!!!!!۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔