اتوار - 2 اکتوبر - 2022

متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کچھ دوستوں کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔

جیو نیو ز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پہلے دن پی ٹی آئی سے کہہ دیا تھا کہ صحیح طرح گِنا نہیں تو آپ کو ہمیں تولنا پڑ جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو وزارت کے لیے ایم کیو ایم کی ضرورت تھی، ہم نے وعدے پورے کیے، پی ٹی آئی نے مطالبات پورے نہیں کیے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ میں پہلی دفعہ ہی جب وزیر بنا تھا غلط بنا تھا  جبکہ ایم کیو ایم نے وزارت کے لیے میرا نام نہیں دیا تھا، ہم نے امین الحق اور محمد علی اقبال کا نام دیا تھا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ لوگوں کی مبارکباد سے پتا چلا تھا کہ مجھے وزیر بنا دیا گیا، میں نے جہانگیر ترین کو فون کیا انہوں نے کہا کہ منع نہیں کیجیے گا، جبکہ ہم نے جو دو وزارتیں مانگی تھیں اس میں وزارت قانون نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہم سے کہا کہ فروغ نسیم چاہئیں، ہم نے کہا آپ اپنے کوٹے پر بنا لیں، جبکہ تحریک انصاف کو انصاف کی وزارت کے لیے ایم کیو ایم کی ضرورت تھی۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کا سب سے بڑا مینڈیٹ کراچی سے ہے جو ہم نے دیا، اگر معاملات طے ہونے کے بعد دوبارہ وزارت میں جانا پڑتا ہے تو وہ فرد میں نہیں ہو ں گا۔

یہ بھی چیک کریں

پنوعاقل: سینئر وکیل ایڈووکیٹ سردار قربان کلوڑ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف شہید بھٹو کے کارکنان کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ، نعرہ بازی

پنوعاقل: سینئر وکیل ایڈووکیٹ سردار قربان کلوڑ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے خلاف شہید بھٹو کے کارکنان کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ، نعرہ بازی

پنوعاقل(رپورٹ پرنس امجد گھوٹو) سینئر وکیل ایڈووکیٹ سردار قربان کلوڑ پر ہونے والے قاتلانہ حملے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔