جمعرات - 2 فروری - 2023
"مری زمین ترے آسماں سے چھوٹی ہے"تحریر ادعیہ وہاج

"مری زمین ترے آسماں سے چھوٹی ہے”تحریر ادعیہ وہاج

مری زمین ترے آسماں سے چھوٹی ہے
لپیٹ لے یہ وبا کے خرام کا موس

(جمیل الرحمن)

انسان فطرتاً حساس پیدا ہوا ہے۰ وہ اپنے اردگرد کے ماحول, رنج و راحت، تہذیب و تمدن، عیش و نشاط، سائنس، ٹیکنالوجی، ترقی غرض کے زندگی کے بیشمار زاویوں کو دیکھتا ہوا پروان چڑھتا ہے۰ دستورِدنیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر شے اپنی ترتیب بدلتی ہے اور رب العزت نے انسان کی ایسی پروگرامنگ کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیتا ہے اور ہر گزرتا ہوا دن نئے آنے والے دن کے لئیے ایک گزری یاد کی حیثیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۰
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خوف نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اسی بدلاؤ نے ازان میں حي على الصلاة، حي على الفلاح کو صلوا في بيوتكم میں تبدیل کردیا ہے۰ ازان میں مسجد کی طرف بلانے کے بجاۓ گھروں میں نماز قائم کرنے کی تلقین بلاشبہ کورونا کی وباء کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم ہے مگر اسکے ساتھ ہی سوچنے سمجھنے والوں اور باجماعت نمازیوں کے لیئے ایک بڑی تبدیلی ہے۰
آج مؤزن کی آواز کانوں میں پڑتے ہی بچپن سے لے کر اب تک کی یادوں نے جیسے دل و دماغ پر دستک دینی شروع کردی۰ بچپن کا وہ دور جب سکھایا گیا تھا کہ مؤزن کی آواز آتے ہی خاموشی اور توجہ سے ازان کو سننا اور ازان کے ختم ہوتے ہی دُعا مانگنی ہے۰ اس کے بعد نماز ادا کرنی ہے۰ اُس وقت سے لے کر آج تک والدین کے گھر سے سسرال ، سیر و تفریح ، کام کاج کے سلسلے میں ملک سے باہر غرض کہ دنیا کے جس حصّے میں جب بھی جانا ہوا ہمیشہ ہی رہائش کے بلکل ساتھ ہی مسجد ہوتی تھی۰ چاہے وہ گلشن اقبال ( کراچی) میں والدین کے گھر کے ساتھ والی مسجد ہو یا سسرال کے بلکل برابر نعمانیہ مسجد ، سیر و تفریح کے لیے جوہانسبرگ میں قیام کے دوران کرک اسٹریٹ Kerk Street Mosque ہو یا دبئی کے ہوٹل کے نزدیک شیخ زاید مسجد یا پھر کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا ہوا تو گیسٹ ہاؤس کے ساتھ مسجد حتٰی کی پاکستان سے سعودی عرب آنے کے بعد جدہ میں کنگ فہد ہاؤسنگ کمپاؤنڈ میں رہائش ملی تو کمپاؤنڈ کے ساتھ ہی مسجد۰ بچپن سے لے کر آج تک نماز کے اوقات میں ناصرف پوری ازان سنی بلکہ ہر ازان کے بعد باجماعت نماز کی تلاوت سے لے کر دعاؤں تک کانوں کو مؤزن کی آواز پہنچتی رہی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب مسجدوں سے صلوا في بيوتكم کی آواز اداس کردیتی ہے کیونکہ اس وباء کے پھیلاؤ کےسبب نا تو اب ازان کے شروع ہوتے ہی نمازیوں کے مسجد کی طرف بڑھتے ہوۓ تیز تیز قدم کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے اور نا ہی مسجدوں سے تلاوت کی آواز سنائی دیتی ہے۰
اب وقت ہے کہ مل کر دُعائیں کی جائیں ، مثبت سوچ کو اپنایا جائے اور اپنے ہر عمل پر غور و فکر کیا جاۓ۰ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب مومن کو کوئی تکلیف یا بیماری لا حق ہوتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرماتا ہے”۰ دعا ہے کہ اب تماشائے خزاں اختتام پذیر ہو رب کے کرم سے بہار آجاۓ۰ اور کورونا وائرس کی وباء سے دنیا کو نجات مل جاۓ اور ایک بار پھر ہماری مسجدیں آباد ہوجائیں۰

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔