اتوار - 2 اکتوبر - 2022

مہنگائی کا حل.

تحریر :شوکت علی

بارش کے قطرے درختوں کے پتوں کا گیلا کرتے زمیں  بوس ہو رہے تھے،،، ٹھنڈی ہوا جنوری کی سرد رات کو مزید ٹھنڈا کر رہی تھی،میرے سامنے لکڑی کی کرسی پر بیٹھا وہ غمگین لہجے میں ملکی مسائل پر باتیں کر رہا تھا،،،  سامنے شیشے کی میز پر کافی کے دو کپ رکھے ہوے تھے،میں نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے اسے کہا یہ مسائل 73 سالوں سے چلتے آرہے ہیں ان پر پریشان نہ ہو،،،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،،، دو وقت کی روٹی کھانا دشوار ہوگیا ہے،،، لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ہیں،،، اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا؟  میں نے کافی کا گھونٹ بھرا بارش کے پانی سے سامنے کھڑکی کا شیشہ دھندلہ ہو گیا تھا،،، اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا،،، عوام کو خود اس مہنگائی کا حل نکالنا چاہیے،،، سات عشروں سے ہر حکومت مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا تی آئی ہے،،، لیکن مہنگائی ختم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے،،، مہنگائی کا جن ایک بار بوتل سے باہر آجائے تو پھر واپس نہیں جاتا،،، اس کی سوالیہ نظریں ایک  بار پھر میری طرف اٹھیں ،،،عوام کیسے اس  کا حل نکالے؟ میں نے کمرے میں پڑے ہیٹر کی طرف دیکھا جس نے کمرے کے ماحول کو گرم کر رکھا تھا جسے ٹھنڈک کا احساس تقریباً ختم ہوگیا تھا،،، دیکھ بھیا!  آمدن بڑھا کر اس جن کو عوام قابو کر سکتی ہے،،، لیکن جو لوگ سست اور کام سے ڈرنے والے ہوتے ہیں وہ دوسروں سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہوتے ہیں،،، کوئی اور آکر ان کے مسائل حل کرے اور ان کے لئے آسانی پیدا کرے ،،، سات دہائیوں سے ہم ابھی بھی سیاستدانوں سے مہنگائی ختم کرنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں،،، ہم بحیثیت قوم عقل سے عاری ہیں،،، ان سیاستدانوں کو روز برا کہتے ہیں لیکن ان برے لوگوں سے اچھائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں،،، یا تو ان کو برا کہنا چھوڑ دینا چاہیے یا پھر ان سے امیدیں ختم کر دینی چاہیے،،،،میرے رفیق  محفل نے کافی ختم کرلی تھی،،، اس نے اگلے سوال کےلیے  لب کھولے،،،کیا یہ ملک اسی طرح چلتا رہے گا؟  میں مسکرا اٹھا اور کافی کا خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے بولا،،، نہیں!،،، اس نے تجسس بھری نظروں سے میری طرف دیکھا،،،میں نے
کہا بدلتے حالات سے اب اس قوم میں شعور بیدار ہورہا ہے،،، اب وقت قریب ہے جب پاکستان سیاستدانوں کے بجائے لیڈرز کے ہاتھ میں ہوگا،،،بارش بند ہو چکی تھی ہوا سے درختوں کے پتے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے ،،، میں نے میز پر موجود اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کہا،،، لیڈرز کا موضوع بڑا دلچسپ ہے جس پر اگلی نشست میں بات کریں گے،،،انشاءاللہ وہ سر ہلا کر مسکرایا،،،اس کے چہرے سے اطمینان کے آثار صاف نظر آ رہے تھے،،، اس نے گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔