منگل - 4 اکتوبر - 2022
dwd-r.editor
تحریر : ولید بن مشتاق مغل۔۔ ریزیڈنٹ ایڈیٹر پاکستان

مہنگائی کا طوفان ، عوام کی دہائیاں اور حکومتی دلاسے” ۔”ریزیڈنٹ ایڈیٹر ولید بن مشتاق کا جائزہ.

ہمیشہ کی طرح موجوہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی عوام الناس کوگمان تھا کہ انکے سارے مسائل ایک ایک کر کے حل ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ کرپشن ،غربت،تعلیم اور بے روزگاری جیسے درجنوں مسائل جنہوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی کم ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ حکومت کے پہلے 90 دن عوام نے یہ سوچ کر صبر کر لیا کہ نئے آنے والے وزراء اور دیگر حکومتی عہدہ داران انکے مسائل کی لسٹ تیار کر رہے ہونگے ۔اس کے بعد ان تمام مسائل کو کلین بولڈ اسٹمپ یا رن آوٹ کرنے کا عملی کام شروع کر دیا جائے گا ۔خیر ہمیشہ کی طرح عوام کی یہ خوش فہمیاں تو سچی ثابت نہ ہوئی لیکن عوام کو چند دلاسے ضرور مل گئے ۔ سب سے پہلے حکومت کی جانب سے عوام کو یہ معلوم ہوا کہ چونکہ جانے والی حکومت سارا قومی خزانہ ہی لوٹ کر لے گئی ۔خزانے پر جھاڑو پھیر دیا گیا ہے اور روئی کے گالوں کی طرح بچ جانے والے خزانہ بھی گولا بنا کر پوٹلی میں ڈال کر جانے والی حکومت لی گئی ہے ۔ لہذا موجودہ حکومت کو فی الوقت ریلیف جیسی کسی آزمائش میں ڈالنے کے بجائے عوام حکومت کا ساتھ دیں اور ٹیکس کی صورت میں قومی خزانے کو بھرنے میں مدد کریں تاکہ یہی ٹیکس آگے آنے والے دنوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کام میں لایا جا سکے ۔’ مرتی کیا نہ کرتی ‘عوام یہ بھاری پتھر بھی اٹھانے کو تیار ہو گئی۔ لیکن اسکے ساتھ ہی مشکلات اور آزمائشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ۔ پہلے بجلی کے بل ،پھر گیس کے نسخے، پھر ادویات کی قیمتیں ،یہاں تک کے ہوا کو چھوڑ کر ہر چیز پر ٹیکس نے عوام کی ٹوٹی ہوئی کمر مزید دہری کر دی۔ کارروبار بند ہونے،کسان کا استحصال ہوتا رہا لیکن غریب عوام ڈٹی رہی کہ ایک بار خزانہ بھر جائے پھر موج ہی موج ہے ۔حکومت نے فیصلہ کیا کہ خزانے کو بھرنے کے لیے کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے آئی ایم ایف سے قرض لے لیا جائے۔ چند دوست ممالک کو بھی آگے بڑھ کر مدد کے لیے کال دی گئی حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی بھی اپنائی۔ اداروں کے ملازمین نے تنخواہیں کٹوائیں اور یوں عوام کو گمان ہوا کہ قومی خزانے کا کنستر بھرنے کے قریب ہو گیا ۔لیکن سب تدبیریں الٹی ہو گئی کچھ نہ دوا نے کام کیا ۔ عوام کو پھر بھی یہی سننے کو ملا خزانہ تو ابھی بھی خالی کا خالی ہے ۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے لہذا بس صبر کریں ۔ عوام سٹپٹائی اور سوال پر سوال کرنے لگی ۔ لیکن جواب بھلا کہاں ملنا تھا۔ آخر کار عوام نے اس فراڈ کو بھی اپنا نصیب سمجھ کر قبول لیا اور آگے آنے والے دنوں میں اپنی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے غلط فیصلے اور اندھا اعتبار کرنے سے توبہ کر لی ۔ لیکن موجودہ عذاب جو نازل ہو چکا تھا اس پر عوام کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی تو بس جوں توں کر کے وقت گزارنے لگی ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان نے عوام کی زندگی جہنم بنا دی ۔ تیل پٹرول ادویات کے بعد آٹے چینی دالوں کی قیمتوں کو بھی آگ لگ گئی ۔ پھر وقت آیا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی اور عوام کو بھی گما ن ہوا کہ قدرے یہ خوشخبری انکے لیے بھی راحت لیکر آئے گی ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں قریبا 50 فی صد کمی دیکھنے میں آئی ۔ پاکستان میں مارچ کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے کی کمی کا اعلان کر کے عوام کو ایک بار پھر الو بنایا گیا لیکن عوام بھی چپ رہنے والی نہ تھی ۔ سوال ہوئے شور مچا ، اور بل آخر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے جلادوں کو کھٹکا کہ اب دلاسوں سے کام چلنے والا نہیں ۔ عالمی سطح پر برینٹ کروڈ پر 19 فی صد سے زیادہ تیل کی قیمتوں کی گراوٹ ہوئی ۔ حکومت نےخدا جانے اس بڑے موقع سے بڑا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا یا پھر عوام کو دلاسہ دینے کا بہانے تراشا۔ بہر حال وزیر اعظم نے اقتصادی ٹیم کو ہدایت کی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو کہاں اور کتنا فائدہ دیا جا سکتا ہے اسکا تخمینہ لگا یا جائے ۔ تیل سے منسلک بجلی کے کارخانوں کو پہنچنے والے فائدے کا تخمینہ بھی لگانے کا حکم صادر کر دیا تاکہ عوام کو اس فائدے میں سے حصہ دینے کے بارے بھی فیصلہ کر لیا جائے ۔ وزیر اعظم نے تیل کی قیمتیں براہ راست کم کرنے کا تخمینہ بھی طلب کر لیا ۔ وزارت پٹرولیم توانائی اور خزانہ کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا بھی حکم دے دیا اور کہا کہ تیل کی قیمتیں مزید نیچے آنے کے صحیح اندازہ لگانے کے لیے برینٹ کروڈ ماہرین سے بھی رابطہ کر لیا جائے۔ نجانے ان سارے اقدامات سے عوام کو کیا ملنا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر چکی ہے ۔تیل 35 ڈالر فی بیرل فروخت کیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اسکا ریلیف عوام کو دینا چاہے تو پٹرول 25 روپے سستا ہو سکتا ہے۔ حکومتی فیصلے پر منحصر ہے کہ اگر عوام کو ریلیف کا فیصلہ ہو گیا تو یکم اپریل کو پیٹرول کی ممکنہ قیمت 86 روپے 59 پیسے ہوگی۔ڈیزل کی موجودہ قیمت 122 روپے 25 پیسے ہے ۔یکم اپریل کو ڈیزل کی ممکنہ قیمت 100 روپے 25 ہوگی۔ تاہم یکم مارچ کو صارفین کو مکمل ریلیف نہیں دیا گیا ۔اس وقت تیل 50 ڈالر فی بیرل فروخت کیا جا رہا تھا۔حکومت کو پیٹرول 62 روپے 76 پیسے فی لٹر پڑھ رہا تھا اور پیٹرول 111 روپے 59 پیسے میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔عوام پٹرول پر 48 روپے 83 پیسے ٹیکس دی رہی ہے ۔ ماضی کی حکومتوں میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمت 120 ڈالر تھی لیکن تیل کی قیمت 63 روپے لٹر رہی۔ذرائع کہتے ہیں کہ حکومت کا عوام کو ریلیف دینے کا کوئی موڈ نہیں ۔جس کی اک وجہ یہ ہے کہ موجود ریلیف کے بجائے اس سے حاصل ہونے والی خطیر رقم کو بجٹ خسارے اور دیگر کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جانا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہے یا پھر زبان زد عام باتیں سچ ثابت ہوتی ہے ۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔