اتوار - 2 اکتوبر - 2022

واں سال عالمی اقتصادی شرح نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے،ورلڈ بینک

واشنگٹن۔9 جنوری (اے پی پی)ورلڈ بینک نے رواں سال (2020 ء ) عالمی اقتصادی شرح نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے،ورلڈ بینک کے مطابق دنیا کے چند ملکوں کی اقتصادی بحالی کے باعث عالمی اقتصادی شرح نمو میں کچھ بہتری کے باوجود عالمی منظر نامہ چند مسائل میں الجھا ہوا ہے جس کی وجہ سے سست رفتار عالمی شرح نمو کو خدشات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔یہ بات ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی امکانات بارے گزشتہ روز جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہی گئی۔بینک کا کہنا ہے کہ دنیا کی دوبڑی معیشتوں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی حالیہ جزوی معاہدے سے کم ہوئی ہے، اس سے دونوں ملکوں کو فائدے کے ساتھ ساتھ سست رفتار عالمی اقتصادی شرح نمو کی رفتار میں بہتری آئے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال عالمی اقتصادی شر نمو 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو کہ 2019 ء کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہوگی، تاہم یہ جون کی پیش گوئی سے کم ہوگی۔بینک نے عالمی اقتصادی شرح نمو میں تیزی کے امکانات کے باوجود سوائے امریکہ کے باقی تمام ملکوں کی اقتصادی شرح نمو بارے جون میں جاری کردہ اشاریوں میں کمی کی ہے۔بینک کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی شرح نمو اتنی تیز نہیں کہ وہ لوگوں کو غربت کی سطح سے نکالنے کے عالمی ہدف کو پورا کرسکے،اکثر بڑی معیشتوں کی اقتصادی شرح نمو رواں سال انحطاط پذیر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،صرف چند بڑی ابھرتی معیشتیں صحت مندی کی جانب لوٹ سکتی ہیں۔بینک کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کا جی ڈی پی عالمی مجموعی پیداوار کے 40 فیصد جبکہ ان کی تجارت عالمی تجارت کے 25 فیصد کے برابر ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان جاری طویل تجارتی کشیدگی میں کمی کے باوجود ان کی اقتصادی شرح نمو سست رہے گی، امریکی اقتصادی شرح نمو 2019 ء کے دوران 2.3 فیصد رہی جو رواں سال (2020 ء ) میں کم ہوکر 1.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔دوسری جانب چین کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 6 فیصدسے کم (5.9 فیصد) رہنے کی توقع ہے جو کہ 1990 ء سے اب تک کی کم ترین سطح ہے، اس کی وجہ مقامی طلب میں کمی تجارتی کشیدگی ہے۔یورپی خطہ جرمنی کی سست اقتصادی شرح نمو اور برطانیہ کے بلاک سے انخلاء کے باعث شدید متاثر ہوا ہے، رواں سال یورو زون کی اقتصادی شرح نمو 1 فیصد رہے گی تاہم 2021 ء کے دوران اس میں بہتری کے آثارہیں۔جاپان کے حوالے سے بینک کا کہنا ہے کہ اس کی پیداوار اور برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث اس کی اقتصادی شرح نمو رواں سال صرف 0.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ابھرتی معیشتوں کے بارے میں عالمی بینک کا کہنا ہے کہ عالمی سست اقتصادی شرح نمو کے دورا میں ابھرتی معیشتوں اور ترقی پذیر معیشتوں نے اہم کردار ادا کیا تھا تاہم رواں سال ان کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ ارجنٹائن، برازیل، بھارت، ایران، میکسیکو، روس، سعودی عرب اور ترکی جیسی ابھرتی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں میں رواں سال بہتری کی توقع ہے۔

یہ بھی چیک کریں

ملک میں ہفتہ واربنیادوں پرمہنگائی کی شرح میں گزشتہ ہفتہ کے دوران 0.07 فیصدکی کمی ریکارڈ، 9 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):ملک میں ہفتہ واربنیادوں پرمہنگائی کی شرح میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔