منگل - 4 اکتوبر - 2022

وزیراعظم عمران خان کا کم لاگت گھروں کیلئے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔  (اے پی پی سے) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 2020ءعوام کو نوکریاں دینے اور شرح نمو بڑھانے کا سال ہے، ماضی میں عام آدمی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا، ہماری ساری توجہ نچلے طبقات کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے، دیہات کے عوام کیلئے بھی روزگار کے مواقع، فنانسنگ اور وسائل مہیا کریں گے، کم آمدنی والے طبقات کیلئے ہاﺅسنگ کے منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کم لاگت گھروں کی فراہمی کیلئے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ”اخوت“ اور ڈاکٹر امجد کے مستحق اور غریب طبقہ کی مدد کیلئے مائیکرو فنانس کے اس پروگرام کو سراہتا ہوں، اس سے معاشرہ کے کمزور طبقات کو اپنے گھر بنانے کا موقع میسر آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ”اخوت“ کا کام قابل تعریف ہے، میں نے ان کے کام کا مشاہدہ کیا ہے، میں نے خود اس شعبہ میں کام کیا ہے اس لئے میں اس شعبہ میں مختلف اداروں کی کارکردگی سے بخوبی واقف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خیراتی ادارے کی کامیابی شفافیت اور عوام کے اعتماد میں پنہاں ہے، عوام ان اداروں کو پیسہ دیتے ہیں جو ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نے شوکت خانم ہسپتال بنانا چاہا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ بہت مشکل کام ہے اور اس کیلئے بہت پیسہ درکار ہو گا، عوام نے 70 کروڑ روپے کی خطیر رقم ہسپتال بنانے کیلئے فراہم کی، شوکت خانم میں75 فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہونے کے باعث سالانہ خسارہ 10 ارب ہوتا ہے لیکن لوگ ہر سال پہلے سے زیادہ پیسے مہیا کرتے ہیں، دراصل یہ لوگ آخرت کیلئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کم آمدن والے تنخواہ دار طبقہ کیلئے ہے جن کے پاس گھر بنانے کیلئے کیش نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ برصغیر میں دنیا کے مقابلہ میں گھر بنانے کیلئے بینکوں کی طرف سے قرضے دینے کی شرح بہت ہی کم ہے اور پاکستان میں یہ شرح اور بھی کم ہے، بھارت میں 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور یورپی ممالک اور انگلینڈ میں 80 فیصد ہاﺅسنگ فنانسنگ ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح محض 0.2 فیصد ہے کیونکہ ہمارے یہاں ضروری قوانین نہیں ہیں، ہمیں اس حوالہ سے عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے، اس سلسلہ میں قانون سازی سے تنخواہ دار طبقہ کیلئے گھر بنانا آسان ہو گا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر ہاﺅسنگ کی طرف سے کم آمدنی والے طبقات کو گھروں کی تعمیر کیلئے سٹینڈرائزڈ ڈرائنگ/ڈیزائن فراہم کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ چھوٹے گھروں کی تعمیر کیلئے حکومت کو سٹینڈرائزڈ ڈرائنگ/ڈیزائن فراہم کرنے چاہئیں تاکہ عوام کو اس مد میں پیسے خرچ نہ کرنے پڑیں اور ان کی بچت ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام ان طبقات کی مدد کرنا ہوتا ہے جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں، کمزور طبقہ کا خیال رکھنا کسی بھی معاشرہ کے مہذب ہونے کی نشانی ہے، کوئی بھی مہذب معاشرہ اسی چیز سے پہچانا جاتا ہے کہ اس معاشرہ میں کمزوروں کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرہ کے کمزور طبقہ کو تعلیم و صحت اور گھر سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرے، اسی طرح کاروبار سرمایہ کاری کیلئے ماحول اور سہولتیں فراہم کرنا بھی حکومت کا کام ہے، یہ ریاست مدینہ کا ماڈل ہے، مدینہ کی ریاست میں امیروں سے زکوة لے کر غریبوں پر خرچ کی جاتی تھی، بدقسمتی سے پاکستان میں ماضی میں پیسے والوں کو انصاف، صحت اور تعلیم کی بہترین سہولتیں مہیا رہیں لیکن عام آدمی جس کیلئے یہ ریاست بنی تھی، کیلئے کچھ نہیں کیا گیا، ہماری حکومت کا یہ منصوبہ ایسے لوگوں کیلئے ہے جن کے پاس اپنا گھر بنانے کی سکت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ”اخوت“ کے اس منصوبہ کیلئے فنانس مہیا کرے گی اور حکومت کی آمدن اور وسائل بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ گھروں کی تعمیر، صحت، تعلیم اور انصاف کیلئے مزید وسائل مختص کئے جائیں گے، حکومت کمزور طبقات کو انصاف کی فراہمی کیلئے قانونی معاونت مہیا کرنے کا پروگرام بھی شروع کر رہی ہے، صحت کے شعبہ ہیلتھ کارڈ اور ہیلتھ انشورنس ایک انقلابی پروگرام ہے جس کے تحت عام آدمی کو سات لاکھ سے زائد کا علاج معالجہ کرانے کی سہولت حاصل ہو گی، اب تک 50 لاکھ ہیلتھ کارڈز تقسیم کئے جا چکے ہیں، خیبرپختونخوا میں تمام مستحق لوگوں کو یہ کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیہات کے غریب عوام کیلئے بھی روزگار کے مواقع، فنانسنگ اور وسائل مہیا کئے جائیں گے، ہماری ساری توجہ کمزور اور نچلے طبقات کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہے، حکومتی نظام کے سست رفتار ہونے کے باعث ان منصوبوں میں وقت لگا، اب ان منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے گا، 11 مارچ کو اسلام آباد میں ہاﺅسنگ کے منصوبہ کا افتتاح کروں گا، اسلام آباد میں تین بڑے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کیلئے زیادہ پیسہ میسر ہو، بلیو ایریا میں شروع کئے جانے والے بڑے منصوبہ سے جتنا پیسہ حاصل ہو گا وہ کچی بستیوں کے رہائشیوں کو ملکیتی بنیادوں پر ہاﺅسنگ کی سہولت فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہاﺅسنگ بالخصوص کم آمدن اور تنخواہ دار طبقہ کیلئے منصوبوں پر تیزی سے کام کیا جائے، ہاﺅسنگ کے منصوبوں سے 30 سے 40 صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2020ءنوکریاں دینے اور شرح نمو کی ترقی کا سال ہے، پہلا سال استحکام کے حصول کا سال تھا۔ انہوں نے ”اخوت“ کے منتظمین پر کم لاگت گھروں کی فراہمی کیلئے بلاسود قرضوں کے منصوبہ کی کامیابی کیلئے شفاف نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جتنا یہ نظام شفاف ہو گا حکومت کیلئے وسائل مہیا کرنا اتنا ہی آسان ہو گا، کم آمدن والے طبقات کو گھروں کی فراہمی کے اس منصوبہ کیلئے آئندہ بجٹ میں مزید وسائل مہیا کئے جائیں گے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ و تعمیرات چوہدری طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ کم لاگت ہاﺅسنگ سکیم وزیراعظم کی طرف سے غریبوں کیلئے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2020ءتک 14 ہزار گھر مکمل کر لئے جائیں گے، کم لاگت گھروں کیلئے 10لاکھ رجسٹرڈ درخواست گزار ہیں، گھروں کی الاٹمنٹ کے قواعد میں مزید آسانی کی ضرورت ہے۔

یہ بھی چیک کریں

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد(یواین پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت تمام معاشی اعشاریے مثبت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔