اتوار - 2 اکتوبر - 2022
فوٹو-اے پی-پی

وزیراعظم عمران خان کی اپنے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

پترا جایا ۔  (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے دونوں ممالک میں مضبوط اقتصادی تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے منگل کو پی ایم آفس پتراجایا میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، قانون کے نفاذ، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کے دو روزہ دورہ ملائیشیا کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے شاندار امکانات کے پیش نظر تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وسیع تر تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبہ میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اپنی تزویراتی حیثیت سے سرمایہ کاری کیلئے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے اور یہ بالخصوص چین۔پاکستان اقتصادی راہداری اور اپنے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے چین کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا جو بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ 6 ماہ سے کرفیو میں محصور ہیں۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر مہاتیر محمد سے کہا کہ آپ نے کشمیریوں کیلئے انصاف کی بات کی ہے جس کیلئے ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے کشمیر کی حمایت پر ملائیشیا کو پام آئل کی درآمد روکنے کی دھمکی دی ہے، پاکستان اس کے ازالہ کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں اپنے لوگوں کیلئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق باہمی مفاد کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری وسیع تر تعاون کی بنیاد پر ہمارے تعلقات نے ایک نئی صورت اختیار کی ہے، ہم دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے سلسلہ میں شراکت داری کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور میں نے دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، یہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے باہمی عزم کا عکاس ہے۔ اس موقع پر فریقین نے تمام سطحوں پر وفود کے تبادلے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین ہو سکے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کی مختلف وزارتوں کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور دونوں ممالک کی امور خارجہ کی وزارتوں کے حکام کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ اقتصادی تعاون کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبہ میں شراکت داری کو فروغ دینے، مختلف معیشتوں کے مابین نیٹ کے قیام اور نجی شعبہ کے مابین روابط کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں 8 نومبر 2007ءکو کوالالمپور میں طے پانے والے معاہدہ پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں اہم شعبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور تجارت میں توازن کے حوالہ سے باقاعدہ بات چیت پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا جوائنٹ کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کا منتظر ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ 20 کروڑ نفوس پر مشتمل ترقی پذیر آبادی کا حامل ملک ہے اور ان کی ضروریات ملائیشیا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پاکستان میں فوٹون کار کے آٹوموٹیو پلانٹ کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انجینئرنگ کے کاروبار کو مزید فروغ ملے گا۔

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔