پیر - 3 اکتوبر - 2022

وہ کون سی زنجیریں ہیں جو آزاد پیروں میں گھنگرو بن کر چھنک رہی ہیں۔ وہ کون سا سفر ہے جس کی منزل قریب آئے تو جھٹلا دیں دور جائے تو مسافتیں گنیں.عاصمہ شیرازی

ویب رپورٹ۔معروف صحافی،اینکر پرسن اور کالم نگار عاصمہ شیرازی نے لکھا ہے کہ

"مولانا فضل الرحمن ایک یقین دہانی پر دھرنا لے کر آئے اور دوسری یقین دہانی لیے واپس لوٹ گئے۔ مولانا کو یقین دہانی کس نے کرائی اور کس کی مُراد بر آئی اس پر سے پردہ صرف مولانا ہی اٹھا سکتے ہیں یا چوہدری برادران۔

ق لیگ کس کے کہنے پر حکومت سے روٹھی اور پھر دوبارہ جا ملی۔۔۔اس میں البتہ کوئی راز کی بات نہیں۔ بہرحال یہ سیاست ہے۔ رابطے تو شہباز شریف سے بھی ہیں اور نواز شریف سے بھی، زرداری صاحب بھی آن بورڈ تو بلاول صاحب بھی۔۔۔کوئی حرج نہیں۔

لیکن صاحبان عقل یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اب کی بار ڈیل آدھی نہیں پوری ہو گی۔ ویسے بھی اس گرتی معیشت اور معاشی بدحالی میں بقول شاہد خاقان عباسی جنازے کو کندھا دینا باقی ہے، کیا پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس پوزیشن میں ہوں گے؟ دو سو ارب روپے کے مزید ٹیکس اور منی بجٹ کی خبریں، آئی ایم ایف کے مطالبات کی طویل فہرست آنے والی کسی سرکار کو کیسے چلنے دے گی؟

عجب صورت حال ہے کہ حکومت چلی تو معیشت نہیں چلے گی اور معیشت نہ چلی تو ریاست۔ اب یہ فیصلہ کون کرے کہ حکومت چلانی ہے یا ریاست۔

لگتا ہے کھیل سجانے والے بازی وہاں لے آئے ہیں جہاں خود کھیل ان کے ہاتھ نہیں رہا۔ اور کھیل پہلی بار مہروں کے ہاتھ آ ہی گیا ہے تو سوچ سمجھ کر چال چلنا ہو گی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے گُرو یہ سمجھتے ہیں کہ فی الحال اقتدار سے دور رہ کر تماشا دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیا اب کی بار تماشا دیکھنے کی باری اُن کی ہے؟”

انکے کالم کا یہ اقتباس بی۔بی سی اردو سے لیا گیا ہے مزید تفصیل جاننے کے لئے۔آپ بی بی سی اردو پر جا سکتے ہیں

یہ بھی چیک کریں

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

گندم و چینی کی دستیابی اور قیمتوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد(یواین پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت تمام معاشی اعشاریے مثبت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔