منگل - 4 اکتوبر - 2022

پاکستان میں "جمہوریت” کی اقسام اک "خودکلامی”

پاکستان اک من موجی ملک ہے اس کے باسیوں باالخصوص سیاستدانو کی منطق بڑی دلچسپ ہوتی ہے ۔رائی کا پہاڑ بنانا اور دلوں کا حال بتانا ان سے ختم ہے ۔محترم ندیم افضل چن جو کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں آئے ہیں ان کا موقف ہے کہ جمہوریت کے خلاف سازش کی جارہی ہے اور اس سازش کو "لندن”پلان کا نام دیا جارہا ہے۔

کچھ اسی طرح کی واردات کا زکر مسلم لیگ ن نے 2014 میں کیا تھا کہ لندن پلان نامی کوئی سازش جمہوریت کے لئے خطرہ بننے والی ہے۔ اس وقت اس پلان میں تحریک انصاف،پاکستان عوامی تحریک کا نام زیر گردش تھا۔اب اتنا عرصہ گزرا تو پھر جمہوریت کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔اگر واقعی خطرہ ہے تو یہ فیصلہ ہونا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وقت جمہوریت کی کوئی اور قسم تھی اور اب کیا کوئی اور قسم ہے ۔بظاہر تو دونوں میں ووٹ ہی استعمال ہوئے ہیں پھر اتنا فرق کیوں؟

سیاست کے طالب علموں کے نصاب میں جمہورت کی اقسام کو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ مورخ کو کوئی کنفیوژن نا ہو۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے نظیر انکم سپورٹ سکیم جاری تھی اور کامیابی سے جاری تھی کہ اچانک خیال آیا کہ اسکا نام تبدیل کردیا جائے۔

بندہ پوچھے بھئی اسکا نام تبدیل کرنے سے عوام کو دکھائے کتنے فیصد خواب پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے۔

کیا بے نظیر بھٹو اس ملک کی وزیر اعظم نا تھی۔کیا دنیا ان کو ایک زیرک خاتون نا مانتی تھی۔کل قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو نے جس طرح سے اپنا موقف بیان کیا اور اس پہ کتنا وقت لگا اگر اس موضوع کو نا ہی چھیڑا جا تا تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کرپشن کے بارے اعداد شمار تبدیل ہوجاتے یا بے نظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کرنے پہ ہو جائیں گے۔

مطلب اس دھما چوکڑی کا ہی بنتا ہے کہ جس وقت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جاری کیا تھا اس وقت جمہوریت اور قسم کی تھی اور اب اور قسم کی ہے۔

اس سارے قضیے میں جمہور کا حال بہت پتلا ہے۔ حالانکہ عوام کو جمہوریت کے چکر میں ہی گھن چکر بنایا جاتا ہے ہر الیکشن میں لیکن

ان کی کیفیت کچھ اس طرح ہے

میں پھول ہوں تو پھول کو گلدان ہو نصیب

میں آگ ہوں تو آگ بجھا دینی چاہیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔