منگل - 4 اکتوبر - 2022

کرونا وائرس نے 149 ممالک کو لپیٹ میں لے لیا، عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 5602 ہو گئی،1 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی میں 250، ایران میں 97، اسپین میں 58 اور برطانیہ میں مزید 10 افراد دم توڑ گئے

بیجنگ ۔  (اے پی پی) چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے 149 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 5602 ہو گئی اور 1 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہوئے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی میں 250، ایران میں 97، اسپین میں 58 اور برطانیہ میں 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس 149 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ چین میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں صورتحال بتدریج خراب ہو گئی ہے، چین میں مجموعی طور پر 3189 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ چین کے بعد اٹلی سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور وہاں پر بازار اور سڑکیں وایران ہیں، اٹلی میں ایک روز میں 250 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1266 ہو گئی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 18 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایران میں مہلک وائرس کا شکار مزید 97 افراد چل بسے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 611 ہو گئی ہے۔ ایران وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 1365 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 12729 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4300 افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ اسپین میں ایک دن میں 1500 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 5753 ہو گئی ہے جبکہ 58 ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 191 ہو گئی ہے۔ اسپین میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ میڈرڈ میں تمام شراب خانوں اور ریستورانوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ میں وائرس سے متاثرہ 10 افراد دم توڑ گئے جس کے بعد وہاں پر مجموعی ہلاکتیں 21 ہو گئی ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی 1 ہزار سے زائد ہو گئی۔ امریکہ میں مزید ایک ایک ہلاکت کے بعد تعداد 50 ہو گئی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے بڑھ گئی ہے، بھارت میں بھی وائرس کا شکار دو مریض جان کی بازی ہار گئے جبکہ فرانس میں اب تک 80 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

کرونا میں مبتلا امریکی صدر کو ہسپتال منتقل کردیاگیا

صدارتی انتخابات سے ایک ماہ قبل کرونا بیماری میں مبتلا امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔