منگل - 4 اکتوبر - 2022

کرونا وائرس کا ایک خاموش پیغام”.زندگی کی بے ثباتی کو یاد دلاتی ایک فکر انگیز تحریر.محترمہ جویریہ اسد کے قلم سے”

کسی شاعر نےکیا خوب کہا ہےکی دنیا دل لگانےکی جگہ نہہیں ہے۔ آج کی تاریخ میں جب ہم تمام وسائل ہونے کے باوجود اس کرونا وائرس کے پیش نظر محدود ہوکر رہ گۓ ہیں تو شاید قدرت ہم کو ایک موقع دے رہی ہے کے ہم کچھ دیر ٹہریں اور سوچیں کہ اب تک ہماری زندگی کس بےثّباتی میں گزری۔ پل بھر کی خبر نہیں مگر سامان سو برس کا۔ اپنےآپ کو قدرت کی سب سے اعلی تخلیق کا درجہ ملنے کے بعدغرور اور تکبر میں جینے والا انسان آج کتنا بے بس ہے۔
دنیا کو جنت بنانے کے چکرمیں انسان یہ بھول گیا کہ الله نے اس کو یہ ڈھیل صرف اس لۓ دی ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کرے۔ جو وسائل اور نعمتیں اسکو عطا ہوئیں ان کوبروۓ کار لا کر دنیا والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ مگر آج کے انسان نے ان تمام نعمتوں کا استعمال صرف اپنے آپ کو مضبوط کرنےاوراپنے خزانےبھرنے میں صرف کیا۔ اپنے خود غرض مقاصد کو حاصل کرنےکے لئے دوسرے لوگوں کا غلط استعمال، ان کی تضحیک، جھوٹ کا سہارا اور ہر نا جائز اختیار کا استعمال کیا۔ مگر الله نے اس وبا کے ذریعے لوگوں کو بتا دیا کہ اس کی مرضی اور منشا سے بڑا کچھ نہیں۔ اگرآج ہمارا کوئ کام اس وبا کی وجہ سے نہیں ہوپایا،تو شاید یہ ہمارے حق میں بہتر نہیں تھا یا پھر
ہماری کسی کے ساتھ کی گئ زیادتی کا جواب ہے۔ اس نازک صورتحال میں بھی توبہ استغفار کے بجاۓ ہم ذخیرہ اندوزی، وبا کی روک تھام کی اشیاہ کی قیمتوں میں اضافہ اور سوشل میڈیا پر بے تکی افواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔
پاکستانی میڈیا اور نیوز چینلز اپنے اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں اور اس وائرس کے اصل حقائق کو اپنے حساب سے توڑ مڑور کر پیش کر رہےہیں۔ وفاق اور صوبوں کے وزراہ ایک دوسرے پر ہمیشہ کی طرح الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ اس وباکو عذاب اور الله کی ناراضگی سمجھنے کے بجاۓ اپنے خود غرض عزائم حاصل کرنے کا ایک موقع سمجھ رہے ہیں۔ خدارا ایک مسلمان اور پھر ایک انسان بن کر سوچئیے اور اس وقت کو اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا ذریعہ سمجھ کر توبہ کیجیۓ ۔ شاید اگلی بار الله ہمیں اتنی بھی مہلت نہ دے کہ ہمیں سوچنے اور سمجھنے کا وقت بھی مل سکے۔ یہ دنیا ایک سراب ہے اور اس کے پیچھے بھاگنے والوں کا اختتام اکثّر عبرت ناک ہی ہوتا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔