اتوار - 2 اکتوبر - 2022

کرونا وائرس کا شکار افراد، علاج پر مامور ڈاکٹرز اور صحت کے عملہ کے علاوہ کسی کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا ٹویٹ

اسلام آباد ۔  (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ نوول کرونا وائرس کا شکار افراد اور ان کے علاج پر مامور ڈاکٹرز اور صحت کے عملہ کے علاوہ ہر کسی کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جمعرات کو ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، جن چند افراد کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے ان میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں کرونا وائرس کی بیماری ہو اور وہ ڈاکٹرز اور صحت کا دیگر عملہ جو کرونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جنہیں سخت کھانسی اور نزلہ زکام ہو وہ بھی ماسک ضرور پہنیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ ڈاکٹرز کے لئے خصوصی ماسک پہننے اور متاثرہ مریضوں او نزلہ زکام اور شدید کھانسی میں مبتلا مریضوں کے لئے ماسک تجویز کئے گئے ہیں۔انہوں نے ٹویٹ میں ایک بینر بھی شیئر کیا ہے جس میں عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ماسک کو پہننے کے لئے کیا کیا احتیاطی تابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ آگاہی کے بینر میں بتایا گیا ہے کہ ماسک پہننے سے پہلے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں اور منہ اور ناک کو ایسے اچھی طرح ڈھانپیں کہ چہرے اور ماسک میں کوئی خلاء نہ ہو،استعمال کے دوران ماسک کو ہاتھ سے نہ چھوئیں اور اگر اتفاقیہ ہاتھ لگ جائے تو فوری ہاتھ دھولیں، ماسک پر سانس سے نمی آجائے تو اسے تبدیل کرلیں اور ایک دفعہ استعمال شدہ ماسک کو دوبارہ نہ پہنیں۔ سر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر ماسک اتاریں اور ماسک کے سامنے والے حصے کو نہ چھوئیں، استعمال شدہ ماسک ڈھکن والے کوڑے دان میں پھینکیں اور ہاتوں کو صابن اور پانی سے بیس منٹ تک دھو لیں۔ این۔95 ماسک ایک خصوصی ماسک ہے جو کرونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کے لئے ہے، ماسک پہننے کے دوران بھی اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی یا سینسٹائزر کے ساتھ کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوتے رہیں۔

یہ بھی چیک کریں

کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کردی

پشاور:کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے یکطرفہ طورپرگذشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ بندی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔