منگل - 4 اکتوبر - 2022

کوارنٹین اور آئیسولیشن سے کیا مراد ہے ؟ ولید بن مشتاق مغل کی ایک تحقیقی تحریر ۔۔۔

دسمبر 2019 میں دریافت ہونے والے نوول کورونا وائرس سے پھیلنے والی وباء اس وقت دنیا بھر کے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے ۔ گزشتہ چار ماہ میں اس وائرس سے کرہ ارض پر ہزاروں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور کئی زندگی کی بازی بھی ہار چکے ہیں ۔تمام تر کوششوں کے باوجود اس بیماری کا کوئی باقاعد ہ علاج دریافت نہیں ہو سکا اور نہ ہی ابھی تک اس کے لیے کوئی دوا ایجاد ہو سکی ہے ۔ اس کے باوجود ماہرین نے انتھک کوششوں اور اس نئے جرثومہ نوول کورونا پر تحقیق سے کافی معلومات اکھٹی کی ہیں ۔ اس تحقیق سے کسی حد تک بنی نوع انسان اس قابل ہو سکے ہیں کہ وہ اس سے پھیلنے والی وباء سے خود کو محفوظ کر سکیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک کووڈ19 پر کی جانے والی تحقیق میں صرف اس جرثومہ کی ساخت، خصوصیات اور اسکے انسانوں پر حملے کے بارے ہی معلوم ہو پایا ہے ۔ میڈیکل کی مختلف برانچوں بشمول مائیکرو بیالوجی اور ویرالوجی کے ماہرین نے اس وائرس سے بچاو کا واحد حل یہ بتایا ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے اس وائرس سے دوری بنائی جائے اور اسکو محدود کیا جائے۔ کیونکہ جب تک اس وائرس کو توڑنے والی کوئی ویکسین نہیں مل جاتی، اس سے بچاو کا واحد حل صرف بچاو یا حفاظتی اقدامات ہیں ۔ حال ہی میں کئی ممالک کے کیمیا دانوں نے کلورو کوئن نامی دوا ’’جو کہ عام طور پر ایک اور موذی مرض ملیریا کے لیے استعمال ہوتی ہے‘‘ کے اس وائرس پر کچھ اثرات دیکھے ہیں جس کے بعد لیبارٹری میں اس پر تجربات کا سلسلہ جاری ہے ۔ تعارف سے یہ تو معلوم ہوا کہ جرثومہ اس سے قبل موجود نہ تھا یا دریافت نہ ہوا تھا لہذا اس پر مکمل تحقیق میں کافی وقت درکار ہو گا ۔ تاہم اس ہی کی ساخت کے دوسرے جرثومہ MERS CRONA اور دیگر پہلے سے موجود ہیں اور اس پر کافی تحقیق ہونے کے بعد معلومات کا بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ یہی ذخیرہ عین ممکن ہے کہ اس جرثومہ کو جاننے میں بھی مدد فراہم کرے تاہم ابھی اس بارے عالمی ادارہ صحت نے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی ۔
اس وائرس کے دنیا میں پھیلنے اور اس سے لاحق ہونے والی وبا ء نے دنیا بھر میں انسانوں کو ناکوں چنے چبوا دیے ۔چائنہ اٹلی امریکہ سمیت 200 سے زائد ممالک میں اس وائرس نے انسانوں کو اپنا نشانہ بنایا ۔ سائنسدانوں نے اس کو روکنے کے ممکنہ طریقہ کار پر غور کرنا شروع کیا اور معلوم متعدی بیماریوں کے لیے اپنایا جانے والے طریقہ کار کو مزید مربوط بناتے ہوئے ایک باقاعدہ لائحہ عمل دیا گیا ۔ اس لائحہ عمل میں کسی انسان میں اس وائرس کے سراعیت کرنے سمیت اسکے اثرات ،انسانی جسم اور صحت میں آنےوالی غیر معمولی تبدیلوں سمیت اسکے سنگین نتائج یا لاسٹنگ ایفکٹس کو موضوع بنا یا گیا ۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس وائرس سے بچاو کی تراکیب اور طریقہ کار وغیرہ بتائے گئے جو کہ اس وقت دنیا بھر میں بنیادی معلومات کے طور پر پھیلائے جا رہے ہیں اور فی الوقت ہمارا موضوع بھی نہیں ہیں کیونکہ آپکی ٹی وی اسکرینیوں سے لیکر معلومات عامہ کے ہرذرائع سے آپ تک یہ معلومات بہم پہنچ رہی ہیں ۔اسکے بعد کا مرحلہ جو کافی دشوار گزار ہے وہ اس وائرس کا کسی جسم میں سراعیت کر جانا ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس کچھ صورتوں میں فورا ہی اپنے آپ کو میزبان یا HOST کے جسم میں ایکٹیویٹ کر تا ہے اور بڑھوتری پاتا جاتا ہے اور کہیں اسکا اثر زرا دیر سے دیکھنے کو ملتا ہے ۔دونوں ہی صورتوں میں یہ انسانی جان کے لیے خطرہ ہے اور محض چند ہی دنوں میں کسی کو موت کی نیند سلانے کا موجب بن جاتا ہے ۔ اس وائرس کا شکار ہونے والے یا کسی بھی طرح سے اس وائرس میں مبتلا کسی مریض سے میل جول رکھنے والوں کے 2طرح کے حفاظتی طریقہ کار بتائے گئے ہیں ۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ کار اس مرض کا علاج نہیں ہیں بلکے صرف اسکے مزید پھیلاو کو روکنے اور مزید متاثر ہونے سے روکنے کے لیے Preventive measure ہیں ۔
پہلا طریقہ کار ۔۔۔۔۔
یہ طریقہ کار quarantine یا قرنطینہ کہلاتا ہے ۔
سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی ) کے مطابق لفظ کوارنٹین انگریزی نہیں بلکہ اطالوی زبان کالفظ ہے جسکے معنی40 کے ہیں ۔اسکا اصل لفظ کوارنتا ہے اور کوارنٹین اسی سے اخذ کیا گیا ہے ۔
اسکی تعریف انگریزی زبان میں کچھ یوں ہے ۔
To Separates and restricts the movement of people who were exposed to a contagious disease to see if they become sick. These people may have been exposed to a disease and do not know it, or they may have the disease but do not show symptoms.
کوارنٹین سے مراد کیا ہے اس پر مختلف ماہرین مختلف رائے رکھتے ہیں ۔ تاہم مستند ترین ادارہ سی ڈی سی کے ماہرین کے مطابق اس سے مراد ان افراد کو 40 دنوں کے لیے باقی افراد سے دور کر دینا ہے جنھیں یہ شبہ ہو کہ وہ کسی متعدی بیماری یا اسکے موجد کے ساتھ بل واسطہ یا بلا واسطہ طور پر رہے ہوں۔ یا دوسری صورت میں ایسے علاقہ میں رہ کر یا گزر کر آئیں ہوں جہاں کوئی وباء پھیلی ہوئی تھی ۔ کوارنٹین کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی فرد میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ یہ ایک احتیاط ہے جسے کوئی بھی فرد خود کو کسی بھی بیماری کے دیر سے آنے والے اثرات کے شبہ میں اپناتا ہے ۔ مائیکروبیالوجی کے ایک ماہر ڈاکٹر اشرف سے جب ہم نے سوال کیا کہ کیا قرنطینہ یا کوارنٹین میں جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر کسی بھی وائرس کی موجودگی کو کنفرم کیا جا سکے ۔ تو انکا کہنا تھا کہ ایسا بلکل نہیں ہے ۔ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ نامساعد حالات میں کسی بھی بیماری کے کنٹیکٹ یا علاقہ سے بحفاظت آنے کے بعد بھی کم از کم 320 گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ 900 گھنٹے کے لیے خود کو باقی افراد سے الگ تھلگ کر لینا کیونکہ آپ کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتے۔ انکے مطابق یہ ایک رضاکارانہ عمل ہے اور ایک بہترین حفاظتی تدبیر بھی ۔
زمانہ قدیم میں بھی قرنطینہ کا مدھم سا تصور ملتا ہے ۔ماضی میں جب جانوروں کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقے میں لایا جاتا تھا تو انہی کچھ عرصہ کے لیے الگ رکھا جاتا تھا جسکی عقلی وجہ جانوروں کی اس علاقے کی آب و ہوا کے ساتھ موافقت یا پھر کسی صورت میں سی انجان بیماری کو روکنا سمجھ آتا ہے تاہم اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں مل سکیں ۔ قرنطینہ کے لیے کوئی خاص شرائط تو نہیں ہیں ماسوائے اسکے کہ آپ کا اپنے آس پاس کے لوگوں سے میل جول نہ ہو یا انتہائی ضرورت کے وقت ہو۔ قرنطینہ کہیں بھی کیا جا سکتا ہے کسی گھر کے کمرے میں یا کھلے آسمان میں ایک خاص جگہ پر ۔ موجودہ وقت کے حساب سے جو ضروری ہے وہ صرف یہ ہے کہ جس کمرہ یا جگہ کا انتخاب کیا جائے وہ ہوادار ہو، روشن ہو، کھانے پینے کا بہم بندوبست ہو اور رفع حاجت کے لیے بھی مناسب اور الگ تھلگ سہولت موجود ہو ۔ ایک اہم نقطہ اس عرصہ کےدوران کسی بھی غیر معمولی تبدیلی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں کسی معالج یا طبیب سے بروقت رابطہ کرنا ہے ۔ اس عمل کے بغیر قرنطینہ کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ دور جدید میں قرنطینہ میں موجود افراد کی نقل و حرکت اور ان میں رونما ہونے والی تبدیلوں کو مانیٹر کیا جاتا ہے تاہم آگر آپ کسی کو بتائے بغیر اس عمل سے گزر رہے تو یہ مانیٹرنگ کا کام بھی آپ کو خود ہی کرنا پڑے گا ۔ یعنی سادہ لفظوں میں اگر آپ کوروناوائرس کی وجہ سے قرنطینہ میں ہیں اور سات دن بعد آپکو معلوم ہوا کہ آپ میں وہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق کورونا کی ہیں تو اس صورت میں قرنطینہ کا عمل ختم تصور سمجھیں اور اس سے ایک قدم آگے چلیں ۔
دوسرا طریقہ کار ۔۔۔۔۔
یہ طریقہ کار آئیسولیشن (ISOLATION) کہلاتا ہے ۔
یہاں اس ٹرمینالوجی کا کوئی دائریکٹ سورس نہیں ملا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ لفظ کس زبان سے کس معنی میں لیا گیا ہے ۔ اس لیے اسے خالصتا انگریزی زبان کا ہی لفظ قراردیا جاتا ہے ۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی ) کے مطابق اسکی تعریف کچھ یوں ہے ۔۔۔
The separation of a person or group of people known or reasonably believed to be infected with a communicable disease and potentially infectious from those who are not infected to prevent spread of the communicable disease. Isolation for public health purposes may be voluntary or compelled by federal, state, or local public health order.
اس تعریف کے مطابق آئیسولیشن یا سماجی دوری سے مراد ایسے افراد ہیں جو کسی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ اپنے ماحول میں بھی اس بیماری کو پھیلانے کا ذریعہ بنیں گے ۔ سائنسی ماہرین آئیسولیشن کی تین اقسام بتاتے ہیں ۔ پہلی فیزیکل میل جول یا ڈائریکٹ کنٹیکٹ ، دوسری بوندوں کی صورت یا ڈراپلٹ اور تیسرا اور سب سے اہم ہوا ئی یا ائیربورن ۔ ان تینوں کو سمجھنے کے لیے کسی بیماری ہی کی مثال لے لیتے ہیں ۔۔ پہلی صورت میں موذی بیماری ایڈز کی مثال لے لیں یہ بیماری خاص ٹھوس مادے کی صورت میں میل جول سے پھیلتی ہے جیسا کہ جنسی عمل ، سرنج کا ستعمال وغیرہ۔
دوسری قسم ’بوند ‘کو سمجھنے کے لیے نزلہ و زکام کی مثال لی جا سکتی ہے ۔ ایک مریض کے کھانسنے اور اسکے نتیجے میں چند ایک پانی کی بوندوں کا آپکے جسم میں منتقل ہو جانا آپکو بھی اس بیماری میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے ۔
تیسری اور سب سے اہم قسم’ ہوا کے ذریعے‘ کسی جرثومہ وغیرہ کا آپکو لگ جانا ۔ فرض کریں آپ کسی دھول مٹی والی جگہ سے گزر رہے ہی اور وہاں پر اس خاک میں کوئی جرثومہ موجود ہے ۔ تیز ہوا چلنے کی صورت میں یا کبھی کبھار خوشبو کی طرح براونیئن موشن((Brownian Motion میں سفر کرتا کوئی جرثومہ آپکے جسم میں منتقل ہو جائے تو وہ بھی آپ کو بیمار کرنے کے لیے کافی ہے ۔ اسکی ایک اور مثال الرجی بھی ہے ۔ ڈاکٹرز کے مطابق آئیسولیشن کا تعلق ایک انتہائی نگہداشت والی جگہ ہے ۔ کیونکہ آئیسولیشن میں ان مریضوں کو رکھا جانا مقصد ہوتا ہے جن میں کسی بیماری کا ہونا ثابت ہو چکا ہو یا ہو رہا ہو۔ ایسے صورت میں اس مریض کو ہر وقت کڑی نگرانی میں رکھنا اسکا باقاعدہ چیک اپ کرنا اسے دوسرے لوگوں سے دور رکھنا مقصد ہوتا ہے۔ تو لہذا ماہرین نے آئیسولیشن کو اسپتال سے منسوب کیا ہے جہاں ہر وقت طبعی عملہ اس مریض کی دیکھ بھال اور اس میں موجود بیماری کے اثرات کو سمجھ سکیں اور اسکا علاج کر سکیں ۔ دوسرے لفظوں میں آئیسولیشن کو سماجی دوری یا مکمل تنہائی یا قید بھی کہا جا سکتا ہے لیکن یہ ہر گز ہر گز کوئی سزا نہیں بلکہ احتیاط کا ایک طریقہ کار ہی ہے جس کو اپنانے ہوئے نہ صرف مریض خود بلکہ اسکے آس پاس دوسرے لوگ بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔