منگل - 31 جنوری - 2023
"کورونا بارے آگاہی نا کہ سازشی مفروضے"تحریر ملک عمران فاروق

"کورونا بارے آگاہی نا کہ سازشی مفروضے”تحریر ملک عمران فاروق

"کورونا بارے آگاہی نا کہ سازشی مفروضے”

18ہجری میں سرزمین عرب میں بڑا قحط پڑا، اسی سال عمواس میں طاعون کی وباء پھیلی،بڑے بڑے جلیل القدر صحابی اس وبا سے شہید ہو گئے،ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ ، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ ،یزیدبن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ ، حرث بن ہشام رضی اللہ تعالی عنہ ،سہیل بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ ، عتبہ بن سہل اور عامر بن غیلان رضی اللہ عنہم، اسی مرض میں مبتلا ہو کر راہی عالم آخرت ہوے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ‏ہ کو اطلاع ہوئ ، حضرت عمر فاروقؓ مدینہ منورہ پر حضرت علی مرتضیٰؓ کو واں مقرر کرکے ملک شام کے لئے روانہ ہوئے ۔ آپ کے ہمراہ مہاجرین اور انصار کے کبار مشائخ تھے جب آپ تبوک کے بعد اردن کے حدود کے پاس مقام ’سرغ‘‘ پر قیام کئے تو وہاں ملک شام کے امراء نے آپ کا استقبال کیا اور اطلاع دی کہ ملک شام کی سرزمین متاثر ہے ور وباء عام ہورہی ہے ۔ آپ نے سرکردہ حضرات سے مشورہ کیا اور بعد مشاورت واپس ہونیکا اعلان فرمایا ۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ جو اس وقت ملک شام کے امیر تھے وہ واپسی کی اس رائے کے مخالف تھے ، انھوں نے بے ساختہ کہا : ’’امیرالمؤمنین ! کیا آپ اﷲ کی تقدیر سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے واپس ہورہے ہیں ‘‘ ۔ یہ نہایت سخت جملہ تھا شاید حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کے علاوہ کوئی یہ جملہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس موقعہ پر ایک اُصولی قاعدہ بیان فرمایا جو تاقیامت اہل اسلام کی رہبری کرتا رہیگا ۔ فرمایا :’’ہاں ! ہم اﷲ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف لوٹ رہے ہیں ‘‘ ۔ پھر آپ نے آسان پیرایہ میں ایک مثال سے اس کی تشریح کی کہ ’’تمہاری کیا رائے ہے کہ تمہارے پاس چند اونٹ ہوں اور تم کسی ایسی وادی میں پہنچو اس کے ایک جانب سرسبزی و شادابی ہو اور دوسری طرف خشک و قحط زدہ ہو ۔ اگر تم سرسبز وادی میں چراؤگے تو بھی وہ تقدیر الٰہی سے ہے اور اگر خشکی میں چراؤ گے تب بھی تقدیر الٰہی کے تابع ہے‘‘ ۔ اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ بھی پہنچ گئے جو مشاورت کے وقت موجود نہیں تھے ۔ ان کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے کہامجھے اس بارے میں علم ہے میں نے نبی اکرم ! کو فرماتے ہوئے سنا ’’جب تم کسی مقام پر وباء کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور وباء کسی ایسے مقام پر آجائے جہاں پہلے تم موجود ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے مت نکلو۔
بعد ازاں حضرت عمر فاروقؓ مدینہ منورہ واپس ہوگئے اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ اپنے وفد کے ساتھ ملک شام واپس ہوگئے ۔ کچھ عرصہ نہیں گزرا وہ وباء دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک شام میں پھیل گئی اور ہزاروں صحابہ شہید ہوگئے ۔
موجودہ صورت حال میں سب سے پہلے تو عوام سنجیدہ ہی نہیں انکو یقین ہی نہیں کہ ایسی کوئی وبا ھے یہ صرف پاکستانی عوام کی بات نہیں پوری دنیا کے زیادہ تر لوگوں نے اس وبا کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں حکومتیں اپنی عوام پر اک حد تک ہی سختی کر سکتی ہیں آپ ترقی یافتہ ممالک میں دیکھیں مکمل لاک ڈاون کے باوجود کورونا بری طرح پھیلا وجہ صرف یہ کہ لوگوں نے اس بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا اور حکومتی احکامات کو رد کیا۔
آپ یہ بھی نوٹ فرما لیں کہ ان ممالک میں یہ وبا بھی کم پھیلی اور اموات بھی بہت کم ہو رہی ہیں جن کا میڈیا اور عوام انکے کنٹرول میں ہے جیسے بہت سے عرب ممالک چائینہ کوریا کیونکہ ان ممالک میں لوگ قانون پر عملدرآمد کرتے ہیں اور انکی عوام حکومتی طور پر بتائی گئی تدابیر پر عمل پیرا ہیں اور پھر ان ممالک میں جعلی خبریں پھیلانا سنگین جرم ھے عرب ممالک میں اس وبا سے متاثر ستر فیصد لوگوں کا تعلق دوسرے ممالک سے ھے جبکہ پاکستان میں تو اس وبا پر بھی سیاست ہو رہی ھے۔ الزام تراشیاں ہو رہی ہیں۔ ہر صحافی ہر لیڈر کی ہر ڈاکٹر کی اپنی سائینس ھے۔ اور اس بیماری کے متعلق مختلف افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ جیسا کہ ایک لاش کا 3500 ڈالر ملتا ھے ، بل گیٹس ویکسین بیچے گا ساتھ میں سب کے دماغوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لئیے ویکسین کے زریعے اک چپ جسم میں داخل کرے گا ۔ عام مریضوں کو زھر کا ٹیکہ لگایا جا رہا ھے ،دوسرا اللہ کی طرف سے نازل کردہ اس کورونا کو لے کر لطیفے بنائے جا رہے ہیں مذاق اڑایا جا رہا ھے اور ان حالات میں بھی جب لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں مردہ ضمیر لوگوں کیطرف سے چور بازاری عروج پر ھے منافع خور اور ذخیرہ اندوز موت کو بھولے بیٹھے ہیں پاکستان میں ان پڑھوں کو تو چھوڑئیے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی۔ پوری دنیا میں آپ دیکھیں لوگوں نے اس وبا کو سنجیدہ اسوقت لیا جب انکا کوئی اپنا اس وبا کی لپیٹ میں آیا کوئی جاننے والا اس مرض میں مبتلا ہوا یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تب انکو یقین ہوا ۔
پاکستان بھی اب اس صورتحال تک پہنچنے والا ھے جب انکا کوئی نہ کوئی عزیز یا جاننے والا اس وبا میں مبتلا ہو گا۔ ہر محلے میں کورونا کا مریض ہو گا اور یہ کورونا کا عروج ہو گا۔ اسکے بعد دنیا کیطرح پاکستان کے لوگ بھی سنجیدہ ہونگے اور احتیاط کریں گے ۔ اور یہ جولائی کے وسط میں ہو گا اسکے بعد اس وبا کا زوال شروع ہو گا ۔ اللہ پاک ہم سب کو ہمارے پیاروں کو ہمارے پڑوسیوں کو ہمارے عزیزوں کو اس وبا سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالی ہم کو جلد اس وبا سے نجات عطا فرمائے۔آمین

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔