منگل - 4 اکتوبر - 2022

ہر دلعزیز قلمکار.محمد سرور بجاڑ کے قلم سے ایک فکر انگیز تحریر "تضاد”

تحریر:محمد سرور بجاڑ 

   "تضاد”

ماشاءاللہ جی ماشاءاللہ۔بیگم زرا دیکھنا آج سورج کہیں مغرب سے تو  طلوع نہیں ہوا۔۔۔۔یہ حسیب کے باپ کی آواز ہے۔

·        حسیب جو ایم اے پاس کرنے کے بعد ایک سال سے گھر پہ پڑا ہے جس کی عادت ہے بارہ بجے اٹھنا اور پھر تازہ دم ہو کر سارا دن سڑکیں ماپنا۔آج صبح صبح اٹھنا عجیب  تو خیر تھا۔
اتنے میں ایک کوٹھڑی نما باورچی خانہ سے ایک نسوانی آواز ابھرتی ہے۔

 کیوں جی ایسا بھی کیا ہو گیا آج جو ایسےسوال کر رہےہو۔ یہ آواز حسیب کی ماں کی تھی۔
کچھ خاص ہوا ہے بیگم آپ کے برخودار شہزادے حسیب نے آج صبح صبح ہی بستر کو خیر آباد کہہ دیا۔
ماں جلدی سے پلٹی اور بیٹے کے صدقے واری جانے لگی۔ اور بڑی پریشان سےپوچھا بیٹا خیر ہے ۔جلدی اٹھ گئے ہو۔اتنے میں حسیب کی چھوٹی بہن آنسہ نے شوخی سے کہا آنکھوں سے تو لگتا ہے بھائی آج سوئے ہی نہیں۔ کیوں بھائی ؟
حسیب جو کافی دیر سے خاموش تھا۔سخت لہجے میں بولا اسی لئیے جلدی نہیں اٹھتا آپکے طنز نما سوالوں کے تیر کون سہے۔
جلدی سے ماں بولی!! نا بیٹا نا! تم طیش میں نا آو ہم سوال نہیں پوچھتے تم جلدی سےتازہ دم ہو لو۔آج سب کےساتھ ہی ناشتہ بھی کر لو اگر اٹھ گئے ہو تو۔۔بتاو میں اپنے بیٹے کے لئیے کیا بناوں ناشتے میں۔
اماں سوال تو ایسے کر رہی ہو جیسے حلیم پکا لو گی میرے لئیے۔ میں غسل کر لوں پھر کر لیتا ہوں آپکا ناشتہ بھی لہجے کی سختی نےسب کو خاموش کروادیا ۔باپ کے چہرے پر بھی ایک سختی آئی مگر ماں نے فورا ہی ٹہوکا دیتے ہوئے کہا کہ اس بے روزگاری نے چڑچڑا کر دیا ہے ۔میرا بیٹا ایسا تو نا تھا باپ نے ناگواری سے منہ پھیر لیا۔
اب دوبارہ سب ناشتے کی میز پر تھے تو باپ ہی سب سے پہلےبولا کہ اب اٹھ گئے ہو تو بہن کو یونیورسٹی چھوڑ آو اور سوئے رہنے سے روزگار نہیں ملنے والا ۔

حسیب جلدی سے بولا اسی لئیے اٹھا ہوں جلدی ایک جگہ  سی وی چھوڑ رکھی تھی۔ آج انٹرویو کی کال ہے وہیں جا رہا ہوں۔اور آنسہ صاحبہ کو میں نہیں چھوڑ سکتا مجھے جلدی نکلنا ہے۔باپ کچھ بولتا اس سےپہلے آنسہ خود بول پڑی کہ کوئی بات نہیں بابا میری آج ایک ہی کلاس ہے ۔اور وہ بھی دس بجے میں رکشہ لے کر چلی جاوں گی۔
ماں اب کے بار پھر بولی اور بیٹی کی طرف دیکھ کر کہنے لگی یہ کیا بات ہوئی کبھی آٹھ بجےپہنچنا ہوتا ہے کبھی دس بجے جاو گی۔یہ اسکول ہے جس کا کوئی اصول ہی نہیں ہمارے دور میں تو ایک ہی وقت تھا صبح آٹھ بجے جاو دو بجے چھٹی۔ یہ بات سن کر باپ بیٹی زور سے ہنسے۔ اور باپ بولا کہ بیگم تم نے کونسا پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔پورے گیارہ سال اسکول گئی تب جاکے مڈل پاس کیا مجھے تو اس میں بھی شک ہے۔
شکر ہی کرو میاں موہی پی ایچ ڈی نا کر گئی ورنہ تم سے موٹر مکینک سے کرتی شادی میں۔
۔ دیکھو اب یہ تم ذیادتی کر رہی ہو مانا موٹر مکینک ہوں مگر تمھیں تو شہزادیوں کی طرح رکھا کبھی کوئی کمی نا آنے دی۔ اچھا اچھا چھوڑو میں نے تو تمام عمر کوئی خواہش ہی نا کی مگر اب کروں گی خواہشیں خیر سےمیرا بیٹا جب کرے گا نوکری۔
بیٹا جلدی سے اٹھا اور اندر جانے لگا تھا کہ باپ نے آواز دی حسیب کونسی کمپنی ہے۔ جہاں جا رہے ہو وہ مڑا اور بولا بابا ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے اور آپ کیسےجاننےگے بھلا اسے۔اور وہ جلدی سے کمرے میں چلا گیا۔کمرے میں پہنچ وہ خوب تیاری کرنے لگا ایک سوٹ جو وہ کل ہی ایک دوست سے لایا تھا خاص آج کےدن کے لئیے ٹائی پہنتے ہوئے اس نے آئینےمیں خود کو دیکھا اور فاخرانہ انداز میں  ہنسی ہنسا اور پھر لباس پر پرفیوم لگانے لگا۔ خوبصورتی سے تیار ہونے کے بعد جوتا نکالتے ہوئے بجھ سا گیا مگر پھر اس نے جلدی سے جوتا پہنا مگر تیزی سے باھر نکل ماں کےسامنے بہن کا اسکارف چارپائی پر پھینکتے ہوئے بولا پچھلے چھ ماہ سے ایک جوتے کا بول رہا ہوں مگر نا ملنا تھا نا ملا۔مگر اس نوابزادی کے لئیے ہر ماہ کوئی نا کوئی چیز خریدی جا رہی ہے اب یہ اسکارف۔
باپ شاید پہلے ہی جا چکا تھا اور حسیب بھی جلدی سے موٹرسائیکل پر بیٹھ اسے اسٹارٹ کر چکا تھا۔سو ان ماں بیٹیوں سے ایک لفظ بھی بولا نا جاسکا لیکن حسیب کے نکلتے ہی اس کی ماں نے آنسہ سے پوچھا۔بیٹی یہ اسکارف کہاں سے آیا۔ تو آنسہ نے جواب دیا امی کل اپنی سہیلی فضیلت سے ایک دن کے لئیے تبدیل کیا تھا۔ آپکو پتا ہے مجھے یہ گلابی رنگ کتنا پسند ہے اور اس کے اوپر یہ گولڈن پھول مجھے بہت پیارے لگے تو ایک دن کے لئیے مانگ لیا۔ اب کے بار ملوں گی تو واپس کر دوں گی ۔

 امی نے اسکی طرف پیار سے دیکھا مگر ساتھ نصیحت کی کہ بیٹی آئندہ ایسا کبھی نا کرنا۔
اتنےمیں حسیب شہر کے بیچوں بیچ قائم گرلز ڈگری کالج کے گیٹ کے سامنے موجود تھا۔ ہاں حسیب کسی کمپنی میں انٹرویو کے لئیے نہیں بلکہ اپنی ایک دوست لڑکی سے ملنے گیا تھا۔ وہ کالج کا مرکزی دروازہ چھوڑ کر کوئی بیس سے پچیس فٹ کے فاصلے پر شہر کی طرف منہ کرے کھڑا تھا۔کوئی آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد ایک لڑکی رکشہ سے نیچے اتری اور دروازے کی طرف چل دی۔حسیب جلدی سے اسکی طرف گیااور دروازہ سےپہلے ہی آواز دے کے روک لیا "نائلہ” وہ تو جیسے اس آواز کے لئیے تیار نا تھی اسلئیے سنتے ہی گڑبڑا سی گئی۔ لیکن چارو ناچار اسے رکنا پڑا حسیب کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پہ کئی رنگ آ کر چلے گئے۔وہ کسمساتی ہوئی آواز میں بولی آپ ۔۔۔ آپ یہاں کیسے؟؟ حسیب بولا تو کیا تم یہ سمجھ رہی تھی کہ میں صرف باتیں کرتا ہوں انہیں پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔اور یہ کیا جب تمھیں معلوم تھا کہ آج ہم ملیں گے تو تم پھر یونیفارم میں آگئی ہو ۔
وہ جلدی سے دروازے کی حد سے باہر نکلی اور حسیب کو سمجھانے لگی۔ ایسا ہرگز نہیں   کہ مجھے آپ کی باتیں خالی دعوے لگتے ہیں مگر آپ جانتےہو یہ ٹھیک نہیں میں آپ سے ۔۔۔ خیر اب مل لیا نا جاو یہاں سے حسیب مسکرا کر بولا مذاق نا کرو نائلہ کل ہماری فون پہ یہی بات ہوئی تھی کہ میں آوں گا اور تم میرے ساتھ چلو گی ہم کالج سے باہر کہیں مل کے بیٹھیں گے باتیں کریں گے۔
حسیب آپ سمجھ نہیں رہے ہو میں نے یہ بات اگر کہہ دی تو معذرت مگر ایسا قطعی ممکن نہیں۔ میں اس طرح کی کوئی مصیبت مول نہیں لینا چاھتی۔آپ نہیں جانتے کہ مجھے کالج تک آنے کی اجازت کس طرح ملی ہے اب۔
حسیب بات کاٹتے ہوئے جلدی سے بولا ٹھیک ہے نائلہ یہ ہماری آخری ملاقات تھی میں نہیں جانتا تھا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتی۔ اگر تمھیں مجھ پہ بھروسہ نہیں تو پھر اس تعلق کا کوئی فائدہ ہرگز نہیں اور وہ چل پڑا۔ابھی موٹر سائیکل تک نہیں پہنچا تھا۔کہ نائلہ جلدی سے اس کے پیچھے گئی۔اور بولی حسیب اعتبار کی بات نہیں لیکن میں لڑکی ہوں اسطرح تمھارے ساتھ۔۔۔ لیکن حسیب موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بولا پلیز مجھے اگر مگر کی بتی کے پیچھے نا لگاو۔
اتنے میں کالج کے مرکزی دروازے سے کچھ آوازیں ابھریں اور ان کےچلتے نائلہ کو نا چاھتے ہوئے حسیب کی موٹر سائیکل پر بیٹھنا پڑا۔ اور وہ دونوں یہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔

 تقریبا پندرہ منٹ کی مسافت میں حسیب نے کئی سوال کئیے مگر نائلہ خود کو بمشکل سمیٹےہوئے خاموشی سے پیچھے بیٹھی رہی ۔بڑی ہمت کر کے بمشکل نائلہ نے صرف اتنا کہا کہ پلیز شہر سے نکلو یہاں سارا دن میرا بھائی گھومتا رہتا ہے۔ اس نے یا اس کے کسی دوست نے ہم دونوں کو دیکھ لیا تو قیامت آجائے گی حسیب نے اسکی بات مانتے ہوئے اپنی سواری کا رخ شہر سے باھر ایک نہر سے منسلک باغ کی طرف کر لیا۔
اتنے میں آنسہ یونیورسٹی کے دروازے پر رکشہ سے اتری تو سامنے فضیلت کو دیکھ کر اسکے پاس جا پہنچی۔ جاتے ہی پہلا سوال کیا کہ ارے تم یہاں کیسے آج تو تمھاری کوئی کلاس نہیں۔۔۔ پھر تم کیوں آئی فضیلت نے جلدی سے کہا میرا اسکارف دیدو۔ جس پر آنسہ نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا اور کہا کتنی سفاک ہو تم یار۔ تم چھٹی والے دن بھی اسکارف لینے آگئی ہو میں کھا جاتی کیا تمھارا اسکارف شاباش اچھی دوست ہو تم۔ ظالم کہیں کی لاو میرا  دو اور  لےلو اپنا سونے سےلدا اسکارف۔ جس پر فضیلت اسکے گلے لگ کر کان میں کوئی بات سنانے لگی اور پھر پیچھے ہٹ کر یہ بتایا کہ تمھارا اسکارف نہیں تم آج یہ دوپٹہ لےجاو۔اور فضیلت ایک گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئی۔
ادھر نائلہ اور حسیب اس باغ کے درمیان گھاس کی کیاریوں پہ بیٹھے تھے۔نائلہ کے چہرے کا رنگ زردی مائل تھا یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اغواء کر کے یہاں لائی گئی ہو۔ حسیب اس کی اس کیفیت کو جان چکا تھا اس کے باوجود وہ باتیں کر رہا تھا اسے بہلا رہا تھا۔
حسیب نے کہا تمھیں معلوم تھا کہ آج تم سے ملو گی پھر یونیفارم میں آئی یار آج تو تم کوئی اور لباس پہن لیتی تھوڑا میک اپ کر لیتی مجھے کتنا اچھا لگتا۔ تم بھی اور نکھر جاتی ۔۔ نائلہ نے جواب دیا حسیب دیکھو میں تم سے یوں کبھی نا ملنا چاھتی تھی۔اور پھر گھر سے آئی ہوں۔ کوئی ہاسٹل سے نہیں کہ جو بڑھکیلا سا لباس پہن کے نکلتی امی ابو بہن بھائیوں کو کیا جواب دیتی ویسے بھی آپ نے مجھے ہمیشہ ایسے ہی دیکھا ہےتو آج ان خواہشات کا مطلب۔ آپ نہیں جانتے کہ اس وقت میرے دل پہ کیا گزر رہی ہے۔پلیز اب بہت ہو گئی ملاقات واپس چلتے ہیں۔
مگر حسیب کی وہی ایک بات کہ تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں۔ تمھیں کس بات کا خوف ہے۔ ایسی ہی باتیں کرتے کچھ وقت گزر گیا ل۔لیکن اس دوران حسیب نے نا تو کوئی ایسی بات کی نا کوئی ایسی حرکت جو اخلاق سے عاری ہو بس وہ مستقبل کے خواب بنتا رہا۔جس سے نائلہ بھی کافی بہتر محسوس کر رہی تھی خیر اس کی یہ ضد ضرور رہی کہ حسیب اب چلتے ہیں۔اب جانا چاھئیے۔ حسیب بھی چارو ناچار اٹھا اور وہ شہر کی طرف نکلنے ہی لگے تھے کہ نائلہ کی نظر نہر میں اترتی سیڑھیوں پر پڑی۔ نائلہ کو نہر کا صاف شفاف پانی بہت اچھا لگا اور اس نے حسیب کو یہاں رکنے کی فرمائش کر دی۔حسیب نے سواری روک تو لی مگر اس شرط پر کہ وہ نہر کے پانی کی طرف نہیں جائے گا۔جس پر نائلہ چونکی اور اس نے وجہ پوچھی جس پر حسیب نے بتایا کہ وہ گہرے پانی کے قریب جانے سے ڈرتا ہے۔ بلکہ اسے اس کے قریب جانے پر ہی چکر آنے لگتے ہیں۔جس پر نائلہ اس دورانیہ میں پہلی بار بہت زور سے ہنس دی حسیب نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا تم مجھ پر ہنس رہی ہو ۔وہ فورا سنجیدہ ہو گئ مگر شوخی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔ وہ بولی یار کیسے مرد ہو آپ پانی سے ڈرتے تمھیں یہ پانی کھینچ تو نہیں لے گا ۔یار آپ مرنے سے کس قدر ڈرتے ہو اور دعوے بھی کیسے کیسے کرتے ہو ۔جس پر حسیب سخت ہوتے ہوئے بولا تمھیں موت سے ڈر نہیں لگتا۔وہ بولی نہیں مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا لیکن زندہ رہ کر پل پل مرنے سے ڈر لگتا ہے ۔
خیر وہ یہاں سے فورا ہی نکل کھڑے ہوئے نائلہ نے حسیب سے دریافت کیا کہ اب تم مجھے میرے کالج کے قریب چھوڑو گے نا !
تو حسیب بولا نہیں یار ابھی کالج سے چھٹی کا وقت بھی باقی ہے۔ میں تمھیں اس شہر کے سب سے مہنگے ریستوران میں کھانا کھلانے لے کر جاوں گا ۔جس پر وہ بدک گئی اور بولی میں آپ سے کہہ رہی ہوں میرا بھائی ہوتا ہے شہر میں وہ دیکھ لے گا۔ حسیب جلدی سے بولا وہ دیکھ لے گا تو تم بتا دینا کہ میں کون ہوں اور کیا چاھتا ہوں۔تم ڈرتی کیوں ہو ؟

میں تمھارے ساتھ ہوں میں ہر چیز برداشت کر لوں گا مگر تمھاری صفائی ضرور دوں گا۔
نائلہ بولی واہ اور تمھارا یہ خیال ہے کہ بھائی مجھ سے تفصیل پوچھے گا۔عدالت لگائے گا گواہ ہونگے۔نہیں  حسیب ایسا کچھ نہیں ہو مرد عدالتیں نہیں لگاتے فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ میری گردن اڑا دے گا اور اگر کچھ نا کر سکا تو خود مر جائےگا۔
حسیب حیرت سے بولا کیا اتنے ظالم ہیں تمھارے گھر والے۔
ہاں میرے گھروالے اتنے ہی ظالم ہیں حسیب صاحب دنیا کے اسی فیصد مرد اتنے ہی ظالم ہیں جسے آپ ظلم کہ رہے ہو وہ اسے غیرت کا نام دیتے ہیں۔اور ان مردوں نے غیرت کے تمام تقاضے ہم عورتوں سے منسوب کر رکھے ہیں۔ دراصل ہمارے سر کا دوپٹہ ہی ہے جو ان کا شملہ اونچا رکھتا ہے۔شاید تمھیں احساس نہیں مگر یہ احساس وقت آنے پہ خود بخود جاگتا ہے۔ کمزور سے کمزور مرد اس معاملے پر بہت وحشی بن جاتا ہے اور اسے خود اس کیفیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔اور یقین کیجئیے مجھے اس میں کچھ عجیب نہیں لگتا یہ تو رسم جہاں  ہے اور مجھے اس پہ فخر بھی۔ کہ میں اپنے گھر کے مردوں کی غیرت اور مان کو قائم رکھنے کا سبب ہوں۔اسی لئیے خوفزدہ ہوں کہ میری کسی حرکت سے میرے باپ اور بھائی کا کیا بنے گا ۔ حسیب اس جذباتی تقریر کے بعد بھی ہنس رہا تھا جیسے وہ ان رسومات  اور لوگوں کے بنائے ہوئے  اس قانون کو نہیں مانتا۔ اور اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ ٹھان چکا تھا کہ شہر کے اس ریستوران پہ وہ جا کے رہے گا۔جس کے بارے میں وہ سوچ چکا تھا اور نائلہ اسے اس سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وہ اپنی دھن میں چلتا رہا شہر کی قربت پھر سے نائلہ کا رنگ فق کرنے میں مصروف تھی۔ وہ خوفزدہ ہو کر خود کو سنبھالے اور پردہ کئیے منہ میں شاید آیت الکرسی پڑھتے شہر کے وسط  اس ریستوران تک بلآخر پہنچ ہی گئی۔

 وہ جلدی سے ریستوران کو سائبان سمجھ کر اندر چلی گئی اور حسیب بھی اسکے پیچھے سواری کو اسٹینڈ پر آن پہنچا۔ حسیب نے جونہی ریستوران کے اندر قدم رکھا اسے ایک لڑکی کی پشت نظر آئی ۔جس کے سر پر گلابی رنگ کا سنہری پھولوں والا اسکارف تھا۔ یہ دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا وہ آگے بڑا مگر اس کے قدم جیسے جم سے گئے۔ وہ جلدی سے پلٹا اور چند لمحوں میں دھواں چھوڑتا موٹر سائیکل نائلہ کی نظروں سے غائب تھا۔ لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔
رات ہونے کو تھی مگر حسیب گھر پر نا پہنچا ۔ماں بار بار آنسہ کو بھائی کو کال کرنے کا حکم دے رہی تھی اور آنسہ کا ایک ہی جواب تھا کہ بھائی کا فون بند جا رہا ہے۔
آنسہ ٹی وی دیکھ رہی تھی اور ساتھ کئی بار بھائی کو فون کر چکی تھی۔اتنے میں ٹی وی پر ایک نوجوان کی نہر میں ڈوب کر خود کشی کرنے کی خبر آئی جسکی پہچان کے لئیے اس کی موٹر سائیکل کا نمبر اسکرین پر چل رہا تھا۔۔۔۔
بس آنسہ کی چیخ سنائی دی اس کے بعد کا منظر ۔۔۔

محمد سرور بجاڑ

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔