ہفتہ - 23 اکتوبر - 2021
sumairah Aziz official

بچوں کا عالمی دن اور ایس پی ایم یو ڈی اے انٹرنیشنل کی 10 ویں سالگرہ-”سمیرہ عزیز آفیشل“ کی طرف سے براہ راست ٹیلی کاسٹ

نورالحسن گجر:جدہ سعودی عرب

بچوں کا عالمی دن اور ایس پی ایم یو ڈی اے انٹرنیشنل کی 10 ویں سالگرہ
بچوں کے عالمی دن اور سپمودہ انٹرنیشنل کی 10ویں سالگرہ تقریب بشمول بین الاقوامی شخصیات کو”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز“ عطا کرنے کی تقریب 20 نومبر 2020 کو زوم آن لائن پلیٹ فارم میں منعقد ہوئی جسے فیس بک اور یوٹیوب پر ”سمیرہ عزیز آفیشل“نے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیاجہاں دنیا بھر سے چھ لاکھ سے زیادہ ناظرین رجسٹرڈ ہیں۔ اس تقریب میں کئی بین الاقوامی شخصیات کوانسانیت کے لیے ان کی بے لوث خدمات، صحت کے تحفظ،معاشی ترقی اور عالمی امن کو فروغ دینے کی ان کی کوششوں کی بنیاد پر ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز اور”یو سی ڈی اسپیشل ریکگنیشن آنریز“ پیش کیا گیا۔
ایس پی ایم یو ڈی اے(سپمودہ) انٹرنیشنل کی زیرِ نگرانی سمیرہ عزیز ایونٹس کے زیر انتظام، یہ آن لائن کانفرنس اقوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور کے منشور کے عین مطابق، امن اور انسانیت کے مختلف عالمی مشنریوں کے اشتراک سے کی گئی تھی۔ روٹری انٹرنیشنل کلب اور ورلڈ پیس مشن کے ممبران نے بطور مہمان شرکت کی۔
اس کانفرنس کی میزبانی سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی سمیرہ عزیز، چیئرپرسن،سمیرہ ا عزیز گروپ آف کمپنیز نے کی۔
سمیرہ عزیز نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا،”آپ اپنے دوستوں کا انتخاب کرسکتے ہیں، لیکن آپ اپنے کنبے کا انتخاب نہیں کرسکتے اور میرے معاملے میں ایک تاحیات اعزاز میرے پاس چاندی کی تھالی میں آجا تا ہے کیونکہ مجھے محترم اور معزز رہنما داتو ڈاکٹر کماد علی کے خاندان میں اپنایا گیا تھا۔ مجھے بہت فخر ہے کہ مجھے ان کے ذریعے خلیج، ہندوستان اور پاکستان میں بطور”سفیر -ایٹ-لارج برائے خواتین“ اور اب ”عالمی یوم اطفال کے اعزاز یافتگان میں سے ایک“ کے طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔
سمیرہ عزیز نے کانفرنس کے میزبان کی حیثیت سے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا، ”ڈاکٹر علی ایک مفکر،انسان دوست اور امن کی ایک علامت ہیں جو ’سپمودہ‘ کے بانی رہے ہیں۔ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر متعدد عالمی ایوارڈز کے مستحق ہیں۔’’سپمودہ‘ ایک غیر معمولی غیر سرکاری ادارہ ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو بااختیار بناتے ہوئے ان میں امن، انسانی حقوق کو فروغ دیتا ہے۔
داتو ہارون آر۔ علی نے ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر کماد علی کے پیغام کی خواندگی کی اور اس کے بعد مزید باتیں کیں جوجنگ، معصوم بچوں کا استحصال، بچوں کے جسم فروشی، نابالغوں کی عصمت دری اور بچوں کی اسمگلنگ کے موضوعات پر تھیں۔
”یہ بات افسوس ناک ہے کہ کرونا کے وبائی مرض کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی تعلیم میں خلل پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ نے کرونا وائرس کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ تعلیم کے پروگرام کی بحالی ہواور وہ نارمل ہوسکے۔“ یہ ’سپمودہ‘ کے صدر ڈاکٹر علی کا پیغام تھا جنہیں 2015 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور ورلڈ بیسٹ ہیومنسٹ 2019 سے سرفراز کیا گیا تھا۔
”بچے صرف جسمانی بھوک کا نہیں بلکہ ذہنی و شعوری بھوک کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ موجودہ دنیا کو بچوں کے لئے وسیع پیمانے پر ایک خطرناک جگہ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں بے شمار ناانصافیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان میں سے ایک اموات کی شرح کا مسئلہ ہے،“صدر کا پیغام میں مزید ذکر تھا۔
صدر کے پیغام میں اس پروگرام کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا جس کا عنوان ”بچوں کا تعلیم، صحت، پناہ اور نگہداشت کا حق“ ہے اور جو اُن سماج یا برادریوں کی نشاندہی سے شروع ہوگا جو چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے یہ جانیں کہ امن کا واقعی کیا مطلب ہے۔
صدر کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ،”کچھ چیزیں جو ’سپمودہ‘ عطیہ کرے گی، وہ ہیں امن لائبریریاں، جن میں بچوں کے لئے کمپیوٹر، اسکولی لوازمات جیسے کتابیں، دیوار گھڑیوں کی فراہمی اور دیگر افراد کے لیے میڈیکل ایڈ کٹ باکس شامل ہیں اور ’سپمودہ‘ دس اعلیٰ امن خواہان طلباکی سرپرستی کرے گا۔“صدر کے پیغام میں کہا گیا۔
پرنس ہارون آر۔علی، جیوریس ڈاکٹر، شریعت کونسلر، نائب وزیر اعظم، رائل بلوئی دارالسلام، اور ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل کے خیر سگالی سفیر نے کہا کہ ہم بچوں کے تحفظ کی بحالی،ذہنی سکون اور تیز رفتار ترقی کے حصول میں اپنے نظاموں کو تیز کرنے کے لئے بین الاقوامی اور مقامی حکام دونوں سے اصرار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے تفتیش اور عدالتی کاروائیوں کو ممکنہ،
تیز، اور مؤثر طریقے سے کریں جو زمین پر بددیانتی اور بدعنوانی کررہے ہیں۔
”دنیا کو ایک بہترین مقام بنانے اور عوام کو ایک بہترین نسل بنانے کے لیے ہم عالمی یکجہتی کے عالمی اتحاد کو فروغ دے سکتے ہیں، اپنے وقت کو ہر دور کا سب سے بہترین وقت بنائیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نہ صرف اِس زندگی میں بلکہ اُس زندگی کے بعد کی زندگی میں بھی ہمیں اعلیٰ کامیابی کاحصول ہو۔“پرنس ہارون نے بچوں کو دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لئے ایک حل پیش کرتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر سانچی رستوگی،کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک نیورولوجسٹ، ممبئی، انڈیا نے اپنی پیشکش میں اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا کہ کوویڈ 19 نے بچوں کو کس طرح متاثر کیا اور حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔
”دنیا بھر میں پھیل جانے کے باوجود کرونا وائرس کے وبائی و طبی علامات بڑے پیمانے پر بچوں میں واضح نہیں ہیں۔ خوش قسمتی سے غیرمعمولی اورشدید کرونا وائرس کے معاملات بچوں میں عام نہیں ہیں۔ اب تک بچوں میں شدید کرونا وائرس اموات غذائی قلت، شدید انیمیا اور دل کی بیماریوں کے ساتھ دیکھی گئی ہیں۔“ڈاکٹر رستوگی نے کہا۔
”نئے نارمل طرز زندگی کو اپنائیں، جب بھی ضروری ہو، طبی امداد حاصل کریں۔ ہاتھوں کی صفائی اور معاشرتی فاصلے جیسے حفاظتی اقدامات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔“ ڈاکٹررستوگی نے زور دیتے ہوئے کہا۔
ولیم ریگلر،ڈائریکٹر جنرل آف’واک فار پیس‘ جاپان اورسی ای او، بلّیز کڈزانگلش جو تیس ہزارسے زیادہ جاپانی بچوں کو بڑے پرجوش طریقے سے انگریزی کی تعلیم دے رہے ہیں،نے بیرونی ممالک میں امن اور بچوں کی ترقی کے مشنری کی حیثیت سے اپنے طویل سفر کے بارے میں بات کی۔
”بچوں کو مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ وہ ایک بار پھر حدود کے ساتھ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ گذشتہ سال، میں نے اپنی ”غیرمماثل جراب برائے شمولیت کی تحریک“
کا آغاز کیا تھا۔ میں نے انہیں بتایا چونکہ تمام رنگ اور نمونہ ایک ساتھ بہتر ہیں، جلد کے رنگ کا سبق، میں اپنے جرابوں سے میل نہیں کھاتا،“ ریگلر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو خود کے بارے میں قابل، پیار اور مثبت محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔
”میں احترام کا درس دیتا ہوں۔۔۔۔ بزرگوں کا احترام، ہم جماعتوں کا احترام، اِملاک، فطرت اور اپنے آپ کا احترام۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ کے پیچھے آپ کے باپ دادا کی لمبی لمبی قطاریں کھڑی ہیں، آپ کو دیکھ رہے ہیں ، آپ کا حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اپنے الفاظ اور اعمال کے ذریعے ہمیشہ ان پر فخر کرو۔“ ریگلر نے کہا اور مشورہ دیا کہ اگر آپ کو ایک اچھی میراث چاہیئے تو اچھی زندگی گزاریں۔
ڈاکٹر وفا آر۔ قاسمیہ کو کچھ اور نمایاں تنظیموں میں مختلف لوگوں تک پہنچنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے بہت سارے مواقع اور رسائی ملی ہے تا کہ وہ حکومت دبئی کے شعبہئ اسلامی امور اور فلاحی سرگرمیوں کے شعبہ میں ثقافتی کنسلٹنٹ ہونے میں بہت سے لوگوں کی مدد کریں۔
”میں یہاں دبئی میں تراحم چیریٹی اور ہلال احمر کے ساتھ مل کر لوگوں، فلپائنوں اور غیر فلپائنوں، مسلمانوں یا غیر مسلموں کے ساتھ پہنچنے کے لئے گٹھ جوڑکرنے میں کامیاب رہی تھی۔ مدد کی کوئی نسل، مذہب، عمر، جنس اور رنگ نہیں ہے۔ ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل اور اسکول کے عملے کے ساتھ مل کر، ہم فلپائن کے مختلف اسکولوں میں بچوں کو خوراک بہم پہنچانے میں کامیاب رہے۔ نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے گروپ کو بھی جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا تھا،ہم نے مدد کی۔“ قاسمیہ نے کہا جب کہ وہ”یتیم اور غیر یتیم کے لئے چیریٹی کی حوصلہ افزائی اور غریبوں کو کھانا کھلانا“ موضوع پر بول رہی تھیں۔
”جب میں نے اپنے آپ کو صحیح لوگوں سے منسلک کیا، تب میں ان لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی جو واقعتاً ضرورت مند تھے،خاص طور پر دور دراز علاقوں میں۔ پانی ہماری زندگی کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے۔ اس چیریٹی کے ایک حصے کے طور پر ہم ایلوایلو اور فلپائن کے دیگر حصوں میں پانی کے پمپوں کو عطیہ کرنے میں کامیاب رہے۔“قاسمیہ نے کہا۔
قاسمیہ نے چیریٹی کے گہرے معنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا جسے وہ سمجھتی ہیں کہ،”اگریہ بلا تفریق و بے لوث ہو کر صرف ’دینے‘کے بارے میں ہے،تبھی ر دوسروں کی زندگیوں میں بدلاؤ اورمثبت اثرات ثبت کر سکتے ہیں،ورنہ نہیں“۔
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز اور یونیورسل چلڈرن ڈے کے اسپیشل ریکگنیشن آنریز مندرجہ ذیل افراد کو پیش کیا گیا۔
آمل داتو علی، (سفیرِامن اور سربراہ، ’سپمودہ‘ کمیشن برائے پبلک سیفٹی اینڈ سکیورٹی، بی اے آر ایم ایم)؛

پولیس لیفٹیننٹ امینوڈن منگونڈے، (سفیر ِ امن اور ’سپمودہ‘ کمیشن برائے پبلک سیفٹی اینڈ سکیورٹی، فلپائن کے سربراہ)

شہزادہ سمن بروا، (ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ’سپمودہ‘، آسیان ممالک، خیر سگالی سفیر، بنگلہ دیش)؛

ہزایکسی لینسی کیمیکوہناریس (سفیرِ امن /ڈیپوٹی ڈائریکٹر جنرل، ’سپمودہ‘ امریکہ؛

ماریسیل لابرا (’سپمودہ‘ انٹرنیشنل میں خیر سگالی سفیر، منٹن لوپہ ڈانس کمپنی، فلپائن کے سربراہ)

سلامی اولڈارے بینجمن، (’سپمودہ‘ میں امن سفیر، نائیجیریا میں افریقی بچوں کے لئے ایوارڈ یافتہ سوشل ورکر)؛

ڈیوڈ منیرمپا، (برونڈی اور ’سپمودہ‘ خیر سگالی سفیر / نمائندہ)؛

ڈاکٹر نگین ہوانگ نام، (’سپمودہ‘ انٹرنیشنل ہیڈ نمائندہ، ویتنام)؛

ولیم ریگلر، (ڈائریکٹر جنرل،واک فار پیس،جاپان اور بلی کے کڈز انگلش کے سی ای او)؛

لائی کیٹ یونگ، (سیکرٹری جنرل، ورلڈ بودھسٹ ایسوسی ایشن، ڈائریکٹر جنرل، ایس پی ایم یو ڈی اے انٹرنیشنل آسیان 10، ملائیشیا)؛

پرنس تھانورا نورودوم، (صدر، پرنس تھنورا اسستنس، کمبوڈیا)؛

کرسٹینا آئسنبرگ، (سی ای او، کیپ ڈائیورز سائٹس، ’سپمودہ‘ نٹرنیشنل یورپ، فرانس)؛

جنکو ایشیکاو، (ڈائریکٹر جنرل، ایس پی ایم یو ڈی اے، ایشیا۔ پیسیفک، جاپان)؛

جے ہیوک جنگ، (صدر، جے گلوبل بزنس کارپوریشن، جنوبی کوریا، فلپائن)

جانی ٹی گلنگ، (ڈائریکٹر، دفتر برائے مسلم امور منٹنلوپا سٹی، نائب صدر، ’سپمودہ‘ ،لوزون، فلپائن)۔

بائی جین پیانگ شیور، (ڈائریکٹر جنرل، ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل، ریاستہائے متحدہ امریکہ)؛

وفا قاسمیہ، (سینئر کلچرل کنسلٹنٹ،حکومت دبئی، متحدہ عرب امارات)؛

مون یونگ جو، (صدر، انٹرنیشنل انٹر ایجنسی ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن، جنوبی کوریا)؛

جوراس پیٹاسیٹھاکارن، (صدر، پنکو انٹرنیشنل، تھائی لینڈ)؛

جنڈیتھ ویرا ارنیز، (نائب صدر، نیگروز میری ٹائم کالج فاؤنڈیشن، انکارپوریشن، فلپائن)

سپکوٹا پردیپ، (ڈائریکٹر، سن وے ریسرچ اینڈ انوویشن سینٹر، صدر،چانگ نیپالی نیپالیز مشن کے نمائندے، ’سپمودہ‘ ایس سی سی آئی انٹرنیشنل، نیپال)

رکی ماتالم، (امن سفیر، ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل، فلپائن)۔

سمیرہ عزیز (چیئرپرسن،سمیرا عزیز گروپ، میڈیا پرسن اور سفیر ایٹ – لارج فار ویمن اینڈ چلڈن، مشرق وسطی، پاکستان اور ہندوستان، سعودی عرب)؛

شائنا سنسارا، (مس ارتھ انڈیا 2017 اور مس ’سپمودہ‘ انٹرنیشنل)؛

ڈیوڈ بروس جیکسن، (خیر سگالی سفیر، ’سپمودہ‘ ،میری لینڈ، امریکہ اور سینئر
ایڈوائزر. امریکہ)؛ اور

ٹی آر ڈی داتو ہارون علی، (ڈی پی ایم، رائل ہاؤس آف بلوئی دارالسلام، آئی این سی ایم پی، فلپائن)۔

یہ بھی چیک کریں

پاکستان میں کوئی ادارہ سوشل میڈیا اکاونٹس کو ٹریس نہیں کر سکتا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کا اعتراف۔

پاکستان میں کوئی ادارہ سوشل میڈیا اکاونٹس کو ٹریس نہیں کر سکتا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کا اعتراف۔

ولید بن مشتاق،اسلام آباد الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کو بہتر بنانے کے معاملے پر پیش …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے