ہفتہ - 23 اکتوبر - 2021
شہید محترمہ بینطیر بھٹو کا سفر آخرت-تحریر - زاہد حسین:.

شہید محترمہ بینطیر بھٹو کا سفر آخرت-تحریر – زاہد حسین:.

 "شہید محترمہ بینطیر بھٹو کا سفر آخرت "

اکتوبر میں بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد پر استقبالی جلوس میں دو بڑے دھماکوں اور ایک سو سے زائد کارکنوں کی شہادت کے بعد مجھے میرے رائیٹرز کے گلوبل فوٹو ایڈیٹر ٹام نے پہلے ایک ای میل کے ذریعے اور پھر فون پر بینظیر بھٹو سے دور رہنے کی ہدایت کی اور زور دے کر کہا کہ ہم اپنا کوئی اسٹاف یا اسٹنگر ہلاک دیکھنا نہیں چاہتے بعد ازاں یہی بات ہمارے ایشیا کے فوٹو ایڈیٹر پال بارکر نے مجھے فون پر کہی۔ اسٹاف میں میرے علاوہ اسلام آباد میں میاں خورشید تھا اور باقی میرے پاس 19 کے قریب فوٹوگرافرز تھے جو اسٹنگرز کی حیثیت میں پورے ملک میں کام کر رہے تھے۔ چیف فوٹوگرافر کی حیثیت سے میں نے ہر ایک سے رابطہ کر کے سب کو ٹام اور پال کا پیغام پہنچایا اور انہیں تاکید کی کہ جلسوں اور جلوسوں میں ایک خاص فاصلہ رکھ کر کام کیا جائے اور بی بی کی گاڑی سے دور رہا جائے مگرمحفوظ مقام جیسے گھر وغیرہ کے اندر بینظیر بھٹو کی پریس کانفرنس اور میٹنگوں وغیرہ کی کوریج نارمل طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ دسمبر کے مہینے میں مجھ پر کا م کا بہت زیادہ پریشر تھا۔ مشرف کی ملک میں ایمرجنسی کے خلاف اور ججوں کی حمایت میں وکیلوں کی تحریک چل رہی تھی اور کچھ جگہ پولیس ایکشن ، آنسو گیس اور ہنگامہ آرائی بھی ہوتی رہی، نوشہرہ میں فوجی چھاؤنی کے اندر خودکش بم دھماکہ ہوا، چارسدہ میں مسجد میں خود کش دھماکہ ہوا جس میں کافی لوگ شہید ہوئے اس کے علاوہ بھی دو اور دھماکے ہوئے۔ بقر عید بھی آئی اور قربانیاں بھی ہوئیں۔ محراب پور
میں ٹرین حادثہ بھی ہوا جس میں 58 مسافر جاں بحق ہوئے ۔ اس کے علاوہ جنوری میں ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں بی بی شہید ، نوازشریف ، اے این پی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی، عمران خان اور اچکزئی کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے جلسے بھی چل رہے تھے اے پی ڈی ایم نے بعد میں الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور ان کے جلسے بائیکاٹ ریلیوں میں تبدیل ہو گئے تھے جو کچھ جگہ ہنگامہ آرائیوں میں تبدیل ہوئے۔میرے پاس ملک بھر سے تصویروں کا تانتا بندھا رہتا جو میں ای میل سے ڈاؤن لوڈ کرتا اور رائٹر کی خبروں کی مناسبت سے اور دیگر اچھے سبجیکٹ والی تصویریں سلیکٹ کر کے ایڈیٹ کرنے کے بعد کیپشن کرتا اور فوٹو ڈیسک سنگاپور کو ٹرانسمٹ کر دیتا۔ سبجیکٹ وائز اچھی کوالٹی، شارپ اور اچھی کمپوزڈ پکچر کا ہونا لازم تھا جس کی میں اپنے اسٹاف اور اسٹنگرز سے بار بار تاکید کرتا رہتا تھا کیونکہ ہمارا فوٹو ڈیسک اس پر کسی قسم کا کمپرومائز کرنے کو تیا ر نہیں ہوتا تھا جبکہ میری کوشش ہوتی تھی کہ میرے اسٹنگرز کی زیادہ سے زیادہ تصاویر چل جائیں تاکہ ان کے زیادہ پیسے بن جائیں۔میں نے ان کو رائٹرز میں اپنے بڑوں سے بحث و تکرار کے بعد اچھے کیمرے بھی دلوائے تاکہ ان سے ہمیں بہتر تصاویر مل سکیں۔ میں نے اپنے اسٹنگرز پر ہمیشہ بھروسہ کیا
اور انہوں نے بھی مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔افغانستان میں البتہ ہمیں کبھی دوردراز علاقوں کے باعث پریشانی ہوتی تھی اور اس سلسلے میں ان دنوں ہم نے کابل سے ہمارے ایک فوٹوگرافراحمد مسعود کو ٹریننگ کے لیے پاکستان بلایا ہوا تھا جو اس وقت اسلام آباد میں مقیم تھا اس کے علاوہ جنوری میں ہونے والے الیکشن کے باعث میں نے اپنے فوٹو ایڈیٹر سے مدد مانگی تھی اور تین اسٹاف فوٹوگرافر مانگے تھے جو تمام مشہور فوٹوگرافر تھے جن میں گوراں نامی فوٹوگرافر پہنچ چکا تھا اور وہ اسلام آباد میں تھا وہ ایک ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر ہے وہ اس سے پہلے اکتوبردو ہزار پانچ کے زلزلے میں بھی آیا تھا اور پاکستانیوں اور انکے بارے میں علم رکھتا تھا۔اس کے علاوہ میں نے جیری لیمپن کو بلوایا تھا جو فلسطین میں کافی عرصہ سے کام کر رہا تھا اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت سے واقف تھا اور خود بھی ھالینڈ کا ہونے کے باوجود فلسطینی زیادہ لگتا تھا اسے پاکستان آنے کا بہت شوق تھا اور مجھ سے اکشر بات ہوتی رہتی تھی۔ بی بی شہید کے لئے میں نے رائٹرز کی مشہور خاتون فوٹوگرافر زہرہ کو بلوایا تھا ۔ کیونکہ میرے خیال میں وہ عورت ہونے کے ناطے ہر وقت بی بی شہید کے ساتھ رہ سکتی تھی جس کا ہمیں فائدہ ہوتا باقی میں خود بھی بی بی کی الیکشن کے دن کوریج کرتا کیونکہ بی بی شہید کے تین الیکشن کور کر کے میں الیکشن والے دن بی بی کی مصروفیات سے اچھی طرح واقف تھا جس کا میں ہمیشہ فائدہ اٹھاتا رہا جبکہ باقی گورے کالے سب صحافی لا علم ہی رہتے تھے کہ ووٹ ڈالنے کے بعد وہ کہاں گئیں۔ رائٹرز کی ایک اچھی روایت یہ بھی تھی کہ باہر سے آنیوالا فوٹوگرافر چاہے کتنا بھی بڑا نام ہو جس ملک میں بھیجا جاتا تھا وہ وہاں کے چیف فوٹوگرافر کے ماتحت ہی سمجھا جاتا تھا اور چیف فوٹوگرافر کی ہدایات اور مشاورت سے ہی کام کرتا تھا۔ شاید اب بھی یہ روایت برقرار ہو کیونکہ مجھے رائٹرز سے ریٹائر ہوئے بارہ سال ہو چکے ہیں۔اور پھر میں جنگ گروپ آف نیوزپیپرز میں پانچ سال فوٹو ایڈیٹر کی حیثیت سے کم کرتا رہا لیکن بعد ازاں خرابیِ صحت کے باعث چھوڑ دیا۔ بہر حال دسمبردو ہزارسات میں پورا مہینہ میں سخت مصروف رہا اور دن رات میں چار گھنٹے سے زیادہ کا آرام نصیب نہیں ہوا۔ بینظیر بھٹو نے سترہ دسمبر کو حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کیا جسے میں نے خود کور کیا۔ اور اپنے فوٹو اسٹنگر اکرم شاہد کو اگلے دن اٹھارہ دسمبر کو بی بی کے میر پور خاص کے جلسے کے لئے بھیجا ۔ انیس دسمبر کو میں نے اکرم شاہد کو بی بی کے نواب شاہ کے جلسے کے لئے بھیجا مگر اسی دن محراب پور میں
ٹرین کا حادثہ ہوا جس میں اٹھاون افراد جاں بحق ہوئے لہٰذہ اکرم کو ٹرین حادثے کی کوریج پہ بھیجا اور لاڑکانہ سے ندیم سومرو کو کہا کہ بی بی کا نواب شاہ کا جلسہ کور کرے ۔ دونوں نے اچھی تصاویر بھیجیں اور پال بارکر فوٹو ایڈیٹر نے تعریف کی۔ بیس دسمبر کو بی بی شہید نے کوٹ الہ یار اور پھر جیکب آباد میں جلسوں سے خطاب کیا جسے میرے ملتان کے فوٹوگرافر عاصم تنویر نے کور کیا جبکہ میں نے جیکب آباد میں لاڑکانہ سے ندیم سومرو کو بھی بھیجا تھا اکیس
دسمبر کو بقر عید تھی اور کوئی جلسہ جلوس نہیں تھا لہٰذہ عید کی نماز اور جانوروں کی قربانی کی تصاویر پر کام ہوا- بائیس اورتئیس دسمبر کو بی بی شہید لاڑکانہ میں تھیں اور بائیس کو اپنے حلقے میں لوگوں سے ملیں اور ریلی بھی نکالی- تیئیسی دسمبر کو بی بی نے لاڑکانہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا اور دونوں دن ندیم سومرو نے تصاویر بھیجیں ۔ یہ بی بی کا لاڑکانہ میں آخری دن تھا۔ چوپیس کو بی بی شہید نے رحیم یار خان میں جلسے سے خطاب کیا اور پچیس دسمبر کو لودھراں اور مظفر گڑھ میں دو بڑے جلسوں سے خطاب کیا ۔ دونوں دن ملتان کے عاصم تنویر نے کور کیا- بی بی بھی اپنے شہید باپ کی طرح نہ تھکنے والی شخصیت تھیں میں نے انہیں کبھی تھکے انداز میں نہیں دیکھا۔ ستائیس دسمبر کو بی بی اسلام آباد پہنچیں اور حسن ابدال میں ریلی سے خطاب کیا اور راولپنڈی میں کارکنوں سے ملاقاتیں کیں اور اگلے روز ستائیس دسمبر کے جلسے کے بارے میں پارٹی کے لوگوں سے تبادلہ خیال کیا۔ستائیس دسمبر کے بی بی کے جلسے کیلئے میں نے اسلام آباد کے اسٹاف میں خورشید اور اسٹنگر فیصل محمود کی ڈیوٹی لگائی تھی اور گوراں اور احمد مسعود کو
اس جلسے سے الگ رکھا تھا ( مجھے کچھ ایسی اطلاعات ملیں تھیں جو میں یہاں شئیر نہیں کروں گا) خورشید اور فیصل کو میں نے ٹام اور پال کی دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا اور بی بی سے دور رہ کر کام کرنے کا دہرایا۔
ستائیس دسمبر کو میں باقی شہروں کی تصاویر نمٹاتا رہا ۔ بی بی کا خطاب میں نے ڈان ٹی وی پر سنا اور پھر وہ بد قسمت وقت شروع ہوا جب خوش و خرم بی بی اپنی گاڑی میں سوار ہوئیں اور دنیا نے دیکھا کہ اس ملک کے مقدر کا ستارہ کیسے غروب ہوا۔ بھٹو خاندان کی ایک اور جان اس ملک پہ قربان ہو گئی۔ دھماکے کے وقت فیصل موجود نہیں تھا وہ بریکنگ پکچرز بھیجنے کے لئے دفتر آ چکا تھا ، خورشید وہاں موجود تھا اور ذرا دور تھا مگر دھماکے کی شدت کے باعث زمین پر گر پڑا اور کچھ لوگ اس پر گر گئے مگر یہ سب معمولی چوٹوں ساتھ بچ گئے۔ گوراں، احمد مسعود اور فیصل کو مختلف اسپتالوں کی طرف دوڑایا گیا کیونکہ بی بی کی گاڑی لوکیٹ نہیں ہو رہی تھی۔ خورشید نے دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے کارکنوں کی اسپاٹ کوریج کی اورفون پر صورتحال سے آگا ہ کیا بیوروچیف سائمن کیمرون مور کو بھی اس کی فکرتھی اور ضرورت بھی کہ اسے بریکنگ خبر بھیجنے کے بعد تفصیلی خبر کیلئے عینی شاہد کی ضرورت تھی لہٰذہ میں نے خورشید کو جلد از جلد دفتر پہنچنے کا کہا۔ دوسری طرف فیصل اس اسپتال پہنچ چکا تھا جہاں بی بی کو لے جایا گیا تھا اور وہاں روتے پیٹتے کارکنوں کی تصاویر بناتا رہا حتٰکہ احمد مسعود بھی دہاں پہنچ گیا۔ بی بی کی شہادت کی خبر ریلیز ہونے کے بعد اس کی میت گڑھی خدا بخش لائے جانے کی اطلاع ملی تو سنگاپور فوٹو ڈیسک نے فون پر مجھ سے کوریج پلان مانگا۔دوسری طرف رائٹرز کے نیوز ایڈیٹر نے ہمارے بیورو چیف سے تدفین کا کوریج پلان مانگا۔پریشانی کے عالم میں بیوروچیف سائمن نے مجھے فون کیا کہ کیا کیا جائے میں نے اس کو بتایا کہ پاکستان کے تقریباً ہر حصہ سے ہنگاموں کی اطلاعات مل رہی ہیں اور مجھے کراچی میں اپنے اسٹنگر اطہر حسین سمیت دیگر شہروں سے گاڑیوں کے جلائے جانے اور توڑ پھوڑ کی تصاویر آنا شروع ہو چکی ہیں ایسے میں یہاں سے لاڑکانہ پہنچنا ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے اس نے جواب دیا ” زاہد کچھ کرو مجھے معلوم ہے کہ تم یہ معجزہ کر سکتے ہو” ۔ میں نے لاڑکانہ میں ندیم سومرو کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ سر حالات بہت خراب ہیں پورا شہر بند ہے اور لوگوں نے کچھ سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے ۔ دادو بھی مکمل بند ہے اور ہائی وے پر لوگوں نے بڑے بڑے درخت کاٹ کر ڈالنا شروع کر دئے ہیں ہر طرح کی ٹریفک بند ہو چکی ہے میں نے جلتی گاڑیوں کی تصاویر بنا لی ہیں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اس سے بات کرنے کے بعد میں نے حیدرآباد میں اکرم شاہد کو فون کیا تو اس نے بھی بتایا کہ سر حالات بہت خراب ہیں تما م شہر بند ہے اورہنگامہ آرائی جاری ہے میں ابھی ابھی جام شورو سے آیا ہوں ھائی وے پر لائن سے بسوں اورٹرکوں کو آگ لگا کر ٹریفک مکمل بند کر دی ہے میں نے جلتی بسوں کی تصاویر بنا لی ہیں اور آپ کو بھیج رہا ہوں۔ملک کے دیگر شہروں سے بھی یہی کچھ خبریں ملیں ۔ میں جلدی جلدی ان تمام تصاویر پر کام کرتے ہوئے سوچتا رہا کہ لاڑکانہ کیسے پہنچا جائے۔ اس اثناء میں میرا بیٹا محسن بھی شہر کی کچھ تصاویر بنا لایا ۔ میں نے اس سے شیرٹن ہوٹل کے رینٹ اے کار کا نمبر دیتے ہوئے کہا کہ تم ان سے لاڑکانہ کیلئے گاڑی مانگو ہم وہاں بی بی کے سوئم تک رکیں گے۔ اس نے فون کیا اور مجھے بتایا کہ رینٹ اے کار والے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی سروس شہروں اور ھائی ویز پر ہنگامہ آرائیوں کے باعث معطل کر دی ہے آپ ہمارے کلائنٹ ہیں مگر آج ہم آپ کو گاڑی نہیں دے سکتے۔میں اس کی بات سے پریشان ہو گیا اور میں نے بیٹے سے کہا کہ دوسرے ہوٹلوں کے رینٹ اے کار والوں سے بات کرو اور ایک فون نمبر ایک پرائیویٹ ٹیکسی چلانے والے کا بھی دیا کہ سب سے بات کرو۔میں اپنا کام کرتا رہا اور محسن فون پر مختلف جکہوں پر بات کرت رہا ۔ آخر اس نے بتایا کہ کوئی ہوٹل والا گاڑی دینے کو تیا ر نہیں ہے اور پرائیویٹ ٹیکسی والے رحمان نے بھی انکار کر دیا ہے ۔ میں اٹھ کر نیوز روم میں گیا اور اپنے رپورٹرز عامر اشرف اور فیصل عزیز سے کہا کہ کوئی لاڑکانہ کیلئے گاڑی نہیں دے رہا کہیں سے گاڑی کا انتظام کردیں ۔ فیصل نے کہا کہ دفٹر کی گاڑی کی حالت تھوڑی خراب ہے مگر ہم اس پر جا سکتے ہیں میں نے کہا کہ ڈرائیور اشرف کو بلا کر پوچھیں ۔ اشرف کو بلایا گیا اور اسے لاڑکانہ جانے کا کہا گیا تو اس نے صاف انگار کردیا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ گاڑی آج صبح سے خراب ہے اور تنگ کر رہی ہے دوسری بات یہ ہے کہ حالات بہت خراب ہیں اور میں تو بلکل نہیں جاؤں گا۔اب میری پریشانی میں اضافہ ہو چکا تھا۔ رائٹرز کے مینوئل کے مطابق کوئی بھی ملازم جنگ،فسادات یا دیگر خراب حالات میں کام کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔عامر اشرف نے کہا کہ گاڑی ہمیں دے دو ہم میں سے کوئی بھی چلا لے گا تو ڈرائیور نے کہا میرا کہنا مانو تو یہ گاڑی آپ نہ لے کر جاؤ کیونکہ یہ خراب ہے اور آپ اس پر اس حالت میں کبھی لاڑکانہ تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ میں خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گیا میری گاڑی ہنڈا سوک میرے بیٹے محسن کے پاس ہی رہتی تھی وہی اپنی والدہ اور بہنوں کو کہیں لاتا لے جاتا تھا اور میں اپنے ویسپا کا اتنا عادی ہو چکا تھا کہ محسن کے بار بار کہنے پر بھی میر ا اپنی کار چلانے کو دل نہ کرتا تھا میں نے محسن سے پوچھا کہ ہماری گاڑی کی کیا حالت ہے کیا یہ ہمیں لاڑکانہ تک پہنچا سکتی ہے اس نے کہا کہ گاڑی تو ٹھیک ہے مگر ایک تو اس کی بیٹری ڈاؤن ہے دوسرے اس میں پیٹرول صرف اتنا ہے کہ ہمیں حیدرآباد تک لے جائے میں نے اس سے کہا کہ ہمارے ڈرائیور اشرف کو بلا کر لاؤ ۔ وہ اسے بلا لایا تو میں نے اشرف سے کہا کہ بیڑی ڈاؤن کا کیا علاج ہے اس نے کہا کہ دو تاریں دفتر کی گاڑی کی بیٹری سے لگا گر تھوڑا چارج کر لیں اور پھر چلتی گاڑی بیٹری کو خود چارج کر دے گی میں نے محسن سے کہا کہ اشرف کے ساتھ جا کر ایسا ہی کرو میں یہ کچھ اور تصویریں کلئیر کر دوں۔ محسن کچھ دیر بعد واپس آیا اور بتایا کہ اب گاڑی گا سیلف کام کر رہا ہے۔میں نے کہا کہ قریب کے دو پیٹرول پمپس پر جا کر گاڑی کی ٹنکی فل کروا لو اگر پیٹرول نہ ملے تو زیادہ دور تک مت جانا اور جو پیٹرول گاڑی میں ہے وہ بچا کررکھو کہ ہمیں حیدرآباد تک لے جا سکے۔اس دوران ہمیں اطلاع ملی کہ بی بی شہید کا تابوت گڑھی خدا بخش روانہ کر دیا گیا ہے۔اس دوران سائمن کا فون پھر آیا اور اس نے بتایا کہ بی بی کی تدفین کل ہی ہوگی اور اس نے کہا کہ زاہد اب ہمارا وہاں ہونا بہت ضروری ہے میں نے کہا کہ میرا تو ایک آدمی ندیم سومرو وہاں موجود ہے مگر میں بھی وہاں پہنچنا چاہتا ہوں اور اس کو رینٹ اے کار والوں کی کہانی سے لے کر دفتر کے ڈرائیور اور خراب گاڑی کا بتایا تو وہ بھی پریشان ہو گیا لیکن جب میں نے بتایا کہ میں اپنی گاڑی لے کر جاؤں گا اور میر ا بیٹا محسن ڈرائیو کرے گا تو اس کی جان میں جان آئی اور اس نے ہمارے لئے خیریت سے پہنچنے کا اظہار کیا اس نے کہا کہ رپورٹنگ کیلئے فیصل عزیز کو ساتھ لے جائیں۔اس دوران محسن واپس آ گیا اور اس نے بتایا کہ قریب کے دونوں پیٹرول پمپس بند ہیں اور کوئی بھی پیٹرول نہیں دے رہا ہے، میں نے کہا کہ میری ویسپا لے جاؤ اور گھر جا کر ایک اپنا اور ایک میر ا کپڑوں کا جوڑا لے لو اور دو عدد کمبل بھی کہ اگر کہیں ہائی وے پر رکنا پڑ جائے تو رات میں شدید سردی سے بچا جاسکے۔فیصل عزیز سے میں نے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ چلے گا اس نے بتایا کہ ہاں سائمن سے بات ہو گئی ہے۔ اس نے پوچھا کب نکلنا ہے میں نے کہا کہ رات بارہ بجے۔فیصل نے کہا کہ اتنی دیر سے ؟ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں ہمیں ٹریولنگ میں دشواری ہوگی۔ ہم اگر بارہ بچے کراچی سے نکلتے ہیں تو صبح آٹھ نو بجے تک گڑھی خدا بخش تک پہنچ سکتے ہیں اس دوران جام شورو ہم دو بجے تک پہنچیں تو ارد گرد کے گوٹھوں کے لوگ سو چکے ہوں گے اسی طرح سہون شریف میں فجر کا وقت ہو گا اور کوئی ہنگامہ آرائی ہمیں نہیں ملے گی۔ دادو اور اس کے بعد کا علاقہ ہمارے لئے مشگل ہو گا اس کا بھی اللہ کوئی حل نکال دے گا ” ہمت مرداں مدد خدا” فیصل نے کہا آپ ادھر جاتے رہتے ہیں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔سکھر سے میرے فوٹو گرافر جہانگیر خان کو کراچی میں اے پی پی کی جاب مل گئی تھی اور وہ کراچی کے ہنگاموں کی کچھ تصاویر لے آیا تو میں نے اس سے کہا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ چلے وہ خوشی سے راضی ہو گیا۔میں اپنا کام تقریباً مکمل کر چکا تھا اور پاکستان سے بھیجی گئی تصاویر رائٹرز کے پکچر براؤزر پربہتر لگ رہی تھیں اس دوران محسن گھر سے کپٹرے اور کمبل لا کر گاڑی میں رکھ چکا تھا اور ساتھ میں گھر سے کچھ کھانے کو بھی لے آیا تھا جو ہم سب نے نیوز روم میں سب کے ساتھ کھایا۔
بارہ بجے سے کچھ پہلے میں نے اپنا کیمرہ بیگ، سیٹ فون، لیپ ٹاپ بمعہ سب چارجرز اپنے سامنے محسن سے گاڑی میں رکھوایا اپنے سکریٹ کے پیکٹس بھی رکھے۔ ٹھیک بارہ بجے ہم دفتر سے نگلے ۔ محسن ڈرائیونگ سیٹ پر اور میں فرنٹ سیٹ پر جبکہ فیصل اور جہانگیر پچھلی سیٹ پر تھے ۔شارع فیصل سے ہوتے ہوئے ہم ملیر کینٹ سے گذر کر سپر ھائی وے پر چڑھے تو ہمیں جگہ جگہ ہر قسم کی جلتی سلگتی گاڑیاں نظر آئیں۔ ایک دو جگہ ہم نے رک کر تصاویر وغیرہ بنائیں تو اندھیرے میں سڑک سے کچھ دور سے کچھ لوگوں کی آوازیں آئیں جس سے اندازہ ہوا کہ ارد گرد کچھ لوگ اس وقت بھی موجود تھے لہٰذہ ہم جلدی سے وہاں سے نکل گئے اور گاڑی میں باتیں کرتے ہوئے طے کیا کہ ہم لاڑکانہ جانے کیلئے نکلے ہیں راستے میں رک کرتصاویر بنانا ہمیں مشگل میں ڈال سکتا ہے لہٰذہ راستے میں نہ رکا جائے۔ بیچ میں ایک دو پیٹرول پمپس پر رک کر پیٹرول لینا چاہا تو پمپ والو ں نے انکار کر دیا ہم نے بیشتر پیٹرول پمپس پر ٹرک اور بسیں دیکھیں جن کے مسافر شدید سردی میں وہاں رکنے پر مجبور تھے کیونکہ ڈرائیورز نے بسیں چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ دو بجے کے لگ بھگ ہم جام شورو پہنچ گئے وہاں بھی پیٹرول پمپس پر اسی طرح ٹرک اور بسیں رکی ہوئی تھیں اور کافی تعداد میں مسافر بھی نظر آئے۔ ہم نے وہاں بھی پیٹرول لینے کی کوشش کی مگر پمپس کے ملازمین اور مالکان ہنگامہ آرائی کے ڈر سے پیٹرول دینے سے صاف انکار کر رہے تھے۔ محسن نے کہا کہ اب پیٹرول ختم ہونے کو ہے اور ہمیں یہیں کہیں سے لینا پڑے گا ورنہ ہمیں بھی یہیں رکنا پڑے گا۔ایک پیٹرول پمپ پر قدرے کم گاڑیاں کھڑی تھیں اور لوگ بھی کم تھے اور وہاں بھی مکمل خاموشی تھی۔ میں نے تجویز دی کہ گاڑی دور ہی کھڑی کر دیتے ہیں اور دو آدمی جا کر وہاں جا کر پیٹرول کی بات کریں ۔ چنانچہ میں اور جہانگیر اتر کر وہاں گئے اور پیٹرول پمپ کے ایک ملازم سے بات کی اس نے صاف انکار کر دیا جہانگیر نے اس سے کہا کہ ہم اخبار والے ہیں اور ہمیں بی بی کے جنازے کی کوریج کرنا ہے آپ ہمیں تھوڑا سا پیٹرول دے دو اس نے کہا کہ میں نہیں دے سکتا مالک نے منع کیا ہے ہم نے کہا کہ مالک کہاں ہے اس نے اشارہ کر کے کہا کہ وہ اندر دفتر میں ہے میں اور جہانگیر اس دفتر میں داخل ہوئے تو تاریکی میں ایک آواز آئی کون ہے تو جہانگیر نے کہا کہ ہم اخبار والے ہیں آپ سے ملنا ہے وہ لیٹا ہوا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا ہم نے اپنا تعارف کرایا اور اس سے درخواست کی کہ ہمیں پیٹرول دے دے اس نے کہا کہ سائیں ہم نہیں دے سکتے ہم مجبور ہیں میں نے کہا کہ آپ اگر اس خوف کی وجہ سے پیٹرول نہیں دے رہے کہ لوگ پیٹرول پمپ نہ جلا دیں تو ہم کراچی سے آتے ہوئے دیکھ چکے ہیں کہ ہنگامہ کرنے والے اب سردی اور رات زیادہ ہونے کے باعث گھروں کو چلے گئے ہیں اب وہ صبح ہی آئیں گے اور یہ جو لوگ آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب زیادہ تر ان بسوں کے مسافر ہیں جن کے ڈرائیورز نے گاڑیاں جلنے کے خوف سے گاڑیاں چلانے سے منع کر دیا ہے۔ آپ ہمیں پیٹرول دے دیں کوئی بھی آپ کو کچھ نہ کہے گا اگر کوئی بولے تو آپ کہنا کہ کہ مجسٹریٹ صاحب کی گاڑی ہے لولنے والے خاموش ہو جائیں گے۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا کہ اچھا گاڑی کہاں ہے میں نے جہانگیر سے کہا کہ جا کر گاڑی لاؤ اور فیصل عزیز سے کہو کہ وہ مجسٹریٹ ہے اور اسی کی طرح پوز کرے اور گاڑی میں ہی بیٹھا رہے جہانگیر گیا اورگاڑی کو ایک پمپ کے پاس کھڑا کروا دیا ۔وہاں موجود زیادہ تر لوگ اونگھ رہے تھے چند ایک نے سر اٹھا کر دیکھا بھی لیکن سب خاموش رہے مالک نے ایک ملازم کو آواز دی اور اسے کہا کہ مجسٹریٹ صاحب کی گاڑی میں دس لیٹر پیٹرول ڈال دو ملازم گیا اور اس نے پیٹرول ڈالنا شروع کیا تو جہانگیر اور محسن نے ملازم سے کہا کہ ٹنکی فل کر دو اس نے دس لیڑ کے بعد فلنگ روک دی اور کہا کہ مالک نے دس لیڑ کہا ہے دونوں نے کہا کہ تم فل کرو مجسٹریٹ صاھب خود مالک سے بات کر لیں گے اس نے دوبارہ پیٹرول ڈالنا شروع کر دیا اور ٹنکی فل کر دی جب ہم پےمنٹ کرنے لگے اور مالک کو بتایا کہ نینک فل کرایا ہے تو اس نے ملازم سے کہا کہ میں نے تم کو دس لیٹر کہا تھا تم نے فل کیوں بھرا تو ملازم نے کہا کہ سائیں مجسٹریٹ صاحب نے کہا تھا کہ فل کر دو ۔ مالک نے اس کو گھور کر دیکھا اور ہم سے پیسے لیتے ہوئے بولا سائیں آپ واقعی اخبار والے ہو اچھا اب آپ ہمارا بھی کام کرو آپ ہم سے کچھ پیسے لے لو اور جب بی بی کی تدفین ہو جائے تو میری ٖطرف سے شہید کی قبر پر کچھ پھول رکھ دینا۔ میں نے اس سے کہا کہ پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے میں دعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی طرف سے وہاں پھول رکھ دوں گا پورا نام میں بھول رہا ہوں ٖصرف آخر میں قریشی کہا تھا وہ یاد رہ گیا ہے۔ اس کا شکریہ ادا کر کے ہم گاڑی میں سوار ہوئے تو محسن نے کہا کہ ایک بڑا بوجھ سر سے اتر گیا ہے میں نے کہا ” ہمت مرداں مدد خدا”
صبح پو پھٹنے کے وقت ہم سہون شریف کے باہر سے گزر رہے تھے تو میں دیکھا کہ ایک چھوٹے سے جھونپڑی نما ہوٹل کا ایک آدمی چولہے میں آگ جلا رہا ہے میں نے محسن سے کہا اس ہوٹل کے پاس گاڑی روکو وہاں رکے تو ہوٹل والا خود گاڑی تک آ گیا میں نے پوچھا چائے ملے گی اس نے کہا سائیں ابھی ہوٹل کھولا ہے اور آگ تیار کر رہا ہوںآپ بیٹھو میں دس پندرہ منٹ میں بنا دیتا ہوں میں نے کہا بناؤ اور سب سے کہا کہ سردی میں ذرا راحت مل جائے گی فیصل نے کہا کہ ہمیں دیر بھی ہو سکتی ہے مگر ہم رک کر چائے کا انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں ایک اور گاڑی آکر ہمارے پاس رکی اس میں دو آدمی تھے گاڑی کی چھت پر ایک ڈش انٹینا لگا تھا اور کسی ٹی وی چینل کی گاڑی لگتی تھی اس میں سے ایک نے آواز دے کر ہوٹل والے کو چائے کا بولا اور اتر کر ہماری طرف آیا اور کہنے لگا سائیں آپ کون لوگ ہو اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا پچھلی سیٹ سے جہانگیر کی آواز آئی ہم تمہارے باپ ہیں اس نے تڑپ کر پچھلی سیٹ کی طرف دیکھا اور زور دار آواز میں بولا اڑے جہانگیر بھائی تم ادھر کہاں گھوم رہے ہو جہانگیر گاڑی سے نکل کر اس سے بغل گیر ہوا اور ہمارا تعارف کروایا کہ ہمارے سر اور استاد ہیں یہ ان کا بیٹا ہے یہ ہمارے رپورٹر فیصل ہیں اور مجھے بتایا کہ سر یہ کا کیمرہ مین ہے اور رپورٹنگ بھی کر لیتا ہے یہ میر ا سکھر کا پرانا ساتھی ہے ۔اس نے کہا کہ ہماری ایک ٹیم تو پہلے ہی نوڈیرو میں موجود ہے اور میں ان کی مدد کیلیے بھیجا جا رہا ہوں آپ میرے ساتھ چلو صحافیوں کی دو گاڑیاں ہوں گی تو آسانی رہے گی اور آگے سب روڈ بند پڑے ہیں بہت مشکل پیش آئے گی اس نے کہا کہ کاغذ پر کے ٹی این لکھ کر ونڈ اسکرین پر لگا لیں تاکہ آسانی رہے ہم نے ایک فل سکیپ کاغذ پر کے ٹی این لکھ کر آگے ونڈ اسکرین پر لگا دیا اتنی دیر میں ہوٹل والے نے چائے تیا ر کر لی جو ہم نے ہوٹل کے بینچوں پر بیٹھ کر پی۔ پیسے کے ٹی این والے ساتھی نے ادا کئے کہ ہم اس کے مہمان تھے اور وہ ہمیں پیسے دینے نہیں دے رہا تھا۔ چائے پی کر ہم روانہ ہوئے تو جہانگیر نے کہا کہ چائے کیلئے رکنا فائدہ مند ہو گیا میں نے کہا ” ہمت مرداں مدد خدا”

By Z h
آگے کا سفر بہت پریشان کن تھا صبح ہو چلی تھی اور گاؤں گوٹھوں کے لوگ جو جلدی اٹھنے کی عادی ہوتے ہیں اپنے گھروں سے نکل کر سڑک کے کناروں پر آ بیٹھے تھے اور درغت کاٹ کر روڈ بلاک کئے ہوئے تھے دو گاڑیاں دیکھ کر وہ نعرے لگا کر ہماری طرف بھاگے آتے تھے مگر کے ٹی این کا کیمرہ مین کیمرہ لے کر گاڑی سے باہر نکلتا تھا اور ان کی فوٹیج بنانا شروع کر دیتا تھا تو دوڑتے لوگ اس کے پاس جمع ہو کر جئے بھٹو کے نعرے اور بی بی شہید کی لئے آہ وزاری کرنے لگ جاتے تھے اور ہم بھی تین فوٹوگرافر اپنے کیمروں کے ساتھ ان کی تصاویر بنانے لگ جاتے پھر کے ٹی این والا ان سے کہتا کہ گاڑی کا راستہ بناؤ تو وہ کٹے ہوئے درخت کو سرکا کر ہماری گاڑیوں کا راستہ بنا دیتے اور بعد میں درخت کو دوبارہ سرکا کر سڑک بند کر دیتے۔ ہر دس پندرہ کلومیٹر کے بعد یہی کچھ ہوتا رہا اور ہم چلتے رہے لیکن ہم جتنا آگے بڑھتے جا رہے تھے لوگوں کے رویوں میں سختی اور شدت بھی بڑھتی نظر آئی خاص طور پر دادو کے علاقے میں تو بہت بڑا بے قابو ہجوم تھا جس نے ہماری اور کے ٹی این کی کوئی بات ماننے سے انکار کردیا اور ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا کچھ نے تو ہاتھا پائی بھی کی کہ کسی طرح ہمارے کیمرے چھین لیں مگر ہم نے مزاحمت کی کافی دیر یہ ہلڑ بازی جاری رہی پھر اچانک کچھ لوگ آ گئے جنہوں نے ہمارے گرد گھیرا ڈالنے والوں کو سخت لہجے میں ڈانٹ کر ہٹایا اور ہمیں وہا ں سے نکال کر ہماری گاڑیوں تک پہنچایا اور ہمیں یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ کسی گاڑی کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ چونکہ سڑک پر دور تک درخت کاٹ کر ان میں آگ لگائی گئی تھی اور سٹرک تھوڑی اونچی تھی اور گاڑیوں کے نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا توہماری مدد کرنے والوں نے ہمیں ایک آدمی دیا جو ایک آبادی کے اندر سے ہمیں لے کر چلا اور گھوم کر آگے سڑک تک لے آیا ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور آگے کا سفر جاری رکھا ۔ قصہ مختصر اسی طرح لڑتے جھگڑتے ہم لاڑکانہ تک پہنچے اور شہر میں جانے کی بجائے بائی پاس سے نوڈیرو کی طرف روانہ ہو گئے راستے میں پیدل چلتے ہوئے اور جئے بھٹو کے نعرے لگاتے اور بی بی کی شہادت پر آہ وزاریاں کرنے والے ہجوموں کی تصاویر بناتے آخر کار ہم نوڈیرو پہنچے ۔ میں جب بھی نوڈیرو جاتا تھا تو اپنے ایک اسکول ماسڑ کے گھر ضرور جاتا تھا لہٰذہ بنگلے پر جانے کی بجائے میں سیدھا اس کے گھر پہنچا وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوا اور میں نے اس کے گھر پر ہی اپنا سیٹ فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ لگا دیا، فیصل،جہانگیر اور محسن تو بنگلے کی طرف نکل گئے اور میں نے ندیم سومرو کو فون کر کے اپنے پاس بلا لیا ۔رات کو دفتر سے چلنے تک میں نے جاپان آسٹریلیا، کوریا ، ھانگ کانگ اور سنگاپور کے اخبارات اور پھر باقی ایشیا کے اخبارات اور بھر یورپ کے اخبارات کو خبروں کے حساب سے تازہ ترین تصاویر مہیا کی تھیں اور اب نوڈیرو میں میں امریکن اخبارات کیلیے تازہ ترین تصاویر دینا چاہتا تھا اور وہ صرف ہمارے پاس تھیں یعنی رائٹرز کے پاس۔ کیونکہ اے پی اوراے ایف پی میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پہنچ پایا تھا اور رات بھر اور صبح سویرے کی ہمارے راستے میں بننے والی تصاویر اور نوڈیرو میں بی بی کے تابوت کی آمد جس کو آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے وصول کیا اور اس مو قعہ پر فاطمہ بھٹو، ذوالفقار جونئیر اور غنوعٰ بھٹو کی موجودگی کی تصاویر ندیم سومرو نے بنا لیں تھیں اس کے ساتھ ہی صبح سے تعزیت کیلئے آنیوالوں اور آصف زرداری کی آنسوؤں سے روتی تصویر بھی اس نے بنا لی تھی چنانچہ میں نے یہ تمام تصاویر ایڈیٹ کر کے سنگاپور ڈیسک کو ٹرانسمٹ کرنا شروع کر دیں اس دوران میں نے فون کر کے سائمن کو فون کر کے اپنے اور ساتھیوں کے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دی تو وہ خوشی سے چیخ اٹھا اور اس نے کہا کہ میں نے کہا تھا نہ کہ تم یہ معجزہ کر سکتے ہو۔اس کے بعد میں نے پال کو فون کر کے اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اس نے بھی کہا کہ یہ ناقابلِ یقیں ہے اور میرا شکریہ ادا کیا ، تصویریں بھیجنے کے بعد میں ندیم سومرو کے ساتھ بنگلے پہنچا وہاں بے شمار لوگ غمگین اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ موجود تھے آہوں اور سسکیوں کی آوازیں تھیں اور ہر کوئی صدمے میں تھا۔ مجھے یاد آیا کہ سترکی دہائی میں میں یہاں ذوالفقار علی بھٹو کے لیے آتا تھا پھر میں اس کے چالیسویں میں کوریچ کیلئے آیا کیونکہ اس کی میت کو دیکھنے تک کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ پھر میں بیگم بھٹو اور بینظیر کی کوریج کے لئے یہاں آتا ر ہا اورپچاسی میں شاہنواز کی تدفین کیلئے آیا پھر مرتضیٰ بھٹو کی تدفین پر آیا اور آج بینظیر کی میت میں شریک ہو رہا ہوں وہ بینظیر جس سے میر ا تیس سال ساتھ رہا جس کی زندگی کے سات مشکل ترین اور کٹھن سالوں میں (ستتر سے چورسی تک)میں نے اس کا ساتھ دیا اور اسی باعث اس نے مجھے زندگی بھررسپیکٹ دی۔ وہ ایک بہادر باپ کی بہادر بیٹی تھی اور باپ کی طرح لوگوں کے دلوں پر راج کرتی تھی۔آج وہ بھی ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔ ایک صحافی کو کوریج کے دوران ہر قسم کی خوشی اور غم سے کا اثر نہیں لینا چاہئیے مگر میں یہ تما م باتیں سوچ کر اداس ہو گیا اور میر ا دل غم سے بھر گیا۔
بی بی کی میت کی تدفین کی لیے صنم بھٹو کا انتظار ہو رہا تھا ۔ کراچی سے کوئی فلائیٹ نہیں تھی ۔ گورنر سندھ عشرت العباد نے اپنا سیسنا جہاز دینے کی پیشکش کی جسے صنم بی بی نے قبول نہیں کیا۔ پی آئی اے نے ایک فوکر جہاز کا انتظام کر دیا کیونکہ بہت سے ممبران قومی و سینیٹ اور صحافی آنا چاہ رہے تھے جس سے صنم بھٹو کے طفیل ہمارے مخالفین اے پی اور اے ایف پی کو بھی فائدہ ہوا وہ بھی اس فلائیٹ سے پہنچ گئے مگر ہم اس وقت تک بہت کچھ بنا کر بھیج چکے تھے ۔ صنم بھٹو بھی روتی آنکھوں کے ساتھ پہنچ چکی تھی اس نے بھی باپ اور دو بھائیوں کے بعد ایک ہی بہن کی موت بھی دیکھی اس کے دل پہ کیا گذر رہی ہو گی کوئی اور کیا جانے اور بعد میں تو بیگم بھٹو کے بعد صنم اکیلی ہی رہ گئی ہے۔

BY ZH
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے دل ہلا دینے والے اسائنمنٹ کور کئے ہیں مگر بی بی کی میت والی ایمبولینس کے ساتھ چلتے ہوئے اور تصاویر بناتے ہوئے میر ی کیفیت عجیب تھی میں رو نہیں رہا تھا مگر میری آنکھ میں بار بار پانی آ رہا تھا جسے میں اپنی آستین سے صاف کر کے کیمرہ پھر آنکھ سے لگا لیتا تھا ۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ایمبولینس سے بی بی کی آواز آ رہی ہے زاہد سب میرے لئے رو رہے ہیں تم کیوں نہٰیں روتے تم نے چھیاسی میں میری جلا وطنی سے واپسی پر لاہور میں استقبال کی تصاویر کی نمائش کی تھی اور ایک تصویر پر آٹوگراف دیتے ہوئے میں نے کہا تھا زاہد تم میرے بھائی ہو اب تم اپنی بہن کی میت پر کیوں نہیں روتے۔ میں ایمبولینس کے ساتھ کچھ دور چلا اور تصاویر بنا کر ہٹ گیا تاکہ بریکنگ پکچرز چلا سکوں ۔ ایمبولینس کے ساتھ بقیہ راستہ جہانگیر ساتھ گیا۔ ندیم سومرو اور محسن اپنے کیمروں کے ساتھ قبر پر تھے ایک نیچے اور ایک اوپر تاکہ ہر اینگل سے تصویریں بن جائیں کیونکہ ایسے موقع پر لوگوں کے ہجوم کے باعث ایک آدمی کیلیے تصویریں بنانا مشکل ہوتا ہے ۔
سیٹ فون کی وجہ سے میں مکان کی چھت سے تصاویر بھیج رہا تھا ۔ بی بی کی تدفین کی کچھ تصاویر ابھی بھیجی تھیں کہ جہانگیر،ندیم سومرو اور محسن بھی آ گئے۔ میں نے ان کے کیمروں سے فوٹو لے کر ان کو کیمرے دے کر ندیم سومرو سے کہا کہ اپنی بائیک یہیں چھوڑ دو اور ان دونوں کے ساتھ گاڑی میں لاڑکانہ چلے جاؤ اور ان کو کسی ہوٹل میں ایک کمرہ دلا دو اورصبح نو بجے آپ لوگ ادہر آ جانا اور میں رات ادھر ہی گذاروں گا۔وہ لوگ چلے گئے اور میرے دوست نے مجھے میرے لئے پکے چاول لا کر دئے کہ کام بھی کرو اور ساتھ میں کچھ تھوڑا کھا بھی لو۔ورنہ میں تو کھانا وانہ سب کچھ بھولا ہوا تھا۔ سیٹ فون کا انٹر نیٹ تھوڑا سلو چل رہا تھا اس لیے ایک تصویر کلیئر ہونے میں زیادہ دیر لگ رہی تھی ۔ اس دوران دوسرے شہروں کی تصاویر بھی ای میل سے ملنا شروع ہوگئیں ۔ مزید یہ کہ فوٹو ڈیسک نے باہر کے کچھ نامور میگزین کی اسپیشل ریکوئسٹ بھی بتانا شروع کر دی کہ کچھ الگ تصاویر صرف ان میگزین کو ہی جائیں گی ۔ کام بڑھتا جا رہا تھا اور میں دو دن اور ایک رات سے ویسے ہی جاگ رہا تھا مگر کام تو کرنا تھا لہذہ دوسری رات بھی کالی ہوئی۔ شدید سردی میں رات بھر چھت پر بیٹھ کر تصویروں کی ایڈیٹگ کر کے بھیجتا رہا اور دوسرے شہروں سے آئی ہنگاموں، احتجاج اور غائبانہ نماز جنازہ کی تصاویر بھی کلئیر کیں اور صبح سات بجے کام ختم ہوا۔
اگلے دن انتیس دسمبر کو نواز شریف بی بی شہید کی قبر پر آیا اور نوڈیرو بنگلے میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے تعزیت کی ۔ 30 دسمبر کو بی بی کا سوئم کا ختم دلا یا گیا اور بعد ازاں پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس بی بی کی تصویر کے زیر صدارت ہوا جس میں بی بی شہید کی وصیت پڑھ کر سنائی گئی۔ہم اکتیس دسمبر تک وہاں رکے اور بی بی شہید کی قبر پر اپنے اور رائٹرز کی طرف سے پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی اور وعدے کے مطابق پیٹرول پمپ والے قریشی صاحب کی طرف سے بھی پھول چڑھائے اور فاتحہ پڑھی۔ اکتیس کی رات کو کراچی کیلئے واپس روانہ ہوئے۔ جام شورو سے جب ہم سپر ھائی وے پر چڑھے تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ جو ٹرک اور بسیں جل رہی تھیں وہ اب بھی وہیں موجود تھیں ان کی باہر کی آگ تو بجھ گئی تھی مگر وہ اندر سے ابھی تک سلگ رہی تھیں۔ یہ ٹرک اور بسیں مجھے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی طرح لگیں جو بھٹو خاندان کی یکے بعد دیگرے اموات کے بعد بظاہر تو پر سکون نظر آتے ہیں مگر اندر ہی اندر سلگ رہے ہیں میں بھی شاید ان میں سے ایک ہوں۔

یہ بھی چیک کریں

حکومت کون بنائے یا گرائے گا اس کا اختیار کسی ادارے کونہیں، مریم نواز

حکومت کون بنائے یا گرائے گا اس کا اختیار کسی ادارے کونہیں، مریم نواز

اسکردو(یواین پی)مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نوازکا کہنا ہے کہ حکومت کون بنائے یا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے