بدھ - 29 جون - 2022
کووڈ19 عالمی ادارہ صحت ۔۔۔کورونا وائرس آپ کے جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے؟ڈاکٹر مظہر نواز بھٹی

کووڈ19 عالمی ادارہ صحت ۔۔۔کورونا وائرس آپ کے جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے؟ڈاکٹر مظہر نواز بھٹی

کووڈ19 عالمی ادارہ صحت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کورونا وائرس آپ کے جسم کے ساتھ کرتا کیا ہے؟
کورونا وائرس گذشتہ برس میں سامنے آیا لیکن اب کوویڈ-19 عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس بیماری میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر افراد میں اس بیماری کا اتنا اثر نہیں ہوتا اور وہ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں، تاہم کچھ افراد اس کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ وائرس جسم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک کیوں ہو رہے ہیں اور اس بیماری کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
کورونا وائرس
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟
کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟
کورونا وائرس: دنیا بھر میں لاک ڈاؤن پر کیسے عمل ہو رہا ہے؟
کورونا کے مریض دنیا میں کہاں کہاں ہیں؟
انکیوبیشن یا نگہداشت کا دورانیہ
اس دورانیے میں وائرس اپنی جگہ پکڑ رہا ہوتا ہے۔ وائرسز عام طور پر آپ کے جسم کے خلیوں کے اندر تک رسائی حاصل کر کے ان کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔
کورونا وائرس جسے سارس-کووی-2 کہا جا رہا ہے آپ کے جسم پر اس وقت حملہ آور ہوتا ہے جب آپ سانس کے ذریعے اسے اندر لے جاتے ہیں (جب کوئی قریب کھانسے) یا آپ کسی ایسی چیز کو چھونے کے بعد اپنے چہرے کو چھو لیں جس پر وائرس موجود ہو۔
سب سے پہلے یہ وائرس ان خلیوں کو متاثر کرتا ہے جو آپ کے گلے، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں ہوتے ہیں اور انھیں ‘کورونا وائرس کی فیکٹریوں’ میں تبدیل کر دیتا ہے جو مزید ایسے مزید وائرس پیدا کرتی ہیں جن سے مزید خلیے متاثر ہوتے ہیں۔ابتدائی مرحلے میں آپ بیمار نہیں ہوں گے اور اکثر افراد میں اس بیماری کی علامات بھی ظاہر نہیں ہوں گی
نگہداشت کے دورانیے میں انفیکشن ہونے اور اس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے لیکن یہ اوسطاً پانچ دن بتایا جاتا ہے۔
ہلکی پھلکی بیماری
زیادہ تر افراد کے بیماری کے دوران ایک جیسے تاثرات ہوتے ہیں۔ کوویڈ-19 دس میں سے آٹھ افراد کے لیے ایک معمولی انفیکشن ثابت ہوتا ہے اور اس کی بنیادی علامات میں بخار اور کھانسی شامل ہیں۔
جسم میں درد، گلے میں خراش اور سر درد بھی اس کی علامات میں سے ہیں لیکن ان علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ بخار اور طبیعت میں گرانی جسم میں انفیکشن کے خلاف قوت مدافعت کے رد عمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وائرس کو ایک مشکلات پیدا کرنے والے حملہ آور کے طور پر شناخت کرتا ہے اور پورے جسم میں سائٹوکنز نامی کیمیائی مادہ خارج کرکے سنگل بھیجتا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہو رہی ہے۔اس کی وجہ سے جسم میں مدافعتی نظام حرکت میں آجاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے جسمانی درد، تکلیف اور بخار کی کیفیات بھی پیدا ہوتی ہیں۔کورونا وائرس میں ابتدائی طور پر خشک کھانسی ہوتی ہے (بلغم نہیں آتا) اور یہ شاید خلیوں میں وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بےچینی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
کچھ لوگوں کو آخر کار بلغم جیسا گاڑھا مواد آنے لگتا ہے جس میں وائرس کی وجہ سے مرنے ہونے والے خلیے بھی شامل ہوتے ہیں۔ان علامتوں کو آرام، بہت زیادہ مقدار میں پانی اور مشروب کے ساتھ پیراسیٹامول لے کر دور کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو اس کے لیے ہسپتال یا ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ مرحلہ ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے بیشتر لوگ اسی مرحلے پر صحت یاب ہو گئے کیونکہ ان کے مدافعتی نظام نے وائرس سے مقابلہ کیا۔
تاہم کچھ لوگوں میں کووڈ-19 کی نسبتاً سنگین حالت پیدا ہوئی۔
ہم اب تک اس مرحلے کے بارے میں اتنا ہی جان پائے ہیں تاہم زمینی مشاہدوں سے پتا چلا ہے کہ اس بیماری میں سردی لگ جانے جیسی علامات بھی پائی گئی ہیں جن میں ناک کا بہنا شامل ہیں۔ یہ انفیکشن پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے
شدید بیماری
اگر یہ بیماری بڑھتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مدافعتی نظام وائرس کے تیئں ضرورت سے زیادہ رد عمل دکھا رہا ہے۔جسم میں بھیجے جانے والے کیمیائی سگنل جلن کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم اسے بہت نزاکت سے متوازن کیا جانا چاہیے۔ بہت زیادہ انفیکشن سے پورے جسم میں نقصانات ہوتے ہیں۔
ماہرین ڈاکٹرز مطابق ’یہ وائرس مدافعتی نظام میں عدم توازن پیدا کرتا ہے اس کی وجہ سے بہت زیادہ سوزش ہوتی ہے اور یہ کس طرح کا ہے ابھی ہم یہ جان نہیں پائے


پھیپھڑوں کی انفلیمیشن کو نمونیہ کہتے ہیں۔ اگر منہ کے راستے اندر جانا ممکن ہوتا تو آپ ہوا کی نالی سے ہو کر چھوٹی چھوٹی ٹیوبز سے گزر کر چھوٹی چھوٹی ہوا کی تھیلیوں میں جا پہنچتے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں آکسیجن خون میں شامل شامل ہوتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر نکلتی ہے لیکن نمونیہ کی حالت میں انہی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں پانی بھر جاتا ہے اور سانس اکھڑنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔
کچھ لوگوں کو سانس لینے کے لیے وینٹیلیٹر کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
تشویش ناک بیماری
ایک اندازے کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد میں سے صرف 12 فیصد کی حالت تشویش ناک حد تک پہنچی۔اس وقت جسم نے کام کرنا چھوڑ دیا اور موت کے امکانات پیدا ہو گئے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت مدافعتی نظام بے قابو ہو کر گھومنے لگتا ہے اور پورے جسم کو نقصان پہنچاتا چلا جاتا ہے۔
اس کی وجہ سے جسم سیپٹیک شاک میں چلا جاتا ہے اور فشار خون خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے اور اعضا کام کرنا بند کر دیتے ہیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں۔
پھیپھڑوں میں انفلیمیشن کے سبب سانس کی شدید تکلیف پیدا ہوتی ہے اور جسم میں ضرورت کے مطابق آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔ اس کی وجہ سے گردوں کی صفائی کا عمل رک جاتا ہے اور آنتوں کی تہیں خراب ہو جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس وائرس سے اس قدر انفلیمیشن ہوتی ہے کہ لوگ دم توڑ دیتے ہیں اور کئی اعضا کام کرنا بند کر دیتے ہیں اگر مدافعتی نظام اس وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہوتا ہے تو یہ جسم کے ہر کونے میں چلا جاتا ہے جس سے مزید نقصان ہوتا ہے۔ اس مرحلے تک آتے آتے علاج بہت ہی سخت ہو سکتا ہے جس میں ای سی ایم او یعنی ایکسٹرا کورپوریئل ممبرین آکسیجینیشن شامل ہے۔ یہ ایک مصنوعی پھیپھڑا ہوتا ہے جو موٹی موٹی ٹیوبز کے ذریعے خون جسم سے نکالتا ہے ان میں آکسیجن بھرتا اور واپس جسم میں ڈالتا ہے۔لیکن آخر کار نقصان ہلاکت تک جا پہنچتا ہے اور اعضا جسم کو زندہ رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
ابتدائی اموات
ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کی بہترین کوششوں کے باجود کیسے کچھ مریض ہلاک ہوگئے۔
ماہر ڈاکٹر زکے مطابق ہسپتال میں جو مریض پہلے داخل تھے اور وہ اس لیے ہلاک ہوئے وہ پہلے صحت مند تھے، اگرچہ وہ طویل عرصے سے تمباکو نوشی کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کے پھیپھڑے کمزور تھے۔
سب سے پہلے 61 سالہ ایک آدمی کو ہسپتال لانے تک شدید نمونیہ ہوگیا۔ انھیں سانس لینے میں شدید تکلیف تھی اور وینٹیلیٹر پر ڈالنے کے باوجود ان کے پھیپھڑے ناکارہ ہو گئے اور دل نے کام کرنا بند کر دیا۔ وہ 11 دن بعد مر گئ.،
ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا بھر کی آبادی کو ویکسین دینے کی راہ میں بہت سے عوامل سرگرم عمل ہیں
اور اس حوالے سے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادھانوم غبرائسس کا کہنا ہے کہ ’ویکسین وبائی بیماری کا رخ موڑنے کے لیے بہت امید افزا ہے لیکن دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ تمام لوگوں کو ٹیکے لگائے جائیں نہ کہ صرف ان ممالک میں جو کورونا ویکسین کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ ہر جگہ انھیں خطرہ لاحق ہے ویکسین وبائی مرض کے بعد کی دنیا کو معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی لیکن اس کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور کئی ممالک کے مقابلے میں دوسرے ممالک کو لمبا سفر طے کرنا پڑ سکتا ہے اس حوالے سے اگر ہم مثالیں دیں یعنی مثال کے طور پر ویکسین کی فراہمی کی سہولیات کے مسائل کے علاوہ کچھ ریاستوں اور سیاسی گروہوں نے مقابلہ کرنا شروع کردیا اور ایک طرح کی ’ویکسین نیشنلزم‘ سامنے آئی ہے جس سے غریب ممالک کی آبادی ٹیکے کی قطار میں پیچھے کر دی گئی۔ اس میں دوسری طرح کی روکاوٹیں بھی ہیں جس میں ٹیکے لگانے میں ہچکچاہٹ، ٹیکوں کی پیداوار اور ان کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں، جو عالمی سطح پر کووڈ 19 کے خلاف حتمی جنگ کے مقصد کے لیے ٹیکے لگانے کی راہ مسدود کرتی ہیں

ویکسین کا عمل کیسے چل رہا ہے؟
کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کے پروگرام بہت سارے ممالک میں شروع ہو چکے ہیں لیکن رسد اور طلب کے مابین مطابقت نہیں۔
آور ورلڈ ان ڈیٹا (او ڈبلیو آئی ڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 138 ممالک میں ساڑھے 56 کروڑ خوراکیں فراہم کی گئیں ہیں اور 30 مارچ تک لگ بھگ 13.9 ملین لوگوں کو خوراکیں دی گئیں ہیں۔مجموعی طور پر یہ مقدار بہت زیادہ نظر آ سکتی ہے لیکن سات ارب 80 کروڑ عالمی آبادی میں یہ صرف 7.2 فیصد لوگوں کے لیے محض ایک خوراک ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادھانوم غیبرسز کا کہنا ہے کہ ‘ویکسین وبائی بیماری کا رخ موڑنے کے لیے ایک بہت امید افزا ہے اگر اسی رفتار سے ٹیکے دیے جاتے رہے تو دنیا بھر میں ہر ایک کو ویکسین دینے میں تین سال سے بھی زیادہ کا وقت لگ جائے گا خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ ان ویکسینوں کو اپنا پورا اثر دکھانے میں دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کا کہنا ہے کہ امیر معیشتوں میں زیادہ تر بالغ آبادی کو سنہ 2022 کے وسط تک ٹیکے لگائے جا سکتے ہیں۔ درمیانی معیشت والے ممالک کے لیے یہ ٹائم لائن 2022 کے آخر تک یا 2023 کے اوائل تک جاتی ہے جبکہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں بڑے پیمانے پر کورونا ویکسین لگنے کے لیے 2024 تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، اگر انھیں ٹیکہ ملتا ہےتو ۔۔کون سی ویکسین استعمال میں ہیں؟
سب سے پہلے برطانیہ نے گذشتہ سال دو دسمبر کو فائزر کی بايون ٹیک ویکسین کی منظوری دی اور پھر امریکہ نے اور پھر یورپی یونین نے اس کے بعد بہت سی دیگر ویکسینیں بھی سامنے آئیں، جن میں امریکہ میں تیار ہونے والی موڈرنا، ایسٹرا زینیکا (برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے تیار کیا)، چین میں تیار کی جانے والی سائینوفارم اور سینوویک اور روس میں تیار کی جانے والی سپوتنک فائیو شامل ہیں۔
بڑے پیمانے پر ہونے والی آزمائشوں کے نتائج بعد دو مزید ویکسینوں کو بھی حال ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پر جاپان میں کام ہوا ہے اور جانسن اینڈ جانسن اور نواویکس کی ملکیت والی ان ویکسین کو منظوری دینے سے قبل کئی ممالک کے ڈرگ ریگولیٹرز جائزہ لیں گے۔ جانسن اینڈ جانسن کو امریکہ میں منظوری مل چکی ہے۔اسرائیل اور برطانیہ جیسے ممالک میں ویکسین کے استعمال کی حوصلہ افزا علامات سامنے آنے لگی ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں داخلوں اور اموات میں کمی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ٹرانسمیشن یعنی ایک سے دوسرے میں منتقلی بھی کم ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر میں 200 سے زائد ویکسینوں پر اس کی افادیت اور حفاظت کے لیے جانچ جاری ہے۔ اگر ان کو منظوری حاصل ہو جاتی ہے اور پیداوار ہونے لگتی ہے تو کورونا ویکسین کے عالمی پروگرام میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔لیکن ریکارڈ وقت میں ان ویکسین کے ڈیزائن کرنے، بنانے اور منظوری کی بے مثال کوشش کے باوجود عالمی سطح پر ان پر عمل در آمد ناقابل یقین حد تک غیر مستحکم ہے کیونکہ یہ مختلف قسم کی رکاوٹوں کا شکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کووڈ 19 کی نئی قسمیں ویکسینز کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟
اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ وائرس کی نئی شکلیں سامنے آئیں گی کیونکہ تمام وائرس تبدیل ہوتے ہیں اور وہ خود کو پھیلانے اور زندہ رہنے کے لیے اپنی نقل تیار کرتے ہیں۔
ان میں سے بیشتر تبدیلیاں کافی حد تک معمولی ہوتی ہیں لیکن کبھی کبھار ایسا تغیر بھی پیدا ہوتا ہے جس سے وائرس کو پنپنے میں مدد ملتی ہے، جیسے برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ میں اپنی ہیئت بدلنے والے وائرس کے معاملے میں سامنے آیا ہے۔ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ یہ مختلف اقسام زیادہ شدید بیماری کا باعث بنی ہیں اور زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود ویکسین مؤثر ثابت ہوں گی، کم از کم قلیل مدتی طور پر ہی سہی۔لیکن یہ خدشہ ہے کہ اگر کووڈ 19 کو پوری دنیا میں بغیر روک ٹوک بڑھنے دیا گیا تو یہ وائرس اس حد تک تبدیل ہو سکتا ہے کہ موجودہ ویکسین اور علاج اس کے خلاف مزید کام نہ کر سکے، یہاں تک کہ ان کو بھی انفیکشن کا خطرہ لاحق ہو جائے گا جنھیں ویکسین دی جا چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی خراب صورتحال میں اگر ضروری ہوا تو ہفتوں یا مہینوں کے اندر ویکسین میں تبدیلی لا کر اس کا مؤثر توڑ تیار کیا جا سکتا ہے۔
اس صورت میں ہر سال کورونا وائرس کے خلاف ایک تازہ خوراک کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ نئی قسم کے وائرس سے نمٹا جا سکے جس طرح پہلے موسمی فلو کے معاملے میں ہوتا رہا ہے۔۔ ویکسین لینے میں ہچکچاہٹ‘ کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔۔۔۔
ویکسین لینے میں ہچکچاہٹ‘ سے بھی عالمی سطح پر مدافعت پیدا کرنے پر خاصے اثرات ہو سکتے ہیں۔
کچھ دولت مند ممالک میں ویکسین تک رسائی کے باوجود بھی اسے لینے کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر فرانس اور جاپان میں حالیہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی نصف آبادی ویکسین نہیں لینا چاہتی۔اس کے بعد جرمنی کے ساتھ اٹلی نے کئی ہفتوں تک پوری طرح سے ایسٹرا زینیکا کے ٹیکے دینے کے کام کو معطل کردیا یہاں تک کہ دونوں ممالک کو تیسری لہر کے انفیکشن کا سامنا بھی رہا جس کے بعد ڈبلیو ایچ او کو اس ویکسین کی حفاظت کے متعلق بیانات جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ترقی یافتہ دنیا میں نظر آنے والی یہ ہچکچاہٹ غریب ممالک میں بھی سامنے آ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے میں جب عالمی سطح پر ٹیکے دینے کا عمل سست روی کا شکار ہو۔ کچھ ممالک خاص طور پر زیادہ نوجوان آبادی والے ممالک، ویکسین لینے میں دلچسپی کھو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر اس مرض کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ ہے (اور آبادی کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کر چکا ہے) یا اگر اس سے وابستہ اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ای آئی یو کی عالمی سطح پر پیشگوئی کرنے والے ڈائریکٹر اگاتھے دیماریس نے کہا: ’عالمی سطح پر ویکسینیشن ٹائم لائن سنہ 2022 اور 2023 کے آخر تک بڑھتا ہے تو اس سے یہ خطرہ بڑھ جائے گا کہ کچھ ترقی پذیر ممالک اپنی آبادی کو ویکسین نہیں دینا چاہیں گے۔ اس طرح کی صورتحال سے عالمی معیشت کی بحالی میں تاخیر ہو گی اور کورونا وائرس کی نئی شکلوں کے ظہور کو فروغ ملے گا جو موجودہ ویکسین کے خلاف مزاحمت ثابت ہو سکتے ہیں اور ہمیں پھر سے وہیں پہنچا سکتے ہیں جہاں سے ہم شروع ہوئے تھے۔مجموعی آبادی پر کم ٹیکے لینے کے ڈرامائی اثرات پڑیں گے اور ماہرین کے مطابق پوری آبادی کو ویکسین دینا ہی وبائی بیماری کے خاتمے کے لیے بہترین موقع ہے۔

۔کیا ویکسینیشن کووڈ 19 کا خاتمہ کر دے گی؟
برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ کووڈ 19 کو ختم کرنے کے امکانات ’صفر کے قریب ہیں کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا پروفیسر وائٹی نے مزید کہا ’ہم نے صرف ایک بیماری کا خاتمہ کیا ہے جو چیچک ہے اور وہ بھی ایک طویل عرصے میں غیرمعمولی طور پر مؤثر ویکسین کے ساتھ۔‘
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ویکسینیشن کی کوششیں بیکار ہیں کیونکہ جزوی طور پر کووڈ ویکسین والی عالمی آبادی وائرس کی بڑھتی ہوئی منتقلی اور مزید مختلف ہیئتوں کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔۔۔۔امپیریل کالج لندن میں متعدی امراض کی چيئر پرسن پروفیسر عذرا غنی کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے لیے بنائی جانے والی ویکسینوں کا بنیادی مقصد جان بچانا ہے اور اس کا حصول ویکسینیشن کے ذریعے بیماری سے مدافعت پیدا کرنے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے سے ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا: ’جس طرح ایک سال قبل وائرس کی نشاندہی کی گئی اور اسی درمیان اس کے لیے ویکسینیون کی نشوونما اور ترقی میں جو پیشرفت ہوئی ہے وہ بے مثال ہے۔ اس نئے وائرس کے خلاف سائنسی طور پر ترقی ہو رہی اور بڑی تعداد دنیا بھر میں سائنسدانوں کی ٹیمیں ویکسین کی جانچ اور بہتری میں سرگرم عمل ہیں۔‘’اس لیے میرے خیال سے ہم پرامید ہو سکتے ہیں کہ ان کوششوں سے براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے تحفظ کی اعلی سطح کا حصول ممکن ہو گا جو اگر وائرس کو ختم نہ بھی کر سکے تو بھی زندگی کو معمول پر لوٹنے کا موقع فراہم کرے گا۔’اس لیے میرے خیال سے ہم پرامید ہو سکتے ہیں کہ ان کوششوں سے براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے تحفظ کی اعلی سطح کا حصول ممکن ہو گا جو اگر وائرس کو ختم نہ بھی کر سکے تو بھی زندگی کو معمول پر لوٹنے کا موقع فراہم کرے گا۔

یہ بھی چیک کریں

آزمائش میں کامیابی-

آزمائش میں کامیابی-محمد عرفان صدیقی

میں آدھے گھنٹے سے اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔