ہفتہ - 23 اکتوبر - 2021
نوحہ”تحریر:.محمد سرور بجاڑ

نوحہ”تحریر:.محمد سرور بجاڑ

نوحہ”

معذرت خواہ ہوں ایک عرصہ سے کوئی تحریر آپ کے گوش گزار نا کر پایا۔ اس دوران بہت سے دوستوں نے ذاتی طور پر اپروچ کیا عرض کرنا کہنا تو گناہ سمجھتا ہوں اگرچہ حکم کیا کہ کچھ لکھوں۔ ان میں سے بعض نے خود کو اس خاکسار کا مداح بھی بتایا۔

    مگر ان سب سے کیا کہتا کہ میں لکھاری نہیں ہوں۔ سچ ہی تو ہے میں کوئی قلم کار یا لکھاری نہیں ایک ادنی سا انسان ہوں جسے عرف عام میں عوام کہتے ہیں۔ میرا قلم کوئی افسانہ کوئی بلاگ کوئی کالم نہیں لکھتا میں تو اک نوحہ کناں ہوں۔ نوحے لکھتا ہوں اپنے دکھ کو بیان کرتا ہوں کبھی کبھار اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہوں۔

یقینا آپ اس تمہید سے سمجھ رہے ہوں گے اگر میں نوحہ کناں ہوں تو کیا اس دوران کسی غم نے مجھے آن نا لیا ہو گا۔ یہ سچ نہیں اور فی زمانہ کون ہے جو اس صورت سے دوچار نا ہو۔ مگر کیا بتاؤں کہ ان بیتے دنوں میں یہ سوچ کر ہی ہنسی آ جاتی تھی کہ کس غم کو بیاں کروں اور کون سا دکھ ہے جس کی پردہ داری کروں۔ اور کیونکر کروں۔

       یہ غم یہ الم میرے زاتی تو ہرگز نا تھے جیسا کہ بیان کر چکا میں عوام ہوں اور عوام اپنے غم کسی مسیحا کے حضور بیاں کیا کرتی ہے۔ یہی مشکل میرے سامنے بھی تھی میں تلاش نا کر سکا اور تا حال ناگزیر ہے تلاش کرنا کہ اس بھری دنیا میں کون ہمارا مسیحا ہے۔ کون ہے جو مسیحائی کے مقدس فرض کو پورا کر رہا یا پھر کرنے کی کوشش ہی کر رہا ہو۔

کوئی بھی تو نہیں یہاں تو مسیحائی کا علم اٹھائے جتنے بھی کاررواں اور ان کارروانوں کے پاسباں ہیں وہ تو خود اپنے الم و غم کی داستاں اٹھائے کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔

     کسی مہذب دنیا میں دستور کچھ یوں ہے کہ رعایا کے مسائل ، مشکلات اور غموں کا مداوا اس ملک و قوم کے حکمران کیا کرتے ہیں اور حکمران ہی در اصل مسیحائی کے فرائض نبھاتے ہیں۔

      ہمارے ہاں ایسا بلکل نہیں یہاں حکمران دشمن جان بنا ہوا ہے بلکہ یوں کہئیے کہ سب کے سب غم سب کے سب مسائل پیدا ہی حکومت وقت کے کئیے ہوئے۔ اور پھر یوں بھی انسانی ذندگی میں اکثریتی مسائل کا تعلق تو ہوتا ہی معاشی ہے۔ جو کہ اس حکومت کی آمد کے ساتھ ہی سے آغاز ہو گیا تھا ۔

 اس وقت میرے ملک میں کے حکمران نا اہلی کے ہمالیہ پر براجمان خوش گپیوں میں مصروف۔ رعایا کو روز ایک نیا خواب نیا دلاسہ دینے میں مصروف۔ عوام الناس مہنگائی کے سیلاب میں ڈوبتی جا رہی ہے اور حکمران سب اچھا ہے کی نوید سنانے میں مشغول ۔ حکمران نے اپنی ذات کے گرد ان میراثیوں کا حلقہ بنا رکھا ہے جو اسی کی مداح سرائی میں مگن۔

نااہل اور کوڑھ مغز لوگوں کا ایسا ایک گروہ ہم پر مسلط جو اپنے بھڑولے بھرنے میں اس قدر مدہوش کے اسے خود کشیاں کرتے بچوں کی سسکیاں تک سنائی نہیں دیتی۔لوگ قطاروں میں کھڑے اپنے باورچی خانے کی بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لئیے شناختی کارڈز کے ہندسوں کا اندراج کروا رہے۔ اور حکمران میں خود نوٹس لوں گا کا جعلی راگ الاپ رہا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کے علاج کے لئیے گردے بیچ رہے ہیں اور حکمران صحت انصاف کارڈز کے توصیفی اشتہارات چلا رہا ہے۔ ایک طرف تندور سے روٹی چرانے والا سالہا سال سے قید با مشقت کاٹ رہا ہے اور، اور دوسری طرف راتوں رات کروڑوں کا گھپلا کرنے والے اپنے مسند پر بیٹھے عدل و انصاف کے قائم ہو جانے کے نقارے بجا رہے ہیں۔ مگر میں حیران نہیں ہوں۔ اور یہ حیران ہونے کی بات ہی نہیں یہ تو برسوں سے حکمرانوں کا وطیرہ ہے۔ میں خوش ہوں۔ہاں میں خوش ہوں کہ اس حکومت نے بھی حکمرانوں کہ اس برسوں سے چلتی روایت کو برقرار رکھا کہ ان کے ہاں یہی دستور ہے۔ حکمران اور رعایا کے درمیان ایک فرق تو ہونا ہی چاھئیے۔

پارلیمانی جمہوری نظام میں اس فرق کو مٹانے یا کم کرنے کے لئیے ایک حزب اختلاف ہوا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں وہ بھی نہیں۔ معذرت خواہ ہوں شاید آپ اس سے اختلاف کریں اور کہیں کہ موجود ہے۔ ایک بار پھر شرمندہ ہوں یہ کہتے ہوئے کہ نہیں ہے۔ اگر آپ کا دعوی ہے کہ موجود ہے تو مجھے بھی اس کے ہونے کا کوئی ثبوت تو دو۔ کوئی نشاندہی تو کرو۔ یہاں کیا کیا پہاڑ ظلم کے ٹوٹے اور ٹوٹ رہے ہیں لیکن مجھے اس نام کی کوئی ڈھال محسوس نا ہوئی۔

ہاں شور میں نے بھی سنا ہے ایک ہجوم سے پرزور تقاریر کرتی آوازیں جو خود کو اس حکومت کے مظالم اور عوام کے درمیان ایک دیوار بتا رہی تھیں۔ مگر وہ آوازیں شاید غیر مرئی تھیں۔ اگر وہ حقیقتا موجود تھیں ضرور کسی اور مقصد کے حصول کے لئیے ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو ان کی مسیحائی کا ایک زرہ بھی موصول نہیں ہوا۔

بعض محققین کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف بھی ہے ان کی مسیحائی بھی ہے مگر وہ کسی بڑے مقصد کے تعاقب میں چل رہے ہیں۔

عین ممکن ہے ایسا ہو مجھ خاکسار کو بھی ان کے نظرئیے کی کچھ کچھ بھنک تو ہے ایک دو بار اس نظرئیے کی پاسداری کا امتحان بھی آیا۔میں نا بلد ہوں ، نا سمجھ اور کند زہن ہوں۔ افسوس کہ دیدہ ور بھی نہیں ہوں ۔ آپ تو ان سب اوصاف کے مالک ہیں۔آپ نے تو دیکھا ہو گا محسوس کیا ہو گا ۔

       ، کیا پاسداری ہوئی؟

ساڈی کیہ اوقات اسیں بولئیے ایویں زرا دل وچ غبار سی

ویہلے بہہ کے کاغذاں تے لا لیا سوچ ساڈی اتے جیہڑا بھار سی

برا نا منایو کسے گل دا چھوٹیاں دی چھوٹی ہندی مت جی

باقی تسی میرے توں سیانے او،میں تے ایہو کڈیا اے تت جی

                              محمد سرور بجاڑ

یہ بھی چیک کریں

تارکین وطن اور سفارتی ادارے،تحریر ڈاکٹر مظہر نواز بھٹی مدینہ منورہ سعودی عرب۔

تارکین وطن اور سفارتی ادارے،تحریر ڈاکٹر مظہر نواز بھٹی مدینہ منورہ سعودی عرب۔

تارکین وطن اور سفارتی ادارے سعودی عرب میں 26 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین روزگار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے